Main Icon

باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1256

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ يَومَ الْاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيْسِ فَاُحِبُّ اَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَاَنَا صَائِمٌ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: تعرض الاعمال يوم الاثنين والخميس فاحب ان يعرض عملي وانا صائم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتےہیں تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل روزے کی حالت میں پیش ہو۔“

شرح حدیث

ہفتے میں دوبار اَعمال کی پیشی:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اعمال لکھنے والے فرشتے بندوں کے پورے ہفتہ کے اعمال ان دو دنوں میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔ اعمال کا اٹھانا یعنی آسمانوں پر پہنچانا اور ہے اور ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی کچھ اور،اعمال کا اٹھانا تو روزانہ دن میں دوبار ہوتا ہے کہ دن کے اعمال رات سے پہلےاور رات کے اعمال دن سے پہلے وہاں پہنچائے جاتے ہیں مگر پیشی ہفتہ میں دو بارہوتی ہے لہٰذایہ حدیث اُس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزانہ دوبار اعمال اٹھانے کا ذِکر ہے۔“عرشی اور فرشی سال:حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اُس وقت پیش ہوکہ جب میں روزہ دار ہوں۔“اس کے تحت مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”تاکہ روزے کی برکت سے رحمتِ الٰہی کا دریا جوش مارے۔خیال رہے کہ سال بھر کے اعمال کی تفصیلی پیشی شعبان میں ہوتی ہےکیونکہ وہ ﷲکے ہاں سال کا آخری مہینہ ہے اور رمضان سال کا شروع مہینہ جیسے دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے۔غرضیکہ فرشی سال اور ہے جس کی ابتدامحرم سے انتہا بقرعید پر،عرشی سال کچھ اور۔“
یاالٰہی نامۂ اَعمال جب کھلنے لگیں
عیب پوشِ خلق ستّارِ خطا کا ساتھ ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1256