- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صدق کا بیان
- حدیث نمبر 56
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ صَخْرِ بْنِ حَرْبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، فِیْ حَدِیْثِہٖ الطَّوِیْلِ فِیْ قِصَّۃِ ھِرَقْلَ ، قَال ھِرَقْلُ: فَمَا ذَا یَأْمُرُکُمْ یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَبُوْ سُفْیَانَ : قُلْتُ: یَقُوْلُ: ’’ اُعْبُدُوْا اللہَ وَحْدَہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَاتْرُکُوْا مَا یَقُوْلُ اٰبَاؤُکُمْ ، وَیَأْمُرُنَا بِالصَّلَاۃِ، وَالصِّدْقِ، وَالْعَفَافِ، وَالصِّلَۃِ ‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ ۔(بخاری، کتاب بدء الوحی، ۱/۱۰، حدیث:۷)
عن ابی سفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ، فی حدیثہ الطویل فی قصۃ ھرقل ، قال ھرقل: فما ذا یامرکم یعنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ابو سفیان : قلت: یقول: ’’ اعبدوا اللہ وحدہ ولا تشرکوا بہ شیئا واترکوا ما یقول اباؤکم ، ویامرنا بالصلاۃ، والصدق، والعفاف، والصلۃ ‘‘۔ متفق علیہ ۔(بخاری، کتاب بدء الوحی، ۱/۱۰، حدیث:۷)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو سُفْیَان صَخْر بِنْ حَرْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ واقعۂ ہرقل کی طویل حدیث میں فرماتے ہیں : ہرقل نے پوچھا وہ نبی ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ ابو سفیان) رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ( فرماتے ہیں :میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ ایک اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اپنے آباء و اَجداد کی باتوں کو چھوڑدو، نیز وہ ہمیں نماز پڑھنے ، سچ بولنے، پاکدامن رہنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
شرح حدیث
ہِرْقِل( )کون تھا؟علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : عہدِ رسالت میں روم کا جو بادشاہ تھا اس کا نام ہِرْقِل تھا ۔ ہِرْقِلنے 31 سال حکومت کی اس کی حکومت کے دورمیں ہی نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وِصال مبارک ہوا ، اس کا لقب قَیْصَر تھا، اس زمانے میں ہر ملک کے بادشاہوں کے الگ الگ لقب تھے ، جس طرح روم کے بادشاہ کا لقب قَیْصَر، ایران کے بادشاہ کا کِسْرٰی تھا، ہِرْقِلوہ پہلا بادشاہ ہے جس نے درہم ایجاد کیا اورگِرجا بنوایا، حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب کِسْرٰی ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کِسْرٰی نہیں ہوگا اور جب قَیْصَر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قَیْصَر نہیں ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ضرور ان کے خزانوں کو اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کروگے۔(بخاری، کتاب فرض الخمس، باب قول النبی’’احلت لکم الغنائم‘‘ ۲/۳۴۸، حدیث:۳۱۲۱) علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں اہلِ قریش شام(روم ) اور عراق میں تجارت کے لئے بہت زیادہ جاتے تھے پھر جب قریش مسلمان ہوگئے تو ان کو یہ خوف ہوا کہ اب وہ شام اور عراق نہیں جاسکیں گے کیونکہ قریش کے مسلمان ہونے کی وجہ سے شام اور عراق والے ان کے مخالف ہوگئے تھے ، تب حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ان ملکوں میں ان کی ہلاکت کے بعد کوئی قَیْصَر اور کِسْرٰی نہیں ہوگا اور تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، پھر نہ تو شام میں کوئی قَیْصَر ہوا اور نہ عراق میں کوئی کِسْرٰی ۔ (ملتقطا عمدۃ القاری،کتاب بدء الوحی، ۱/۱۳۰، تحت الحدیث:۷)
اللہ عزَّوَجَلَّ کی عطا سے غیب جاننے والے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان غیب نشان حَرْف بَحَرْف ثابت ہوا۔ روم و ایران سے قیصر و کِسرٰی کی حکومت ختم ہوئی ،ان ممالک میں پرچمِ اسلام لہلہانے لگا اور قیصر وکسرٰی کے خزانے راہ خدا میں خرچ کئے گئے ۔جیسا کہ منقول ہے
