Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 207

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی مُوسَی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللَّہَ لَیُمْلِی لِلظَّالِمِ فاِذَا اَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ ثُمَّ قَرَاَ : ) وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲) (( )

عن ابی موسی رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ لیملی للظالم فاذا اخذہ لم یفلتہ ثم قرا : ) و كذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى و هی ظالمة-ان اخذه الیم شدید(۱۰۲) (( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب اسے پکڑتا ہے تو نہیں چھوڑتا۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)(پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پربیشک اس کی پکڑ دردناک کرّی ( سخت )ہے ۔

شرح حدیث

مظلوم کے لئے تسلی ،ظالم کے لئے وعید :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں مظلوم کے لئے تسلی اور ظالم کے لئے وعید ہے تاکہ وہ ظالم اُس مہلت اور ڈھیل سے دھوکہ نہ کھائے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا :وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُترجمۂ کنزالایمان : اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن
فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲)
(پ۱۳ ، ابراھیم : ۴۲)
کے لئے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ ( )
ظالم سے کونسا شخص مراد ہے؟مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہاں ظالم میں تین احتمال ہیں : یا اس سے مراد لوگوں کے حقوق مارنے والا ہے یا مراد مطلقاً گنہگار یا کافر ، پہلے معنیٰ زیادہ قوی ہیں۔ وہ بندہ خوش نصیب ہے جو پہلے گناہ پر ہی پکڑا جائے ، وہ بہت ہی بدنصیب ہے جس کو گناہ پر نعمتیں ملتی رہیں ، گناہ پر جلدی پکڑ نہ ہونا ربّ تعالیٰ کا غضب ہے کہ انسان اس سے دھوکہ کھا جاتا ہے ۔ ‘‘( )ظلم بربادیٔ اِیمان کاسبب:حضرت سیدنا ابو القاسم حکیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے پوچھا : ’’کوئی ایسا گناہ بھی ہے جو بندے کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے؟‘‘فرمایا : ’’بربادیِ ایمان کے تین اسباب ہیں : (1)ایمان کی نعمت پر شکر نہ کرنا۔ (2) ایمان ضائع ہونے کا خوف نہ رکھنا اور(3)مسلمان پر ظلم کرنا۔ ‘‘( )ظالم بادشاہ کا عبرت ناک انجام:حضرت سیدناوہب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدْ بیان کرتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک ظالم ومغروربادشاہ رہا کر تا تھا۔ اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اس کی تعمیر پرکافی مال خرچ کیا ۔ جب تعمیر مکمل ہوچکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں او ردیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کو دیکھنے چل پڑا۔ ا ندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیا اور محل کے اِردگرد گرد چکر لگانے لگا ۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور محل کے قریب ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا : ’’یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے

بنائی ہے؟‘‘سپاہیوں نے جواب دیا : ’’ چند ہی دن ہوئے ہیں کہ یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئی ہے ، اس نے یہ جھونپڑی بنائی ہے اوروہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتی ہے۔ ‘‘جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے مغرورانہ انداز میں بولا : ’’اس غر یب بڑھیاکویہ جرأ ت کیسے ہوئی کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بنائے ، اس جھونپڑی کو فوراً گرا دو۔ ‘‘
حکم پاتے ہی سپاہی جھونپڑی کی طر ف بڑھے ، بڑھیا اس وقت وہاں موجود نہ تھی ۔ سپاہیوں نے آن کی آن میں اس غریب بڑھیا کی جھونپڑی کوملیا میٹ کر دیا۔ بادشاہ جھونپڑی گر وانے کے بعد اپنے دوستوں کے ہمراہ اپنے نئے محل میں چلا گیا ۔ جب بڑھیا واپس آئی تو اپنی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو دیکھ کر بڑی غمگین ہوئی اور لوگو ں سے پوچھا : ’’میری جھونپڑی کس نے گرائی ہے۔ ‘‘ لوگو ں نے بتا یا کہ ابھی کچھ دیر قبل بادشاہ آیا تھا ، اسی نے تمہاری جھونپڑی گروائی ہے ۔ یہ سن کر بڑھیا بہت غمگین ہوئی اور آسمان کی طر ف نظر اٹھا کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں یوں عرض گزار ہوئی : ’’اے میرے پاک پرور دگار عَزَّوَجَلَّ !جس وقت میری جھونپڑی توڑی جارہی تھی ، میں موجود نہ تھی لیکن میرے رحیم وکریم پر ودگار عَزَّوَجَلَّ ! تُو تو ہر چیز دیکھتا ہے ، تیری قدرت تو ہر شے کو محیط ہے ، میرے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ!تیرے ہوتے ہوئے تیری ایک عاجز بندی کی جھونپڑی توڑدی گئی ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اُس بڑھیاکی آہ وزاری او ر دعا مقبول ہوئی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ اِس پورے محل کو با دشاہ اور اُس کے سپاہیوں سمیت تباہ وبر باد کر دو ۔ ‘‘ حکم پاتے ہی حضرت سیدنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام زمین پر تشریف لائے اور سارے محل کو اس ظالم بادشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت زمین بوس کر دیا۔ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ حقیقت ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ضرور دیا جاتا ہے۔ مظلوم کی دعا بارگاہِ خدا و ندی میں ضرور قبول ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے اور ہماری وجہ سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اے عَزَّوَجَلَّ !ہمیں ہر وقت اپنی حفظ وامان میں رکھ اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرما۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مدنی گلدستہ
’’ کربلا‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)سب سے خوش نصیب وہ ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی رحمت سے گناہوں سے محفوظ فرمالے ، پھر وہ بندہ خوش نصیب ہے جس کو رب تعالیٰ پہلے گناہ پر ہی پکڑ لے کیونکہ گناہوں پر پکڑ نہ ہونا یہ رب تعالیٰ کی طرف سے ناراضی ہے اور رب کی ناراضی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی ہے۔
(2)ظلم کرنے والا اگر مومن ہو تو اسے ایک عرصے تک جہنم میں رکھا جائے گا یہا ں تک کہ اس کی سزا پوری ہو جائے ، گناہوں کی سزا پوری ہونے کے بعد بالآخر وہ جنت میں ہی جائے گااور کافر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ہی رہے گا۔
(3)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دی جانے والی ڈھیل سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئےکیونکہ ربّ تعالیٰ کی پکڑ ایسی سخت ہے کہ اس کے بعد بچنے کی کوئی راہ نہیں۔
(4)جب بندے سے خطا ہواور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے پکڑہوجائے تو ایسے بندے کو خوش ہوجانا چاہیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے غفلت اور محرومی سے محفوظ فرمایالیا۔
(5)ظلم کرنے والوں کو اپنے انجام سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے کہ جب دنیا میں قہر کی بجلی گرتی ہے تو اس طرح کے ظالم لوگ دوسروں کے لیے نشان عبرت بن جاتے ہیں اور آخرت میں ایسوں کے لئے درد نا ک عذاب ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دوسروں پر ظلم کرنے اور مظلوم کی آہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے ، ہمارا خاتمہ ایمان پر بالخیر فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 207