- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صدق کا بیان
- حدیث نمبر 55
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ مُحَمَّدَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا، قال:حَفِظْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’دَعْ مَا یَرِیْبُکَ إِلَی مَا لَا یَرِیْبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِینَۃٌ، وََّالْکَذِبَ رِیْبَۃٌ ‘‘۔رَوَاہُ التِّرْمِذِی(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۳۲، حدیث:۲۵۲۶)
قَالَ النَّوَوِی: قَوْلُہ: ’’یَرِیْبُکَ‘‘ ھُوَ بِفَتْحِ الْیَائِ وَضَمِّھَا: وَمَعْنَاہُ: اُتْرُکْ مَاتَشُکُّ فِیْ حِلِّہِ ، وَاعْدِلْ اِلٰی مَالَا تَشُکُّ فِیْہِ۔
عن ابی محمدن الحسن بن علی بن ابی طالب، رضی اللہ عنہم ا، قال:حفظت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’دع ما یریبک إلی ما لا یریبک، فإن الصدق طمانینۃ، والکذب ریبۃ ‘‘۔رواہ الترمذی(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۳۲، حدیث:۲۵۲۶)
قال النووی: قولہ: ’’یریبک‘‘ ھو بفتح الیائ وضمھا: ومعناہ: اترک ماتشک فی حلہ ، واعدل الی مالا تشک فیہ۔
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ بات یاد کی ہے کہ ’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دے اور جس میں شک نہ ہو اسے اختیار کر۔ بے شک! سچائی میں سکونِ قلب ہے اور جھوٹ شک و تہم ت کا مُوجِب ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قول’’یَرِیْبُکَ‘‘ میں یاء پر زبر اور پیش دونوں پڑھے جاسکتے ہیں ، اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس کے حلال ہونے میں تجھے شک ہے اسے چھوڑدے اور جس کے حلال ہونے میں شک نہیں اسے اختیار کر۔مومن کا دل صحیح کام پر مطمئن ہوتا ہےاِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’ حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی چیز میں تمہیں شک ہو جائے تو اسے چھوڑ کر وہ کام کرو جس میں کوئی شک نہ ہو ۔‘‘ حدیث شریف کے الفاظ ’’فَاِنَّ الصِّدْقَ طُمَأنِیْنَۃٌ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :جب تمہارا نفس کسی کام کے بارے میں شک میں پڑ جائے تو اسے چھوڑ دو کیونکہ مومن کا نفس سچی بات پر مطمئن ہوتا ہے اور کسی کام پر نفس کا مطمئن نہ ہونا اُس کام کے باطل ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا اس کام کو کرنے سے بچو۔ اور کسی کام پر نفس کا مطمئن ہوجانا اس کام کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، لہٰذا اس کام کو کرلو۔ لیکن یہ بات ان نفوسِ قُدْسِیَہ کے ساتھ خاص ہے جن کے دل گناہوں کی گندگی اور برائیوں کے میل سے پاک ہیں۔
(شرح الطیبی، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، ۶/۲۰، تحت الحدیث:۲۷۷۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :ظاہر یہ ہے کہ (حضرتِ سَیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ) نے بِلاواسطہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )سے یہ (فرمان ) سنا اور یاد کیا، کیونکہ حضور ِاَنور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی زندگی شریف میں امام حَسن ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ) قدرے سمجھدار تھے، بچوں