- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صدق کا بیان
- حدیث نمبر 57
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِیْ ثَابِتٍ وَقِیْلَ أَبِی سَعِیْدٍ وَقِیْلَ أَبِی الْوَلِیْدِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ وَھُوَ بَدْرِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ مَنْ سَأَلَ اللہَ تَعَالٰی الشَّہَادَۃَ بِصِدْقٍ بَلَّغَہُ اللہُ مَنَازِلَ الشُّہَدَآئِ ، وَإِنْ مَّاتَ عَلٰی فِرَاشِہٖ۔ ‘‘رَوَاہُ مُسْلِمٌ(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب استحباب طلب الشہادۃ فی سبیل اللہ، ص۱۰۵۷، حدیث:۱۹۰۹)
عن ابی ثابت وقیل ابی سعید وقیل ابی الولید سہل بن حنیف وھو بدری رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:’’ من سال اللہ تعالی الشہادۃ بصدق بلغہ اللہ منازل الشہدائ ، وإن مات علی فراشہ۔ ‘‘رواہ مسلم(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب استحباب طلب الشہادۃ فی سبیل اللہ، ص۱۰۵۷، حدیث:۱۹۰۹)
حدیث ترجمہ
ابو ثابت یا ابو سعید یا ابو ولید سَہْل بِنْ حُنَیْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ جو کہ بدری صحابی ہیں ان سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جو شخص سچے دل سے اللہ عزَّوَجَلَّ سے شہادت کا سوال کرے اللہ عزَّوَجَلَّ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز فرمائے گااگر چہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہو ۔ ‘‘
شرح حدیث
حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِنْ حُنَیْفرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُحضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِنْ حُنَیْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ بَد رِی صحابی ہیں ، جنگِ بدر میں شریک ہوئے، آپ اُس وقت حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ثابت قدم رہے جب لوگوں کے قدم اُکھڑ گئے تھے ۔ اُس دن آپ نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے موت پر بیعت کی، حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِنْ حُنَیْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی صحبت اختیار کی ۔بصرہ جاتے ہوئے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے آپ کو اپنا نائب بنایا تھا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کو فارس کا حاکم بھی بنایاگیا۔ ۳۸ھ میں آپ کا وصال مبارَک کوفہ میں ہوا۔ (اسد الغابۃ، ۲/۵۴۵ )سچی نیت مطلوب و مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ہےحضرت علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی ’’دَلِیْلُ الْفَالِحِیْن شرحِ ریاضُ الصَّالِحِیْن‘‘ میں فرماتے ہیں :’’ جو اللہ عزَّوَجَلَّ سے سچے دل سے شہادت کا سوال کرے اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اس کی سچی نیت کی برکت سے شہدا کے اعلیٰ مرتبے پر فائز فرمائے گا اگر چہ وہ اپنے بستر پر ہی مر جائے۔ اس حدیث میں بیان ہوا کہ سچی نیت مطلوب و مقصد تک پہنچنے کا سبب ہے، جو کسی نیک کام کی سچی نیت کرے اسے اس عمل کا ثواب ملے گا اگرچہ وہ( کسی مجبوری کی وجہ سے) اس نیک کام کو نہ کر سکے۔‘‘(دلیل الفالحین، ۱/۲۱۳)
مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرْقَاۃ شرحِ مشکٰوۃمیں فرماتے ہیں :’’اگر وہ شخص شہید نہ مرا تو شہید کے حکم میں ہوگا اوراس کو شہید کا ثواب ملے گا ۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجہاد، باب الکتاب الی الکفار ودعائہم الی الاسلام، ۷/۳۷۲، تحت الحدیث:۳۸۰۷)شہادت کی دعا کرنا مستحب ہےعلامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :’’ اگر کوئی شخص سچے دل سے شہادت کا سوال کرے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اسے شہید کا ثواب عطا فرمادیتا ہے اگرچہ اس کا انتقال بستر ہی پر ہوا ہو ۔ شہادت کا سوال کرنا مستحب ہے اور اس میں اچھی نیت ہونا بھی مستحب ہے۔‘‘ (شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب استحباب طلب الشہادۃ فی سبیل اللہ ، ۷ /۵۵، الجزء الثالث عشر)شہدا کا مرتبہسب سے بلند مرتبہ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام کا پھر صِدِّیْقِیْن کا اور پھر شہدا کا مرتبہ ہے ۔قراٰنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹)(پ۵، النساء:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔راہِ خدامیں شہید ہونے کاثواب
