Main Icon

باب : صدق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 58

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’غَزَا نَبِیٌّ مِّنَ الْأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ فَقَالَ لِقَوْمِہٖ:لَا یَتْبَعَنِّی رَجُلٌ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَۃٍ وَہُوَ یُرِیْدُ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا وَلَمَّا یَبْنِ بِہَا ، وَلَا أَحَدٌ بَنَی بُیُوْتًا لَمْ یَرْفَعْ سُقُوْفَہَا ، وَلَا أَحَدٌ اِشْتَرٰی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَہُوَ یَنْتَظِرُ اَوْلَادَ ہَا۔ فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْیَۃِ صَلَاۃَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِیْبًا مِنْ ذَالِکَ ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : إِنَّکِ مَأْمُوْرَۃٌ وَأَنَا مَأْمُوْرٌ ، اللہم اِحْبِسْہَا عَلَیْنَا ، فَحُبِسَتْ حَتّٰی فَتَحَ اللہُ عَلَیْہِ ، فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ ، فَجَائَ تْ یَعْنِی النَّارَ، لِتَأْکُلَہَا فَلَمْ تَطْعَمْہَا ، فَقَالَ: إِنَّ فِیْکُمْ غُلُوْلًا ، فَلْیُبَایِعْنِیْ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ رَجُلٌ ، فَلَزِقَتْ یَدُ رَجُلٍ بِیَدِہٖ فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ فَلْتُبَایِعْنِیْ قَبِیْلَتُکَ، فَلَزِقَتْ یَدُ رَجُلَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃٍ بِیَدِہٖ فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ۔ فَجَاءُ وْا بِرَأْسٍ مِّثْلِ رَأْسِ بَقَرَۃٍ مِّنَ الذَّہَبِ، فَوَضَعَہَا فَجَائَ تِ النَّارُ فَأَکَلَتْہَا، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ قَبْلَنَا، ثُمَّ أَحَلَّ اللہُ لَنَا الْغَنَائِمَ لَمَّا رَأَی ضَعْفَنَاوَعَجْزَنَا فَأَحَلَّہَا لَنَا‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ۔
(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب قول النبی: احلت لکم الغنائم، ۲/۳۴۹، حدیث:۳۱۲۴)
’’اَلْخَلِفَاتُ‘‘ بِفَتْحِ الْخَائِ الْمُعْجَمَۃِ وَکَسْرِ اللَّامِ : جَمْعُ خَلِفَۃٍ، وَھِیَ النَّاقَۃُ الْحَامِلُ

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’غزا نبی من الانبیائ صلوات اللہ وسلامہ علیھم فقال لقومہ:لا یتبعنی رجل ملک بضع امراۃ وہو یرید ان یبنی بہا ولما یبن بہا ، ولا احد بنی بیوتا لم یرفع سقوفہا ، ولا احد اشتری غنما او خلفات وہو ینتظر اولاد ہا۔ فغزا فدنا من القریۃ صلاۃ العصر او قریبا من ذالک ، فقال للشمس : إنک مامورۃ وانا مامور ، اللہم احبسہا علینا ، فحبست حتی فتح اللہ علیہ ، فجمع الغنائم ، فجائ ت یعنی النار، لتاکلہا فلم تطعمہا ، فقال: إن فیکم غلولا ، فلیبایعنی من کل قبیلۃ رجل ، فلزقت ید رجل بیدہ فقال: فیکم الغلول فلتبایعنی قبیلتک، فلزقت ید رجلین او ثلاثۃ بیدہ فقال: فیکم الغلول۔ فجاء وا براس مثل راس بقرۃ من الذہب، فوضعہا فجائ ت النار فاکلتہا، فلم تحل الغنائم لاحد قبلنا، ثم احل اللہ لنا الغنائم لما رای ضعفناوعجزنا فاحلہا لنا‘‘۔ متفق علیہ۔
(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب قول النبی: احلت لکم الغنائم، ۲/۳۴۹، حدیث:۳۱۲۴)
’’الخلفات‘‘ بفتح الخائ المعجمۃ وکسر اللام : جمع خلفۃ، وھی الناقۃ الحامل

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم،رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ایک نبی عَلَیْہِ السَّلام نے جہادکے لئے تشریف لے جاتے ہوئے اپنی قوم سے فرمایا: وہ شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور ابھی تک شبِ زفاف نہ گزاری ہواور وہ ایسا کرنا چاہتا ہو اور وہ شخص بھی نہ آئے جس نے مکان بنایا ہو اور چھت نہ ڈالی ہو۔ اور وہ شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان کے بچوں کا منتظر ہو۔‘‘ یہ فرما کر وہ جہاد کے لئے چل دئیے اور نماز عصر کے وقت ایک بستی کے پاس پہنچے، سورج سے فرمایا :تو بھی حکمِ خدا کا پابند ہے اور میں بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم پر مامور ہوں۔ اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! اسے ہمارے لئے روک دے۔ چنانچہ، سورج رُک گیا یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے انہیں فتح عطا فرمائی، پھر انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا پھر آگ اسے کھانے آئی مگر نہ کھایا ،نبی ( عَلَیْہِ السَّلام ) نے لوگوں سے فرمایا: تم میں سے کسی نے مالِ غنیمت میں خیانت کی ہے ،لہٰذا ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ، ایک آدمی کا ہاتھ نبی ( عَلَیْہِ السَّلام )کے ہاتھ سے چپک گیا ، فرمایا :خائن تمہارے قبیلے سے ہے ،لہٰذا تمہارا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے ۔چنانچہ، دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ فرمایا :تم نے خیانت کی ہے۔ چنانچہ، وہ لوگ گائے کے سر کے برابر سونا لے کر آئے اور اسے بھی مال غنیمت میں رکھ دیا گیا۔ پھر آگ آئی اور اسے کھا گئی (جلا دیا) ۔ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ہم سے پہلے کسی کے لئے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا لیکن جب اللہ عزَّوَجَلَّ نے ہم اری کمزوری اورعِجز کو دیکھا تو اسے ہمارے لئے حلال کر دیا ۔
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اَلْخَلِفَاتُ‘‘میں خاء پر زبر اور لام پر کسر ہ ہے اور یہ خَلِفَۃٌ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے حاملہ اونٹنی۔

شرح حدیث

جہاد سے ممانعت کی وجہحضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرْقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ان لوگوں کو جہاد سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ چیزوں کی طرف دھیان کرنا ، اہم کام کے مضبوط اِرادے کو کمزور کردے گا (کیونکہ توجہ بٹ جائے گی )اور نتیجہ یہ ہوگا کہ جہاد جیسا اہم کام صحیح طور پر نہیں ہوسکے گا۔ علامہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہے: اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہم معاملات ایسے عقل مند ومضبوط ارادے والے لوگوں کے سپرد کئے جائیں جو فارِغُ الْبال ہوں (تاکہ ان کی پوری توجہ کام کی طرف رہے ) ۔اہم اُمور ایسے لوگوں کے سپرد نہیں کرنے چاہئیں جن کے دل دیگر کاموں میں بھی مشغول ہوں۔کیونکہ یہ مشغولیت مضبوط اِرادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجہاد، باب قسمۃ الغنائم والغلول فیھا، ۷/۵۹۹، تحت الحدیث:۴۰۳۳)حضرتِ سَیِّدُنا یوشع بن نونعَلَیْہِ السَّلامکے لئے سورج کا ٹھہر ناعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :وہ نبی حضرتِ سَیِّدُنایُوْشَعْ بِنْ نُوْن عَلَیْہِ السَّلام تھے۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کے دنیا سے پردہ فرما نے کے چالیس سال بعد اللہ عزَّوَجَلَّ نے اُنہیں مبعوث فرمایا ،انہوں نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ میں اللہ عزَّوَجَلَّ کا نبی ہوں اور اللہ عزَّوَجَلَّ نے مجھے قوم جَبَّارِین سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنی اسرائیل نے ان کی تصدیق کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کی ۔پھر انہوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اُرَیْحا ( نامی بستی )کا قَصد فرمایا ، اُن کے پاس تابوتِ میثاق بھی تھا انہوں نے چھ مہینے تک اس بستی کا احاطہ کئے رکھا ، ساتویں مہینے اس بستی کی دیواریں گرانے میں کامیاب ہوئے، توانہوں نے بستی میں داخل ہوکر قومِ جَبَّارِین سے جہاد شروع کر دیا۔ یہ جمعہ کا دن تھا ۔پورے دن جہاد ہوتا رہا لیکن ابھی جہاد مکمل نہ ہوا تھا ۔ قریب تھا کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہفتے کی رات شروع ہو جاتی ( ان کی شریعت میں ہفتے کو جہاد جائز نہ تھا۔ مرقاۃ، ج۷، ص۶۶۰) چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا یوشع عَلَیْہِ السَّلام کو خوف ہوا کہ کہیں اُن کی قوم عاجز نہ آجائے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے دعا کی :اے اللہ عزَّوَجَلَّ سورج کو واپس لوٹا دے! انہوں نے سورج سے کہا: تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی اطاعت پر مامور ہے اور میں بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم کا پابند ہوں ، یعنی تو غروب ہونے پر مامور ہے اور میں نماز پڑھنے پر یا غروب سے پہلے قتال کرنے پر مامور ہوں ، پس اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کے لئے سورج کو ٹھہرادیا اور غروبِ آفتاب سے قبل انہیں فتح نصیب ہوگئی ۔ ( عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، ۱۰/۴۵۳- ۴۵۴، تحت الحدیث:۳۱۲۴)نبیِ آ خرالزماں (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے لئے سورج کا رُکناعلامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : شبِ اَسرٰی کے دولہا ،دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب معراج سے مَکَّۂ مُکَرَّمَہ تشریف لائے توآپ نے لوگوں کو خبر دی کہ میں نے فلاں قبیلے کے اونٹ مقامِ ’’ضَجْنَان‘‘ میں دیکھے تھے اور اب وہ تَنْعِیْمِ بَیْضَائ(ایک جگہ کا نام ہے )کے پہاڑی راستے کے قریب پہنچ چکے ہیں ،اُن میں سے جو اونٹ آگے ہے اس پر دو دھاریوں والا کپڑا ہے ۔وہ قافلہ فلاں دن سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے فلاں مقام پر پہنچ جائے گا ۔ چنانچہ، لوگ اس جگہ پہنچ گئے ۔ سورج غروب ہونے والا تھالیکن قافلہ ابھی تک نہ پہنچاتھا۔ یہ دیکھ کر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی توسورج اپنی جگہ ٹھہر گیا اور فرمانِ مصطفیٰ کے مطابق سورج غروب ہونے سے پہلے قافلہ وہاں پہنچ گیا اور نبی غیب دان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جیسی خبر دی تھی لوگوں نے ویسا ہی پایا۔ ( ملخصاًعمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، ۱۰/۴۵۳، تحت الحدیث:۳۱۲۴ )( مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجہاد، باب قسمۃ الغنائم والغلول فیھا، ۷/۶۰۰، تحت الحدیث:۴۰۳۳)غزوۂ خندق میں سورج کی واپسیغزوۂ خندق میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کفار سے جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے نماز عصر نہ پڑھ سکے یہاں تک کے سورج غروب ہوگیاتو اللہ عزَّوَجَلَّ نے سورج کو واپس لوٹادیا اورآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز عصر ادا فرمائی۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجہاد، باب قسمۃ الغنائم والغلول فیھا، ۷/۶۰۰، تحت الحدیث:۴۰۳۳)سَیِّدُنامولا علیکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے لئے سورج واپس ہوادعائے نبی کی برکت سے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ، علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے لئے سورج کو واپس لوٹایا گیا ۔ چنانچہ ،حضرتِ سَیِّدَتُنا اسماء بِنْتِ عُمَیْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے زانوں پر سررکھ کر سو گئے ۔ مولا علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نمازِ عصر نہیں پڑھی تھی سورج غروب ہورہا تھا۔ حضرت علی نے آرامِ نبی کا خیال رکھتے ہوئے بالکل بھی جُنْبِش (حرکت) نہ کی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ جب سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نیند سے بیدار ہوئے تو حضرت علی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی :یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی۔ سرکار دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عزَّوَجَلَّ سے دعا کی :اے مالک و مولیٰ عزَّوَجَلَّ !تیرے بندے علی نے تیرے نبی کی خاطر اپنے آپ کو نماز سے روکے رکھا تو اِس کے لیے سورج کو لوٹا دے۔ حضرتِ سَیِّدَتُنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ دعائے نبی کی برکت سے سورج واپس نکل آیا یہاں تک کہ پہاڑ اور زمین کے مابین واقع ہوگیا ۔ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کھڑے ہوئے وضو فرمایا اور نمازِعصر اپنے وقت میں اداکی ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، ۱۰/۴۵۳، تحت الحدیث:۳۱۲۴)
اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کوپھیر لیا گئے ہوئے دن کو عصر کیایہ تاب و تواں تمہارے لئے
مولیٰ علی نے واری تری نیند پر نماز اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
