- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صدق کا بیان
- حدیث نمبر 59
باب : صدق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 59
جلد 1
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِیْ خَالِدٍ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُوْرِکَ لَہم ا فِیْ بَیْعِہم ا، وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہما‘‘۔ مُتَّفَقٌعَلَیْہ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۲/۱۳، حدیث:۲۰۷۹)
عن ابی خالد حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’البیعان بالخیار ما لم یتفرقا، فإن صدقا وبینا بورک لہم ا فی بیعہم ا، وإن کتما وکذبا محقت برکۃ بیعہما‘‘۔ متفقعلیہ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۲/۱۳، حدیث:۲۰۷۹)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو خَالِد حَکِیْم بِنْ حِزَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ،نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’بائع ومشتری (بیچنے والے اور خریدنے والے )کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔پس اگر وہ سچ بولیں اور (عیب) بیان کردیں تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر وہ (عیب) چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کے سودے سے برکت اٹھالی جا تی ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
جھوٹ بولنے سے برکت اُٹھ جاتی ہےعَلَّامَہاِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الباری میں فرماتے ہیں : دونوں سچ بولیں یعنی بیچنے والا سامان میں اور خریدار بھاؤ میں سچ بولے ۔ سودا بیچنے والا اپنی چیز کی خامی یا نَقْصْ بیان کردے اور خریدنے والا اپنے سِکّے کا کھرا کھوٹا ہونا بیان کردے تو دونوں کو برکت حاصل ہوگی اور اگربائع یا مشتری کی طرف سے جھوٹ یا کِتْمَان (عیب کوچھپانا) پایا گیا تو سودے سے برکت ختم کردی جائے گی۔ یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ اگرکوئی ایک جھوٹ بولے یا عیب چھپائے تو کیا دوسرے کے مال یا سودے سے بھی برکت ختم ہو جائے گی ؟ جواب: ظاہرِ حدیث سے تویہی واضح ہے کہ دوسرے کو برکت ملے گی ،لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ ایک کے جھوٹ کی نُحُوسَت سے دوسرے کی برکت بھی زائل ہو جائے۔ ہاں !سچ بولنے والے کو ثواب ملے گا ۔ (فتح الباری،کتاب البیوع،باب اذا بین البیعان الخ،۵/۲۶۸،تحت الحدیث:۲۰۷۹)عقد ِبیع (سَودا)کب مکمل ہوتا ہےحضرتِ سَیِّدُنا اِبْرَاہِیم نَخْعِی،حضرتِ سَیِّدُنا سفیان ثَوْرِی،حضرتِ سَیِّدُنا رَبِیْعَہ،حضرتِ سَیِّدُنا اِمام مَالِک،حضرتِ سَیِّدُنا اِمَام مُحَمَّد اور ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے نزدیک تَفَرُّق (جدا ہونے ) سے مراد تَفَرُّق بِالْاَقْوَال( یعنی قولاً جُداہونا) ہے، پس جب بائع نے کہا : میں نے یہ چیز اتنے میں بیچی اور خریدار نے کہا: میں نے اتنے میں خریدی ، بس اتنا کہتے ہی تَفَرُّق(جدائی) پائی گئی اور سودا مکمل ہوگیا۔ اب خریدار وہ چیز واپس نہیں کرسکتا اور بیچنے والا اپنی چیز واپس نہیں مانگ سکتا، ہاں ! خیارِ عیب، خیارِ رؤیت یا خیارِ شرط کی وجہ سے سودا ختم کیا جاسکتا ہے ۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ عقد (سودا) ایجاب و قبول سے مکمل ہو جاتا ہے اور چیز خریدار کی ملکیت میں اور قیمت دوکاندار کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، لہٰذا ان میں سے کسی ایک کو خیارِ مجلس دینا دوسرے کے حق کو باطل کرنے کے مترادف ہے، جو کہ اس حدیثِ پاک سے باطل ہے کہ ’’لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَاِم‘‘ (یعنی اسلام میں یہ بات ہے کہ نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ نقصان اٹھاؤ ) اور مذکورہ حدیث خیارِ قبول پر محمول ہے یعنی جب ان میں سے کسی ایک نے ایجاب کیا تو دوسرے کو سودا قبول کرنے یا رَدّ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔اس کے علاوہ کوئی تیسرا اِختیار نہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس قول کی وجہ سے عقد ہوجانے کے بعد خیارِ مجلس ثابت نہیں :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ-(پ۵، النساء:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ،مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہم ی رضا مندی کا ہو۔
تو مال کو جائز طریقے سے کھانا اسی صورت میں ہوگا جب رضامندی سے سودا ہو جائے، خرید و فروخت بھی سودا ہے، پس یہ آیت خیارِ مجلس کے باطل ہونے اور عقد ہونے پردلیل ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ کا ارشاد ہے :اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ: (پ۶، المائدۃ:۱)
ترجمۂ کنز الایمان :اپنے قول پورے کرو۔
اور عقد میں وفا (یعنی اپنی بات پوری کرنا) ضروری ہے اور خیارِ مجلس کو ثابت کرنے کی صورت میں اپنی بات کو پورا نہ کرنا لازم آرہا ہے، لہٰذا خیار مجلس باطل ہے۔ (عمدۃ القاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۸/۳۴۲، تحت الحدیث:۲۰۷۹)تجارت سے برکت ختممُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : نہ تو فَروشِنْدہ(بیچنے والا) چیز کے عیب چھپا کر خریدار کو دھوکا دے، اورنہ خریدار قیمت کے عیوب چھپا کر تاجر کو دھوکا دے دونوں کے معاملات صاف ہوں تو برکت ہوگی، ور نہ تجارت میں بے برکتی ہی رہے گی جیسا کہ آجکل دیکھا جارہا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۴/۲۴۷)مدنی گلدستہ
’’طَیْبَہ ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراوراس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول(1) سچ سے کاموں میں برکت ڈال دی جاتی ہے، جبکہ جھوٹ کی نُحُوسَت سے برکت زائل کر دی جاتی ہے۔
(2) اگر مال میں کوئی نَقْصْ یا عیب ہے تو اسے بیان کردینا چاہئے تاکہ بعد میں کسی جھگڑے وغیرہ کی نَوْبَت نہ آئے ۔
(3) ایجاب و قبول کے ساتھ سودا مکمل ہوجاتا ہے ۔اب (سوائے چند مخصوص صورتوں کے) بائع یا مشتری میں سے کسی کو بھی سودا ختم کرنے کا اختیار نہیں۔
(4) سودا کرتے وقت جو جھوٹ ودھوکے سے کام لے گا اگرچہ وقتی طور پر اسے کچھ فائدہ ہو بھی جائے لیکن اس کے مال میں برکت نہ ہو گی ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں ہر معاملے میں سچائی اپنانے اور جھوٹ سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 59