Main Icon

باب : صدق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 59

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ خَالِدٍ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُوْرِکَ لَہم ا فِیْ بَیْعِہم ا، وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہما‘‘۔ مُتَّفَقٌعَلَیْہ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۲/۱۳، حدیث:۲۰۷۹)

عن ابی خالد حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’البیعان بالخیار ما لم یتفرقا، فإن صدقا وبینا بورک لہم ا فی بیعہم ا، وإن کتما وکذبا محقت برکۃ بیعہما‘‘۔ متفقعلیہ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۲/۱۳، حدیث:۲۰۷۹)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو خَالِد حَکِیْم بِنْ حِزَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ،نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’بائع ومشتری (بیچنے والے اور خریدنے والے )کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔پس اگر وہ سچ بولیں اور (عیب) بیان کردیں تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر وہ (عیب) چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کے سودے سے برکت اٹھالی جا تی ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

جھوٹ بولنے سے برکت اُٹھ جاتی ہےعَلَّامَہاِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الباری میں فرماتے ہیں : دونوں سچ بولیں یعنی بیچنے والا سامان میں اور خریدار بھاؤ میں سچ بولے ۔ سودا بیچنے والا اپنی چیز کی خامی یا نَقْصْ بیان کردے اور خریدنے والا اپنے سِکّے کا کھرا کھوٹا ہونا بیان کردے تو دونوں کو برکت حاصل ہوگی اور اگربائع یا مشتری کی طرف سے جھوٹ یا کِتْمَان (عیب کوچھپانا) پایا گیا تو سودے سے برکت ختم کردی جائے گی۔ یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ اگرکوئی ایک جھوٹ بولے یا عیب چھپائے تو کیا دوسرے کے مال یا سودے سے بھی برکت ختم ہو جائے گی ؟ جواب: ظاہرِ حدیث سے تویہی واضح ہے کہ دوسرے کو برکت ملے گی ،لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ ایک کے جھوٹ کی نُحُوسَت سے دوسرے کی برکت بھی زائل ہو جائے۔ ہاں !سچ بولنے والے کو ثواب ملے گا ۔ (فتح الباری،کتاب البیوع،باب اذا بین البیعان الخ،۵/۲۶۸،تحت الحدیث:۲۰۷۹)عقد ِبیع (سَودا)کب مکمل ہوتا ہےحضرتِ سَیِّدُنا اِبْرَاہِیم نَخْعِی،حضرتِ سَیِّدُنا سفیان ثَوْرِی،حضرتِ سَیِّدُنا رَبِیْعَہ،حضرتِ سَیِّدُنا اِمام مَالِک،حضرتِ سَیِّدُنا اِمَام مُحَمَّد اور ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے نزدیک تَفَرُّق (جدا ہونے ) سے مراد تَفَرُّق بِالْاَقْوَال( یعنی قولاً جُداہونا) ہے، پس جب بائع نے کہا : میں نے یہ چیز اتنے میں بیچی اور خریدار نے کہا: میں نے اتنے میں خریدی ، بس اتنا کہتے ہی تَفَرُّق(جدائی) پائی گئی اور سودا مکمل ہوگیا۔ اب خریدار وہ چیز واپس نہیں کرسکتا اور بیچنے والا اپنی چیز واپس نہیں مانگ سکتا، ہاں ! خیارِ عیب، خیارِ رؤیت یا خیارِ شرط کی وجہ سے سودا ختم کیا جاسکتا ہے ۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ عقد (سودا) ایجاب و قبول سے مکمل ہو جاتا ہے اور چیز خریدار کی ملکیت میں اور قیمت دوکاندار کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، لہٰذا ان میں سے کسی ایک کو خیارِ مجلس دینا دوسرے کے حق کو باطل کرنے کے مترادف ہے، جو کہ اس حدیثِ پاک سے باطل ہے کہ ’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَاِم‘‘ (یعنی اسلام میں یہ بات ہے کہ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ نقصان اٹھاؤ ) اور مذکورہ حدیث خیارِ قبول پر محمول ہے یعنی جب ان میں سے کسی ایک نے ایجاب کیا تو دوسرے کو سودا قبول کرنے یا رَدّ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔اس کے علاوہ کوئی تیسرا اِختیار نہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس قول کی وجہ سے عقد ہوجانے کے بعد خیارِ مجلس ثابت نہیں :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ-(پ۵، النساء:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ،مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہم ی رضا مندی کا ہو۔
تو مال کو جائز طریقے سے کھانا اسی صورت میں ہوگا جب رضامندی سے سودا ہو جائے، خرید و فروخت بھی سودا ہے، پس یہ آیت خیارِ مجلس کے باطل ہونے اور عقد ہونے پردلیل ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کا ارشاد ہے :
اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ: (پ۶، المائدۃ:۱)
ترجمۂ کنز الایمان :اپنے قول پورے کرو۔
اور عقد میں وفا (یعنی اپنی بات پوری کرنا) ضروری ہے اور خیارِ مجلس کو ثابت کرنے کی صورت میں اپنی بات کو پورا نہ کرنا لازم آرہا ہے، لہٰذا خیار مجلس باطل ہے۔ (عمدۃ القاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۸/۳۴۲، تحت الحدیث:۲۰۷۹)
تجارت سے برکت ختممُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : نہ تو فَروشِنْدہ(بیچنے والا) چیز کے عیب چھپا کر خریدار کو دھوکا دے، اورنہ خریدار قیمت کے عیوب چھپا کر تاجر کو دھوکا دے دونوں کے معاملات صاف ہوں تو برکت ہوگی، ور نہ تجارت میں بے برکتی ہی رہے گی جیسا کہ آجکل دیکھا جارہا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۴/۲۴۷)مدنی گلدستہ
’’طَیْبَہ ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراوراس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1) سچ سے کاموں میں برکت ڈال دی جاتی ہے، جبکہ جھوٹ کی نُحُوسَت سے برکت زائل کر دی جاتی ہے۔
(2) اگر مال میں کوئی نَقْصْ یا عیب ہے تو اسے بیان کردینا چاہئے تاکہ بعد میں کسی جھگڑے وغیرہ کی نَوْبَت نہ آئے ۔
(3) ایجاب و قبول کے ساتھ سودا مکمل ہوجاتا ہے ۔اب (سوائے چند مخصوص صورتوں کے) بائع یا مشتری میں سے کسی کو بھی سودا ختم کرنے کا اختیار نہیں۔
(4) سودا کرتے وقت جو جھوٹ ودھوکے سے کام لے گا اگرچہ وقتی طور پر اسے کچھ فائدہ ہو بھی جائے لیکن اس کے مال میں برکت نہ ہو گی ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں ہر معاملے میں سچائی اپنانے اور جھوٹ سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 59