حضرتِ سَیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلامکے لئے طلوع آفتاب کامؤخرہوناحضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے بھی طلوعِ آفتاب میں تاخیر کردی گئی تھی۔چنانچہ، منقول ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سَیِّدُناموسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلَیْہِ السَّلام کوبنی اسرائیل کے ساتھ جانے اور حضرتِ سَیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلام کا تابوت اٹھانے کا حکم دیا۔ چنانچہ، آپ عَلَیْہِ السَّلام نے طلوعِ آفتاب کے وقت بنی اسرائیل کے ساتھ چلنے کا وعدہ فرمایا اور تابوت تلاش کرنے لگے ۔تابوت کے بارے میں چونکہ رہنمائی نہ کی گئی تھی(کہ کہاں ہے) اس لئے (تابوت ڈھونڈتے ہوئے)ساری رات گزر گئی اور آفتاب طلوع ہونے کے قریب ہو گیا۔یہ دیکھ کرآپ عَلَیْہِ السَّلام نے بارگاہِ خدا وندی میں عرض کی: یا اللہ عزَّوَجَلَّ ! تابوت ملنے تک طلوعِ آفتاب کو مؤ خر فرما دے ! اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور طلوع آفتاب کو مؤخر کردیا۔ ( عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، ۱۰/۴۵۳، تحت الحدیث:۳۱۲۴)آسمان سے آگ آکر کھالیتی تھیعلامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :’’سابقہ امتوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ مالِ غنیمت جمع کر کے ایک جگہ رکھ دیا جاتا ،پھر آسمان سے آگ آتی اور اسے جَلا دیتی اور یہ قبول ہونے کی علامت ہوتی ۔ اسی لئے جب آگ آئی اوراس نے مال غنیمت کو نہ جلایا تو معلوم ہوگیا کہ مالِغنیمت میں خیانت کی گئی ہے۔پھر جب وہ مال واپس کردیا گیا تو آگ نے آکر سارے مال غنیمت کو جلا دیا۔ اسی طرح قربانیوں کا معاملہ تھا کہ جسے آسمانی آگ جلا دیتی وہ قبول ہوتی اور جسے نہ جلاتی وہ نامقبول ہوتی ۔‘‘ (شرح مسلم للنووی، کتاب الجہاد والسیر، باب تحلیل الغنائم لہذا الامۃ خاصۃ، ۶/۵۲، الجزء الثانی عشر)اُمتِ مُحَمَّدیہ پر خاص کرمعَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فتحُ الباریمیں حدیث شریف کے حصے ’’لَمَّا رَأَی ضَعْفَنَا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عاجزی کرنے سے اس کا فضل نصیب ہوتا ہے۔ مالِ غنیمت کا حلال ہونا اس امت کے لئے خاص ہے اور اس کی اِبتدا غزوۂ بدر سے ہوئی، غزوۂ بدر کے موقع پر یہ آیتِ طیبہ نازل ہوئی تھی :فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ(پ۱۰، الانفال:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان :تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ۔
پس اللہ عزَّوَجَلَّ نے ان کے لئے مالِ غنیمت حلال فرمادیا اور یہ حضرت عَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا کی حدیثِ صحیح سے ثابت ہے ۔ (فتح الباری، کتاب فرض الخمس، باب قول النبی احلت لکم ، ۷/۱۸۲، تحت الحدیث:۳۱۲۴)
حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ چند لوگوں کی خیانت کی وجہ سے تمام مالِ غنیمت نامقبول ہوگیا ۔ اس سے خیانت کی قباحت کابخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
خیانت کی مَذَمَّت پر مشتمل چند روایات ملاحظہ فرمائیے:
خائن کی رسوائیحضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :’’قیامت کے دن ہر خیانت کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا جس سے اس کی پہچان ہو گی۔‘‘ (کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال،باب الغدر، ۲/۲۰۷، حدیث:۷۶۸۶، الجزء الثالث)خیانت مُنافَقت کی علامت ہےنبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’جس شخص میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نِفاق کی ایک علامت پائی جائے گی یہاں تک کہ وہ اُسے چھوڑ دے، اور وہ خصلتیں یہ ہیں : (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے (۳)جب عہد کرے تو دھوکا دے اور (۴)جب کسی سے جھگڑے تو گالی دے۔‘‘(بخاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق، ۱/۲۵، حدیث:۳۴)مومن خائن نہیں ہوسکتاسیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خائن (یعنی خیانت کرنے والا )نہیں ہوسکتا۔‘‘ (جامع الاحادیث، قسم الاقوال، ۹/۳۰۱، حدیث:۲۸۵۸۵)مدنی گلدستہ
امانت‘‘کے5 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراوراس کی وضاحت سے ملنے والے5 مدنی پھول
(1)کوئی بھی اہم کا م کرنے کے لئے پوری توجہ صرف اسی کام کی طرف ہونی چاہئے۔
(2) اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے نیک بندوں کی خاطر نظامِ کائنات کو بھی بدل دیتا ہے۔
(3) پہلی امتوں میں غنیمت اور قربانی کی قبولیت کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے آگ آکر اُسے جلا دیتی تھی۔
(4) پہلی امتوں کے لئے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا، یہ اسی امت کا خاصہ ہے۔
(5) مومنِ کامل کبھی بھی خیانت نہیں کرتا مومن امانت دار ہوتا ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 58