Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 214

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اِیَاسِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْحَارِثِیِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلّی اللہ ُعَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ بِیَمِیْنِہِ فَقدْ اَوْجَبَ اللہُ لَہُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ فَقَالَ رَجُلٌ : وَ اِنْ کَانَ شَیْئًا یَسِیْرًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ ؟ فَقَالَ : وَ اِنْ کَانَ قَضِیْبًا مِنْ اَرَاکٍ.( )

عن ابی امامۃ ایاس بن ثعلبۃ الحارثی رضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : من اقتطع حق امریء مسلم بیمینہ فقد اوجب اللہ لہ النار وحرم علیہ الجنۃ فقال رجل : و ان کان شیئا یسیرا یا رسول اللہ ؟ فقال : و ان کان قضیبا من اراک.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابو اُمامہ اِ یاس بن ثَعْلَبہ حارِثی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے دوزخ کولازم اور جنت کو حرام کر دے گا ۔ ‘‘ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اگر چہ تھوڑی سی چیز ہو؟‘‘ فرمایا : ’’اگر چہ پیلو کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘

شرح حدیث

مال پر قبضے کا ذکر نہ کرنے کی وجہ:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمان کے حق پر قبضے کا ذکر فرمایا ہے ، مال پر قبضے کا ذکر نہیں فرمایا اس میں یہ

نکتہ ہے کہ یہ حکم اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں مسلمان کا مال نہ ہو بلکہ حق ہو مثلاً مردار کی کھال اور گوبرکہ یہ نجس ہے اس لئے مال نہیں لیکن اس سے نفع اٹھا یا جا سکتا ہے اس لئے وہ مسلمان کا حق ہے۔ اسی طرح اپنی ازواج میں باریوں کی تقسیم کہ یہ بھی مال نہیں لیکن مسلمان (یعنی ازواج )کا حق ہے لہٰذا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کے حق کو مارنا چاہے گا وہ بھی اس وعید میں داخل ہوگا۔ ( )
لزوم جہنم اور حرمت جنت کی وجوہات:حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان کہ اس پر جہنم لازم ہے اور جنت حرام۔ تو اس کی دو وَجہیں ہوسکتی ہیں : پہلی تو یہ کہ اس شخص نے یہ کام یعنی جھو ٹی قسم کھانا اور مسلمان کا حق مارنا حلال سمجھ کر کیا ہو اور اسی پر وہ مر گیا تو وہ کافر مرا ، اس لئے اس پر جہنم لازم۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جھوٹی قسم کھانے والا جہنم کا مستحق تو ہے لیکن اس کے لئے معافی کی گنجائش بھی ہے کہ ابتدامیں اسے نیک لوگوں کے ساتھ جنت میں جانے سےروک دیا جائے اور سزا پوری ہونے کے بعد اسے جنت میں داخل کر دیا جائےگا ۔ ‘‘ ( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ وعید یعنی جہنم کا لازم ہونا اور جنت کا حرام ہونا اس وقت ہے کہ جب وہ شخص توبہ کئےبغیر مَرجائےاور اگر اس نے سچے دل سے توبہ کرلی اس فعل پر نادم بھی ہے اور حق دار کو اُس کا حق ادا بھی کر چکا ہے تو یہ وعید اُس سے ساقط ہو جائے گی۔ ‘‘( )

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 214