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَافِی اور دیگرتمام علما نے اس حدیث کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نہ عراق میں کسرٰی ہوگا اور نہ شام میں کوئی قیصرہوگا جیساکہ نبی اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں تھا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں ان دونوں ریاستوں میں ان کے اقتدار کے خاتمے کی خبر دی ہے ، اور ایسا ہی ہوا جیسا رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تھا ۔ کسرٰی کا اقتدار تو تمام علاقوں سے مکمل ختم ہوگیااور اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیااور رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مکتوب کو پھاڑنے کی وجہ سے اس کی سلطنت کی بنیادیں ہل گئی تھیں جہاں تک قیصر کا تعلق ہے ، تووہ شام میں ہزیمت سے دو چار ہوااور اپنی سلطنت کے دورِ اُفْتَادَہ ( ناکارہ )علاقوں تک محدود ہوگیا مسلمانوں نے اس کے بیشتر علاقوں کو فتح کر کے ان میں مضبوط حکومت قائم کی اور مسلمانوں نے قیصر و کِسرٰی کے خزانوں کو راہِ خدا میں خرچ کیا جیساکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبردی تھی ۔(شرح مسلم للنووی،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل الخ…، ۹/۴۲، الجزء الثامن عشر)
یہ حیران کُن انقلاب اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے عہدِ خلافت میں برپا ہوا ۔ اس حدیث کے مفہوم اور اس جیسی دیگر احادیث کی تائید قراٰن کریم کی اس آیت مقدسہ سے ہوتی ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-(پ۱۸، النور:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گاجیسی ان سے پہلوں کودی اور ضرور ان کے لئے جمادے گاان کا وہ دین جو ان کے لئے پسند فرمایاہے اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا۔
تفسیر ابنِ کثیر میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ یہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے وعدہ ہے کہ وہ عنقریب اُمّتِ مُحمدیہ کو زمین کے خلفا اور لوگوں کے امام و حاکم بنائے گا ، ان کی وجہ سے ملک آباد ہوں گے اور کُرّہ ارض کے لوگ ان کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا ابھی نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال بھی نہ ہوا تھا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًا ،خیبر، بحرین سارا جزیرئہ عرب اور پورا یمن فتح کروادیا ۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہَجَر کے مجوسیوں اور اطرافِ شام کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کیا۔ ہِرْقِل ،مُقَوْقِسْ ،نَجَاشِی جیسے حاکموں نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں تحائف بھیجے،پھر جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصالِ مبارَک ہوا اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنی بارگاہ میں خصوصی انعام واکرام کے لئے منتخب فرمایا، تو خلافت کی ساری ذِمَّہ داری اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اٹھائی۔ انہوں نے عہدِ رسالت کی کامیابیوں کو مُسْتَحْکَم کیااور جزیرۂ عرب میں اسلامی اقتدار کو اُسْتُوار (مضبوط) کیا اور ساتھ ہی ایک اسلامی لشکر حضرتِ سَیِّدُناخالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی زیرِ قیادت ایران کی طرف بھیجا، دوسرا لشکر حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبیدہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی زیر کمان شام روانہ کیا اور تیسرالشکر حضرتِ سَیِّدُنا عَمْرو بِنْ اَلعَاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی مَعِیَّت میں مصر کے شہروں کی طرف روانہ کیا ۔چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ نے عہد ِصدیقی میں شامی لشکر کو بَصَرِی دِمَشْق اور اِرد گرد کے علاقوں کی فتوحات سے سر فراز فرمایا۔