اس بارے میں احادیث ِمُقَدَّسَہ :(1) حضرتِ سَیِّدُناسمرہ بن جندب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ گزشتہ رات میں نے دیکھا کہ دوشخص میرے پاس آئے اور مجھے ساتھ لے کر ایک درخت کے اوپر چڑھ گئے اور مجھے ایک بہت خوبصورت اورفضیلت والے گھر میں داخل کردیا،میں نے اس جیسا گھر کبھی نہیں دیکھا تھا پھر انہوں نے مجھ سے کہا: کہ ’’یہ شُہَدَا کا گھر ہے ۔‘‘(بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاھدین فی سبیل اللہ ، ۲/۲۵۱، حدیث:۲۷۹۱)
(2)حضرتِ سَیِّدُناراشد بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَحَد ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیا وجہ ہے کہ قبر میں سب مسلمانوں کا امتحان ہوتا ہے لیکن شہید کا نہیں ہوتا؟ ارشاد فرمایا: اس کے سر پر تلواروں کی بجلی گرناہی اس کے امتحان کے لئے کافی ہے۔ (نسائی، کتاب الجنائز، باب الشہید، ص۳۴۵، حدیث:۲۰۵۰)
(3) حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’ شہید کو قتل ہوتے وقت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چٹکی کی تکلیف ہوتی ہے ۔‘‘(ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی فضل المرابط، ۳/۲۵۲، حدیث:۱۶۷۴)
(4) حضرتِ سَیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب لوگ حساب کے لئے کھڑے ہوں گے تو ایک قوم اپنی تلوار یں اپنی گردنوں پررکھے ہوئے آئے گی جن سے خون بہہ رہا ہوگا اور جنت کے دروازے پر آکر بِھیڑ کر دے گی، پوچھا جائے گا: یہ کون ہیں ؟ جواب دیاجائے گا: یہ شہدا ہیں جو زندہ تھے اور رزق دئیے جاتے تھے۔ (معجم الاوسط، ۱/۵۴۲، حدیث:۱۹۹۸)شہید کون؟حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :تم شہدا میں کسے شمار کرتے ہو ؟ صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان نے عرض کی: جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے ۔شفیق و مہربان آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اس طرح تو میری امت میں شہید بہت کم ہوں گے۔ صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !(اس کے علاوہ )اور کون شہید ہے؟ فرمایا:جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے ،جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے ،جو طاعون میں مبتلا ہوکر مرے وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرے وہ بھی شہید ہے ۔حضرتِ سَیِّدُنااِبْنِ مِقْسَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو صالح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو سمندر میں ڈوب کر مرے وہ بھی شہید ہے ۔ایک روایت میں ہے کہ شہدا پانچ ہیں (۱)طاعون میں مبتلا ہوکر مرنے والا (۲) پیٹ کی بیماری کے سبب مرنے والا (۳)سمندرمیں ڈوب کر مرنے والا (۴)ملبے تلے دب کر مرنے والا (۵) اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا جانے والا ۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب بیان الشہدائ، ص۱۰۶۰، حدیث:۱۹۱۴)شہید کی اقسامبہارِ شریعت میں ہے: شہادت صرف اسی کا نام نہیں کہ جہاد میں قتل کیا جائے بلکہ ایک حدیث میں فرمایا: اس کے سوا سات شہادتیں اور ہیں :
(1)جو طاعون سے مرا شہید ہے۔
(2)جو ڈوب کر مرا شہید ہے۔
(3)ذَاتُ الْجَنْب میں (پسلیوں کے درد کی وجہ سے) مرا شہید ہے۔
(4) جو پیٹ کی بیماری میں مرا شہید ہے۔
(5) جو جل کر مرا شہید ہے۔
(6)جس کے اوپر دیوار وغیرہ گر پڑے اور مر جائے شہید ہے۔
(7) عورت کہ بچہ پیدا ہونے یا کنوارے پن میں مر جائے شہید ہے۔
امام احمد کی روایت حضرتِ سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:طاعون سے بھاگنے والا اس کے مثل ہے ،جو جہادسے بھاگا اور جو صبر کرے اس کے لیے شہید کا اجر ہے۔‘‘