کا حدیث سننا معتبر ہے جب کہ کچھ سمجھدار ہوں اور ہوسکتا ہے کہ آپ نے کسی صحابی ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ )سے سنا ہو، چونکہ یہ قولِ رسول تھا، اس لئے اسے حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی طرف نسبت فرمادیا، جیسے ہم کہہ دیتے ہیں کہ حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )نے یہ فرمایا ،یا ہمیں حضور ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کا یہ فرمان یاد ہے ۔ حدیث کے الفاظ ’’دَعْ مَا یَرِیْبُک‘‘( ترجمہ: شک میں ڈالنے والی چیزوں کو چھوڑ دے) کے تحت فرماتے ہیں:’’ جو کام یا کلام تمہارے دل میں کھٹکے کہ نہ معلوم حرام ہے یا حلال، اسے چھوڑ دو اور جس پر دل گواہی دے کہ یہ ٹھیک ہے اسے اختیار کرو، مگر یہ ان حضرات کے لئے ہے جو امام حَسَن ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ) جیسی قوتِ قُدْسِیَہ و علمِ لَدُنِّی والے ہوں جن کا فیصلۂ قلب کتاب و سنت کے مطابق ہو عام لوگ یا جو نفسانی و شیطانی وَہم یات میں پھنسے ہوں اُن کے لئے یہ قاعدہ نہیں ، بعض لاپروا لوگ قطعی حراموں میں کوئی تَرَدُّد (شک)نہیں کرتے اور بعض وَہم پرست جائز چیزوں کو بلاوجہ حرام و مشکوک سمجھ لیتے ہیں ان کے لئے یہ قاعدہ نہیں ہے ۔
’’اَلصِّدْقُ طُمَانِیْنَۃٌ(ترجمہ: سچائی میں سکونِ قلب ہے) یعنی مومنِ کامل کا دل سچے کام و سچے کلام سے مطمئن ہوتا ہے اور مشکوک اشیاء سے قدرتی طور پر مُتَرَدِّد (شک میں ) ہوتا ہے، یہاں لَمْعات میں فرمایا گیا کہ جب آیتوں میں تَعَارُض(ٹکراؤ) معلوم ہوتا ہو تو حدیث کی طرف رجوع کرو اور اگر حدیثیں بھی مُتَعَارِض (آپس میں ٹکراتی ہوئی) نظر آئیں تو اقوالِ علما کو تلا ش کرو اور اگر ان میں بھی تَعَارُض(ٹکراؤ) نظر آئے تو اپنے دل سے فتویٰ لو اور احتیاط پر عمل کرو، ( لیکن )یہ سارے احکام صاف دل اور پاکیزہ نُفُوس کے لئے ہیں اگر کسی کو جھوٹ سے اطمینان ہو اور گناہ سے خوشی ہو، نیکیوں سے دل گھبرائے تو وہ دل کی آواز نہیں بلکہ نفسِ اَمّارہ (گناہوں پر اُبھارنے والے نفس)کی شرارت ہے، نفس اگر دل پر غالب آجائے تو بہت پریشان کرتا ہے اور اگر دل نفس پر غالب ہو تو سُبْحَانَ اﷲ∞یہ ہی حال عقل کا ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ دل کو نفس و عقل پر غالب رکھے! آمین۔ (مراٰۃ المناجیح، ۴/۲۳۴)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
شکوک و شبہات سے بچنے کے متعلق بزرگانِ دین کے چند واقعات ملاحظہ فرمایئے :(1)قمیص اُتار کر صدقہ کردیایک عبادت گزار اور نیک خاتون نے حضرتِ سَیِّدُنا اِبْرَاھِیْم خَوَّاصعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْوَھَّاب سے عرض کی کہ میں اپنے دل میں کچھ تَغَیُّر محسوس کررہی ہوں۔ فرمایا :یاد کر(کوئی خطا تو نہیں ہوئی؟) کہنے لگی میں نے بہت یاد کیا مگر کچھ یاد نہیں آرہا ۔انہوں نے ایک گھڑی سر جھکا لیا اور فرمایا: کیا تمہیں مشعل کی رات یاد نہیں ؟ کہنے لگی:ہاں !فرمایا:یہ تَغَیُّر اسی وجہ سے ہے ۔اُسے یاد آیا کہ ایک دن وہ چھت پر اُون کات رہی تھی کہ دھاگہ ٹوٹ گیا ۔اسی وقت وہاں سے بادشاہ کی سواری گزر ی، اس نے مشعل کی رو شنی میں دھاگہ درست کر لیا اور اس سے کات کر قمیص بنائی اور اسے پہن لیا۔ بتاتے ہیں کہ اس عورت نے وہ قمیص فروخت کر کے اس کی قیمت صدقہ کردی تو قلبی صفائی وچمک دوبارہ لوٹ آ ئی۔ (قوت القلوب، ۲/۴۷۸)(2) حلال کھانا شبہ کی وجہ سے نہیں کھا یاحضرتِ سَیِّدُنا ذُوالنون مِصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کو جب قید کیا گیا تو آپ نے کئی روز تک کھانا نہ کھایا۔ ایک نیک عورت نے قید خانے میں آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کھانابھیجا اور کہا: یہ حلال کھانا ہے۔ مگر حضرت ذوالنونمِصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے وہ بھی نہیں کھا یا۔رہائی کے بعد جب اس عورت نے کھانا نہ کھانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا: وہ حلال تو تھا ،مگر میرے پاس تو حرام طریقے سے آیا تھا۔ اس عورت نے پو چھا: وہ کیسے؟ فرمایا : وہ کھانا میرے پاس داروغۂ جیل لے کر آیا تھا اور وہ ظالم ہے اس لئے میں نے نہیں کھا یا ۔ (قوت القلوب، ۲/۴۷۸)(3)اپنا دینار نہ اُٹھایامنقول ہے کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کا دینار گر گیا، تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے ، انہیں ایک ساتھ دو دینار ملے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ تھا کہ اُن کا دینار کون سا ہے تو انہوں نے دونوں دینار چھوڑ دیئے اور ایک بھی نہ اُٹھایا۔(قوت القلوب، ۲/۴۷۸)(4)شبہ کی وجہ سے تحفہ قبول نہ کیاحضرتِ سَیِّدُنا بِشْر بِنْ حارِث عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَارِثکو ایک عورت نے انگور کی ٹوکری ہدیہ کی اور کہا: یہ میرے والد کے باغ کے انگور ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے وہ ٹوکری لوٹادی ۔ عورت نے کہا: کیا آپ کو میرے والد کے انگوروں کی ملکیت اور میری وِارثت میں شک ہے حالانکہ خریداروں کے رجسٹر میں آپ کا نام بھی لکھا ہوا ہے؟ فرمایا: بے شک تو نے سچ کہا ، واقعی یہ تیرے باپ کے انگور ہیں ، لیکن تو نے انہیں خراب کردیا ہے۔ اس نے کہا: کیسے؟ فرمایا: تو نے طَاہر بِنْ حُسَیْن کی نہر سے انہیں سیراب کیا ہے۔ یہ وہ نہر تھی جو مغربی جانب گزرگاہ کو کاٹ کر بنائی گئی تھی اس لئے آپ نہ تو اس کا پانی پیتے تھے اور نہ ہی اس کے پل سے گزرتے تھے۔(قوت القلوب، ۲/۴۸۶)
نیک لوگ شبہات سے تو بچتے ہی ہیں لیکن بعض یقینی امور بھی فتنے کے خوف کی وجہ سے ترک کر دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو لوگوں کو فتنے سے بچانے کے لئے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے !جان دے کر لوگوں کو فتنے سے بچایاحضرتِ سَیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے منقول ہے کہ ’’ایک کافروظالم بادشاہ لوگوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبو ر کرتا، جو انکارکرتا اسے سخت سزائیں دے کرہلاک کر وا دیتاتھا ۔ایک مرتبہ اس زمانے کے سب سے بڑے عبادت گزار کو اِسی مقصد کے لئے بادشاہ کے پاس لایا گیا توایک عقیدت مند سپاہی نے کہا :حضور! آپ مجھے ایک بکری کا بچہ ذبح کرکے دے دیں ، جب بادشاہ خنزیر کا گوشت رکھنے کا کہے گا تو بکری کا گوشت آپ کے سامنے لے آؤں گا، بادشاہ یہ سمجھے گا کہ آپ نے اس کی خواہش کے مطابق خنزیر کا گوشت کھا لیا ہے، اس طرح آپ ہلاک ہونے سے بچ جائیں گے ۔چنانچہ، اس عابد نے بکری کا بچہ ذبح کرکے سپاہی کو دے دیا۔ جب اسے بادشاہ کے سامنے لایا گیا اوربادشاہ نے خنزیر کا گوشت لانے کاحکم دیا تو منصوبے کے مطابق وہ سپاہی بکری کا گوشت لے کرآیا۔بادشاہ نے کہا:میرے سامنے یہ خنزیر کا گوشت کھا!عابدنے کہا:میں ہرگز نہیں کھاؤں گا۔یہ سن کرسپاہی نے اشارے سے بتایا: یہ بکری کا گوشت ہے آپ بلاجھجک کھالیں !لیکن عابد نے گوشت کھانے سے صاف انکار کردیا۔ چنانچہ، ظالم بادشاہ نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔
جب اسے قتل کے لئے لے جانے لگے تو سپاہی نے پوچھا :آپ نے گوشت کیوں نہیں کھایا، بخدا! یہ بکری کا گوشت تھا، کیا آپ کو مجھ پر اعتماد نہ تھا ؟عابد نے کہا:ایسی بات نہیں بلکہ مجھے اس بات سے ڈر تھا کہ لوگ میری وجہ سے فتنے میں مبتلا ہوجائیں گے، کیونکہ جب بھی کسی کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جائے گا تووہ کہے گاکہ فلاں نے بھی تو حرام گوشت کھالیا تھا، لہٰذا ہم بھی کھالیتے ہیں۔ اس طرح لوگ میری وجہ سے بہت بڑے فتنے میں پڑ جائیں اور میں لوگوں کے لئے فتنہ ہرگز نہیں بننا چاہتا۔ یہ کہہ کر وہ عظیم عابد خاموش ہوگیااور اس کا سر تن سے جدا کردیا گیا۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ السابعۃ والستون بعد الاربعمائۃ، ص۴۰۰)
سچ بولنے والے کو قلبی سکون ملتا ہے ، نہ کبھی ندامت کا سامناکرنا پڑتا ہے ، نہ ہی ایسے الفاظ کہنے پڑتے ہیں کہ ’’کاش! میں ایسا نہ کرتا ، کاش !میں نے ایسا نہ کہا ہوتا ‘‘ سچ ہم یشہ نجات دلاتا ہے جبکہ جھوٹ بولنے والا شکوک و شبہات میں مبتلا اور بے چین رہتا ہے ،وہ سب سے پہلے تو اِسی تَرَدُّد (شک) میں رہتا ہے کہ ناجانے لوگ اس کی بات کا اعتبار کریں گے یا نہیں ، پھر اگر لوگ اس کی بات نہ مانیں تو وہ جھوٹی قسمیں کھاتا اورایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ بو ل کر گناہوں کے دَلدَل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یشہ سچ بولیں اور جھوٹ سے بچیں۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں ہم یشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا حشر صِدِّیْقِیْن کے ساتھ فرمائے !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدنی گلدستہ
’’ابو بکر‘‘(رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ) کے6حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6 مد نی پھول(1) جو چیز دل میں کھٹکے یا شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔
(2) سچائی میں دل کا سکون اور جھوٹ میں بے چینی ہی بے چینی ہے ۔
(3) نیک لوگ دوسروں کو فتنے سے بچانے کے لئے بعض جائز ومباح چیزوں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات شدید تکلیف برداشت کرتے ہیں حتی کہ اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
(4) ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو لوگوں میں تَنَفُّر کا باعث ہوں۔
(5)سچ بولنے والے کو کبھی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
(6) نیک لوگوں کا دل ہم یشہ نیک اعمال ہی پر مطمئن ہوتا ہے۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں شکوک و شبہات سے بچائے ، دِلی سکون واطمینان عطا فرمائے حق سننے ، حق سمجھنے اور حق بولنے کی توفیق مرحمت فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ٭∞…٭∞…٭∞…٭∞…٭∞…٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 55