جب اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے وِصال کا وقت آیا ، تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسلام اور اہلِ اسلام پر خصوصی احسان فرمایاکہ ان کے دلوں میں اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو خلیفہ بنانے کا اِلْہَام کیاجنہوں نے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے بعد کاروبار حکومت سنبھالا۔ چشمِ فلک نے انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کے بعد قوت و سیرت اور کمال عدل میں ان جیسا نہیں دیکھا، ان کے عہد خلافت میں تمام بلادِ شامیہ فتح ہوئے۔ مصر کا علاقہ فتح ہوااور سلطنت فارس کا بڑا حصہ اسلامی قلم رَو (سلطنت) میں شامل ہوا۔ کِسریٰ کو شکست فاش ہوئی اور اسے انتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور پَسپا ہوکر اپنے دُور دَراز علاقوں تک محدود ہوگیا۔ اُدھر قیصر کے ہاتھوں سے شام چھین لیاگیا اور وہ سمٹ کر قُسْطُنْطُنِیَہ کی طرف چلا گیا۔ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خَطَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے کِسرٰی اور قیصر کے خزانے راہ خدا میں خرچ کئے جیسا کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی پیش گوئی فرمائی تھی ، پھر جب خلافت عثمانیہ کا دور دورہ ہوا، تو اسلامی ریاست کی حدود زمین کے مشارق و مغا رب تک پھیل گئیں۔مغربِ اَقصٰی کے ممالک أَنْدَلُس تک اور بَحْرِ اَوْقِیَانُوْس کے ساتھ ساتھ کئی علاقے اور مشرق اَقصٰی میں چین کے کئی صوبے مسلمانوں کے سامنے سرنِگوں ہوگئے۔ کِسرٰی شاہِ ایران قتل ہوگیااور اسکے ملک کا نام و نشان مٹ گیا۔عِرَاق ، خُرَاسَان اور اَہْوَاز کے شہر فتح ہوئے نیز مشارق و مغارب کے ممالک سے خِرَاج اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے دربار میں آنے لگا۔(تفسیر ابنِ کثیر،پ:۱۸، النور، تحت الایۃ:۵۵، ۶/۷۰۔۷۱ )مکتوبِ نبی کی برکتمُبَلِّغِ اعظم، نبیِّ مُکَرَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے لئے مکتوب روانہ فرمائے ان میں سے ہِرْقِل نے آپ کے مکتوب شریف کی تعظیم کی تو اسے بہت سی برکتیں ملیں۔چنانچہ، علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : ہِرْقِل نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خط مبارک کوخوب حفاظت وادب کے ساتھ سونے کی ڈبیہ میں رکھا۔ یہ اور اس کی نسل ہم یشہ اس کا بہت اِعزاز و اِکرام کرتے رہے ، منقول ہے کہ منصور قلاون کے عہد میں شاہ فرنگ نے سَیْفُ الدِّیْن طَلَح منصوری کو یہ خط مبارک دکھایا تھا اس وقت اس کے کچھ حروف اُڑچکے تھے یہ خط اس کے پاس ایک زَرِّیں (سنہری) صندوق میں سونے کے قلم دان میں محفوظ تھا ۔اس بادشاہ نے بتایا کہ یہ وہ خط ہے جو تمہارے نبی( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) نے ہمارے دادا کے پاس بھیجا تھا۔ ہمارے بزرگ ہم یشہ ایک دوسرے کو وصیت کرتے چلے آئے ہیں کہ اس کی بہت حفاظت کرنا، تعظیم و تکریم کرنا، جب تک یہ ہمارے خاندان کے پاس رہے گا سلطنت ہمارے خاندان میں باقی رہے گی۔ (عمدۃ القاری، کتاب بدء الوحی، ۱/۱۵۸، تحت الحدیث:۷)روم و ایران فتح ہوئےاَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے دورِ خلافت میں ۱۶ھ میں حضرتِ سَیِّدُنا سَعْد بِنْ اَبِیْ وَقَّاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے ایوانِ (محل)کِسرٰی میں جمعہ کی نماز ادا کی اور یہ پہلا جمعہ تھا جو عِراق کی مملکت میں پڑھا گیا۔یہ ماہِ صفر تھا ۲۰ھ میں جنگ کے بعدمصر فتح ہوا، قیصرِ روم کا انتقال ہوا، حضرتِ سَیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے خیبر اور نَجْرَان سے یہود کو جِلا وطن کیا اور خیبر اور وَادِی الْقُرَی کو تقسیم کر دیا۔ (تاریخ الخلفائ، ص۱۰۴۔ ۱۰۵)قیصر وکِسریٰ کے خزانےحضرتِ سَیِّدُنا جَابِر بِنْ سَمُرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: مسلمانوں کا ایک گروہ کِسرٰی کے وہ خزانے ضرور فتح کرے گاجو سفید محل میں ہیں۔ (مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل …الخ، ص۱۵۵۹، حدیث:۲۹۱۹) راوی کہتے ہیں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں اور میرے والد ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے یہ خزانے فتح کئے اورہمارے حصے میں ایک ہزار درہم آئے ۔(دلائل النبوۃ، ۴/۳۸۹)مختلف ممالک کے بادشاہوں کے القاباتاس زمانے میں ہر ملک کے بادشاہوں کے الگ الگ لقب تھے ، جیسے روم کے بادشاہ کا لقب قَیْصَر، ایران کے بادشاہ کا کِسْرٰی تھا ،اور تُرک کے بادشاہ کا خاقان، حَبْشَہ کے بادشاہ کانَجَاشِی، قِبْط کے بادشاہ کا فِرْعَوْن، مِصْر کے بادشاہ کا عَزِیْز، ہند کے بادشاہ کا دَھْمِی، چین کے ٍبادشاہ کافُغْفُوْر، یونان کے بادشاہ کا ،بَطْلَمْیُوْس یہود کے بادشاہ کا قیطون، صَابِئَہ کے بادشاہ کا نُمْرُوْد، یمن کے بادشاہ کا تُبَّع، ، عرب کے بادشاہ کا لقب عجمیوں سے پہلے نعمان تھا اور افریقہ کے بادشاہ کاجِرْجِیْر، خَوَارزِم کے بادشاہ کا خَوَارزِم شاہ، جُرْجَان کے بادشاہ کا، صُوْل، آذَرْ بَائیجَان کے بادشاہ کا اِصْبَہْبَذ، طَبَرِسْتَان کے بادشاہ کا سَالَار، اَسْکَنْدَرِیَّہ (Alexandria) کے بادشاہ کا لقب مَلِک مُقَوْقِستھا ۔(عمدۃ القاری، کتاب بدء الوحی، ۱/۱۳۰، تحت الحدیث:۷)
حدیث ِمذکور میں بیان کیا گیاکہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کو ایک اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے، اپنے آباء و اَجداد کی باطل باتوں کو چھوڑدینے نیز نماز پڑھنے ، پاکدامن رہنے، صلہ رحمی کرنے اور سچ بولنے کا حکم دیتے تھے ۔ یہ باب چونکہ صِدْق( سچائی) کے بارے میں ہے، لہٰذا سچائی کی فضیلت اور جھوٹ کی مَذَمَّت پر مشتمل چند روایات وحکایات پیش کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ،جھوٹ ترک کیا تو دیگر گناہوں کی عادت جاتی رہیایک شخص بارگاہِ نبوت میں عرض گزار ہو ا: مجھے بدکاری، چوری، شراب نوشی اورجھوٹ کی عادت ہے میں ایمان لانا چاہتا ہوں مگرلوگوں نے مجھے بتا یا ہے کہ آپ نے یہ چیزیں حرام کی ہیں۔میں ایک ساتھ انہیں نہیں چھوڑ سکتا، مجھے ان میں سے کسی ایک برائی سے منع فرما دیجئے تو میں اسلام قبول کرلونگا۔نبیِّ مُکَرَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تو جھوٹ کو ترک کردے ! عرض کی: ٹھیک ہے!پھر وہ مسلمان ہوگیا۔ دربارِ رسالت سے جانے کے بعدجب اس کا شراب پینے کا ارادہ ہواتو خیال آیا جب نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے شراب پینے سے متعلق پوچھیں گے اور میں جھوٹ بولوں گا تو میں نبی سے کئے ہوئے وعدے کو توڑنے والا ہو جاؤں گا اور اگر اقرار کر لیا تو مجھ پر حد قائم کی جائے گی، لہٰذا اُس نے شراب نوشی چھوڑدی، اسی طرح بدکاری اور چوری کا ارادہ کرتے وقت بھی اسے یہی خیال آیا تو وہ ان برائیوں سے بھی باز رہا۔ جب بارگاہِ رسالت میں حاضری ہوئی تو عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میری جان آپ پر فدا ہوآپ نے مجھے جھوٹ سے روک کر کتنا اچھا کام کیا کہ جب میں جھوٹ سے بچا تو مجھ پر تمام گناہوں کے دروازے بند ہوگئے ۔ (تفسیرِ کبیر، پ۱۱، التوبۃ، تحت الایۃ:۱۱۹، ۶/۱۶۷)
معلوم ہو اکہ نگاہِ نبوت دیکھ رہی تھی کہ یہ شخص جھوٹ ترک کرنے کی برکت سے دیگر گناہوں سے بھی بچ جائے گا اسی لئے اسے جھوٹ ترک کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور پھر واقعی وہ تمام گناہوں سے تائب ہو گیا ۔