(8) ابن ماجہ کی روایت ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم اسے ہے کہ ارشاد فرمایا مسافرت کی موت شہادت ہے۔
ان کے سوا اور بہت صورتیں ہیں جن میں شہادت کا ثواب ملتا ہے، امام جلال الدین سیوطی وغیرہ ائمہ نے ان کو ذکر کیا ہے۔ بعض یہ ہیں :
(9) سِل(ایک بیماری (ہے)جس سے پھیپڑوں میں زخم ہو جاتے ہیں اور منہ سے خون آنے لگتا ہے) کی بیماری میں مرا۔
(10) سواری سے گِر کر یا مر گی سے مرا۔
(11)بخار میں مرا۔
(12) مال یا
(13) جان یا
(14) اہل یا
(15) کسی حق کے بچانے میں قتل کیا گیا۔
(16) عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور چھپایا ہو۔
(17) کسی درندہ نے پھاڑ کھایا۔
(18) بادشاہ نے ظلماً قید کیا یا۔
(19) مارا اور مر گیا۔
(20) کسی موذی جانور کے کاٹنے سے مرا۔
(21) علم دین کی طلب میں مرا۔
(22) مؤذن کہ طلب ثواب کے لیے اذان کہتا ہو۔
(23) تاجر راست گو۔
(24) جسے سمندر کے سفر میں متلی اور قے آئی۔
(25) جو اپنے بال بچوں کے لیے سعی کرے، ان میں امر الٰہی قائم کرے اور انھیں حلال کھلائے۔
(26) جو ہر روز پچیس بار یہ پڑھے اللھُمَّ بِارِکْ لِیْ فِی الْمَوْتِ وَفِیْمَا بَعْدَ الْمَوْتِ۔
(27) جو چاشت کی نماز پڑھے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھے اور وتر کو سفر و حضر میں کہیں ترک نہ کرے۔
(28) فسادِ اُمّت کے وقت سنت پر عمل کرنے والا، اس کے لیے سو شہید کا ثواب ہے۔
(29) جو مرض میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُـنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ چالیس بار کہے اور اسی مرض میں مر جائے اور اچھا ہوگیا تو اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
(30) کفار سے مقابلہ کے لیے سرحد پر گھوڑا باندھنے والا۔
(31) جوہر رات میں سورۂ یٰس شریف پڑھے۔
(32) جو با طہارت سویا اور مر گیا۔
(33) جو نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سو بار دُرُود شریف پڑھے۔
(34) جو سچے دل سے یہ سوال کرے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا جاؤں۔
(35) جو جمعہ کے دن مرے۔
(36) جو صبح کو اَعُوْذُ بِ اللہ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ تین بار پڑھ کر سورۂ حشر کی پچھلی تین آیتیں پڑھے، اللہ عزَّوَجَلَّ ستر ہزار فرشتے مقرر فرمائے گا کہ اس کے لیے شام تک استغفار کریں اور اگر اس دن میں مرا تو شہید مرا اور جو شام کو کہے(تو) صبح تک کے لیے یہی بات ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱/۸۵۷ ۔۸۶۰، حصہ۴)موت کی تمنّا ناجائز اور شہادت کی تمنّا مستحب کیوں ؟سوال: ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں تو موت کی تمنا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے تو پھر شہادت کی دعا
مانگنے یا تمنا کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
جواب: مصیبتوں ، پریشانیوں اور تنگ دستیوں وغیرہ سے تنگ آکر موت کی تمنا کرنا ناجائز و ممنوع ہے جب کہ لقائِ الٰہی کے اشتیاق میں اور دینِ حق کی سر بلندی کے لئے موت کی تمنا کرنا جائز بلکہ مستحب و مستحسن ہے۔(ملخصاًفضائلِ دعا ،ص ۱۸۲)
نوٹ: مزید تفصیل کے لئے حدیث نمبر 40 کا مطالعہ فرمائیے!مدنی گلدستہ
’’شہید ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراوراس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول(1)جو شخص کوئی نیک کام کرنے کا پکا ارادہ کرے اور کسی وجہ سے نہ کر پائے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اچھی نیت کے سبب اُسے عمل کا ثواب عطا فرمادیتا ہے ۔
(2) شہادت کی دعا مانگنا مستحب ہے۔
(3) شہدا کا درجہ بہت بلند ہے کہ صدیقین کے بعد شہدا کا درجہ ہے ۔
(4) جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں دین کی سربلندی کے لئے اپنی جان قربان کر دے وہ سب سے اعلیٰ شہید ہے۔
یا اللہ عزَّوَجَلَّ !ہمیں ایمان و عافیت کے ساتھ مدینۂ منورہ میں شہادت کی موت ، جَنَّتُ الْبَقِیْع میں مدفن اور جَنَّتُ الْفِرْدَوْس میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس عطا فرما !
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 57