- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : صدق کا بیان
باب : صدق کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 1
حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ،نورِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بے شک! سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بے شک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں صِدِّیْق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ بے شک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں کَذّاب (یعنی بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھ دیا جاتا ہے ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ إِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِیْ إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ یَہْدِیْ إِلَی الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَصْدُقُ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللہِ صِدِّیْقًا، وَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِیْ إِلَی الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ یَہْدِیْ إِلَی النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللہِ کَذَّابًا‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (بخاری، کتاب الادب،باب قول اللہ تعالی یایھا الذین امنوا اتقوا…الخ، ۴/۱۲۵، حدیث:۶۰۹۴)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 54 ، باب : صدق کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ بات یاد کی ہے کہ ’’جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دے اور جس میں شک نہ ہو اسے اختیار کر۔ بے شک! سچائی میں سکونِ قلب ہے اور جھوٹ شک و تہم ت کا مُوجِب ہے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ مُحَمَّدَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا، قال:حَفِظْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’دَعْ مَا یَرِیْبُکَ إِلَی مَا لَا یَرِیْبُکَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِینَۃٌ، وََّالْکَذِبَ رِیْبَۃٌ ‘‘۔رَوَاہُ التِّرْمِذِی(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۳۲، حدیث:۲۵۲۶)
قَالَ النَّوَوِی: قَوْلُہ: ’’یَرِیْبُکَ‘‘ ھُوَ بِفَتْحِ الْیَائِ وَضَمِّھَا: وَمَعْنَاہُ: اُتْرُکْ مَاتَشُکُّ فِیْ حِلِّہِ ، وَاعْدِلْ اِلٰی مَالَا تَشُکُّ فِیْہِ۔
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 55 ، باب : صدق کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو سُفْیَان صَخْر بِنْ حَرْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ واقعۂ ہرقل کی طویل حدیث میں فرماتے ہیں : ہرقل نے پوچھا وہ نبی ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ ابو سفیان) رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ( فرماتے ہیں :میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ ایک اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اپنے آباء و اَجداد کی باتوں کو چھوڑدو، نیز وہ ہمیں نماز پڑھنے ، سچ بولنے، پاکدامن رہنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
عَنْ اَبِیْ سُفْیَانَ صَخْرِ بْنِ حَرْبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، فِیْ حَدِیْثِہٖ الطَّوِیْلِ فِیْ قِصَّۃِ ھِرَقْلَ ، قَال ھِرَقْلُ: فَمَا ذَا یَأْمُرُکُمْ یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَبُوْ سُفْیَانَ : قُلْتُ: یَقُوْلُ: ’’ اُعْبُدُوْا اللہَ وَحْدَہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَاتْرُکُوْا مَا یَقُوْلُ اٰبَاؤُکُمْ ، وَیَأْمُرُنَا بِالصَّلَاۃِ، وَالصِّدْقِ، وَالْعَفَافِ، وَالصِّلَۃِ ‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ ۔(بخاری، کتاب بدء الوحی، ۱/۱۰، حدیث:۷)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 56 ، باب : صدق کا بیان
ابو ثابت یا ابو سعید یا ابو ولید سَہْل بِنْ حُنَیْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ جو کہ بدری صحابی ہیں ان سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جو شخص سچے دل سے اللہ عزَّوَجَلَّ سے شہادت کا سوال کرے اللہ عزَّوَجَلَّ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز فرمائے گااگر چہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہو ۔ ‘‘
عَنْ أَبِیْ ثَابِتٍ وَقِیْلَ أَبِی سَعِیْدٍ وَقِیْلَ أَبِی الْوَلِیْدِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ وَھُوَ بَدْرِیٌّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ مَنْ سَأَلَ اللہَ تَعَالٰی الشَّہَادَۃَ بِصِدْقٍ بَلَّغَہُ اللہُ مَنَازِلَ الشُّہَدَآئِ ، وَإِنْ مَّاتَ عَلٰی فِرَاشِہٖ۔ ‘‘رَوَاہُ مُسْلِمٌ(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب استحباب طلب الشہادۃ فی سبیل اللہ، ص۱۰۵۷، حدیث:۱۹۰۹)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 57 ، باب : صدق کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم،رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’ایک نبی عَلَیْہِ السَّلام نے جہادکے لئے تشریف لے جاتے ہوئے اپنی قوم سے فرمایا: وہ شخص میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور ابھی تک شبِ زفاف نہ گزاری ہواور وہ ایسا کرنا چاہتا ہو اور وہ شخص بھی نہ آئے جس نے مکان بنایا ہو اور چھت نہ ڈالی ہو۔ اور وہ شخص بھی نہ آئے جس نے بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان کے بچوں کا منتظر ہو۔‘‘ یہ فرما کر وہ جہاد کے لئے چل دئیے اور نماز عصر کے وقت ایک بستی کے پاس پہنچے، سورج سے فرمایا :تو بھی حکمِ خدا کا پابند ہے اور میں بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم پر مامور ہوں۔ اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! اسے ہمارے لئے روک دے۔ چنانچہ، سورج رُک گیا یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے انہیں فتح عطا فرمائی، پھر انہوں نے مالِ غنیمت جمع کیا پھر آگ اسے کھانے آئی مگر نہ کھایا ،نبی ( عَلَیْہِ السَّلام ) نے لوگوں سے فرمایا: تم میں سے کسی نے مالِ غنیمت میں خیانت کی ہے ،لہٰذا ہر قبیلے سے ایک ایک آدمی آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ، ایک آدمی کا ہاتھ نبی ( عَلَیْہِ السَّلام )کے ہاتھ سے چپک گیا ، فرمایا :خائن تمہارے قبیلے سے ہے ،لہٰذا تمہارا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے ۔چنانچہ، دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ فرمایا :تم نے خیانت کی ہے۔ چنانچہ، وہ لوگ گائے کے سر کے برابر سونا لے کر آئے اور اسے بھی مال غنیمت میں رکھ دیا گیا۔ پھر آگ آئی اور اسے کھا گئی (جلا دیا) ۔ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ہم سے پہلے کسی کے لئے مالِ غنیمت حلال نہیں تھا لیکن جب اللہ عزَّوَجَلَّ نے ہم اری کمزوری اورعِجز کو دیکھا تو اسے ہمارے لئے حلال کر دیا ۔
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اَلْخَلِفَاتُ‘‘میں خاء پر زبر اور لام پر کسر ہ ہے اور یہ خَلِفَۃٌ کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے حاملہ اونٹنی۔
عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’غَزَا نَبِیٌّ مِّنَ الْأَنْبِیَائِ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ فَقَالَ لِقَوْمِہٖ:لَا یَتْبَعَنِّی رَجُلٌ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَۃٍ وَہُوَ یُرِیْدُ أَنْ یَبْنِیَ بِہَا وَلَمَّا یَبْنِ بِہَا ، وَلَا أَحَدٌ بَنَی بُیُوْتًا لَمْ یَرْفَعْ سُقُوْفَہَا ، وَلَا أَحَدٌ اِشْتَرٰی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَہُوَ یَنْتَظِرُ اَوْلَادَ ہَا۔ فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْیَۃِ صَلَاۃَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِیْبًا مِنْ ذَالِکَ ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : إِنَّکِ مَأْمُوْرَۃٌ وَأَنَا مَأْمُوْرٌ ، اللہم اِحْبِسْہَا عَلَیْنَا ، فَحُبِسَتْ حَتّٰی فَتَحَ اللہُ عَلَیْہِ ، فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ ، فَجَائَ تْ یَعْنِی النَّارَ، لِتَأْکُلَہَا فَلَمْ تَطْعَمْہَا ، فَقَالَ: إِنَّ فِیْکُمْ غُلُوْلًا ، فَلْیُبَایِعْنِیْ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ رَجُلٌ ، فَلَزِقَتْ یَدُ رَجُلٍ بِیَدِہٖ فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ فَلْتُبَایِعْنِیْ قَبِیْلَتُکَ، فَلَزِقَتْ یَدُ رَجُلَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃٍ بِیَدِہٖ فَقَالَ: فِیْکُمُ الْغُلُوْلُ۔ فَجَاءُ وْا بِرَأْسٍ مِّثْلِ رَأْسِ بَقَرَۃٍ مِّنَ الذَّہَبِ، فَوَضَعَہَا فَجَائَ تِ النَّارُ فَأَکَلَتْہَا، فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ قَبْلَنَا، ثُمَّ أَحَلَّ اللہُ لَنَا الْغَنَائِمَ لَمَّا رَأَی ضَعْفَنَاوَعَجْزَنَا فَأَحَلَّہَا لَنَا‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ۔
(بخاری،کتاب فرض الخمس،باب قول النبی: احلت لکم الغنائم، ۲/۳۴۹، حدیث:۳۱۲۴)
’’اَلْخَلِفَاتُ‘‘ بِفَتْحِ الْخَائِ الْمُعْجَمَۃِ وَکَسْرِ اللَّامِ : جَمْعُ خَلِفَۃٍ، وَھِیَ النَّاقَۃُ الْحَامِلُ
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 58 ، باب : صدق کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو خَالِد حَکِیْم بِنْ حِزَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ،نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’بائع ومشتری (بیچنے والے اور خریدنے والے )کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔پس اگر وہ سچ بولیں اور (عیب) بیان کردیں تو ان کے سودے میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر وہ (عیب) چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کے سودے سے برکت اٹھالی جا تی ہے ۔ ‘‘
عَنْ أَبِیْ خَالِدٍ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَا لَمْ یَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُوْرِکَ لَہم ا فِیْ بَیْعِہم ا، وَإِنْ کَتَمَا وَکَذَبَا مُحِقَتْ بَرَکَۃُ بَیْعِہما‘‘۔ مُتَّفَقٌعَلَیْہ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب اذا بین البیعان …الخ، ۲/۱۳، حدیث:۲۰۷۹)
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 59 ، باب : صدق کا بیان