تَفْسِیْرِ دُرِّمَنْثُوْر میں ہے: اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا: تم مومن کو کَذَّاب (جھوٹا) نہیں پاؤگے ۔ مزید فرماتے ہیں :تم کسی کی نماز اور روزے کی طرف نہ دیکھوبلکہ یہ دیکھو کہ کیاجب وہ بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے ،جب اسکے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اسے ادا کرتا ہے۔(درمنثور، پ۱۱، التوبۃ، تحت الایۃ:۱۱۹، ۴/۳۲۰)جھوٹ کی نُحُوسَتحضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے منقول ہے کہ آدمی کو جھوٹ بولنے کی وجہ سے رات کے قیام اور دن کے روزے سے محروم کردیا جاتا ہے ۔(شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان،آثار و حکایات فی فضل الصدق وذم الکذب، ۴/۲۳۱، حدیث:۴۸۹۰)
اُمُّ الْمُؤْ مِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا : جھوٹ سے بڑھ کر کوئی عادت رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک نا پسندیدہ نہ تھی۔ (سنن کبریٰ، کتاب الشہادات، باب من کان منکشف الکذب …الخ، ۱۰/۳۳۱، حدیث:۲۰۸۲۱)سچ میں بے مثال خوبیاںحضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہ عَنْہم ا فرماتے ہیں : جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں اس نے نفع اٹھایا : (1) سچائی (2) حیا (3) اچھے اخلاق (4) شکر۔ حضرت ابو عبد اللہ رملی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں میں نے مَنْصُوْر دِیْنوَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کو خواب میں دیکھا ، میں نے اُن سے کہا: اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے مجھے بخش دیا اور مجھ پر رحم فرمایا اور مجھے وہ کچھ عطا فرمایا جس کی مجھے امید نہ تھی۔ میں نے کہا: وہ کون سی چیز ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ کی طرف اچھی طرح متوجہ ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا : سچ۔ سب سے بُری چیز جس کے ذریعے بندہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ جھوٹ ہے ۔ (احیاء العلوم، ۵/۱۱۶)مدنی گلدستہ
’’صادق و امین ‘‘کے9 حروف کی نسبت سے حد یثِمذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول(1)سب سے پہلے دراھم اور گِرجا بنانے والا ہِرْقِل تھا۔
(2)روم کے بادشاہ کا لقب قَیْصَر اور ایران کے بادشاہ کا لقب کِسْرٰی ہوا کرتا تھا ۔
(3) انبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلَام واَوْلیائے عظام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کے تبرکات سے برکتیں حاصل ہوتیں اور مشکلیں آسان ہوتی ہیں۔ہِرْقِل نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خط کی تعظیم کی اور اسے سونے کے صندوق میں رکھا، حضور عَلَیْہِ السَّلام کے خط کی برکت سے ہِرْقِل کو بہت سی فتوحات ہوئیں۔
(4) صادق ومصدوق نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کرکوئی چیز ناپسندیدہ نہ تھی ۔
(5) ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے علمِ غیب سے مالا مال کیا ہے جبھی تو ارشاد فرمایا کہ قیصر وکسرٰی کے خزانے مسلمانوں کے پاس آجائیں گے اور انہیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں خرچ کیا جائیگا اور پھر ایسا ہی ہو اجیسا زبانِ حق ترجمان سے ادا ہوا ۔
امامِ اہلِ سنت، سرکار اعلیٰ حضرت امام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں :
وہ زباں جس کو سب کُن کی کُنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
(6)نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا سنتِ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام ہے۔
(7) نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، صلہ رحمی کرنا ، پاکدامنی اور سچائی مسلمانوں کی بہت اعلیٰ صفات ہیں۔
(8) جھوٹ ایسی برائی ہے جسے دیگر مذاہب کے لوگ بھی برا جانتے ہیں۔
(9) جھوٹ بولنا منافقین کی علامت ہے۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد٭∞…٭∞…٭∞…٭∞…٭∞…٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 56