Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 733

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَاْكُلُ طَعَامًافِی سِتَّةٍ مِنْ اَصْحَابِهِ فَجَاءَ اَعْرَابِيٌّ فَاَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اَمَا اِنَّهُ لَوْ سَمّٰی لَكَفَا كُمْ.

عن عائشةرضي الله عنها قالت:كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ياكل طعامافی ستة من اصحابه فجاء اعرابي فاكله بلقمتين فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اما انه لو سمی لكفا كم.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھاناتناول فرمارہے تھے اتنے میں ایک اَعرابی آیا اور دو لقموں میں سارا کھانا کھا گیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اگریہبِسْمِ اللّٰہپڑھ لیتاتو یہ کھانا تم سب کو کفایت کر جاتا۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ مل کرکھاناسنتِ مبارکہ ہے۔جب سب مل کر کھا رہے ہوں تو سب ہی کوبِسْمِ اللّٰہپڑھنی چاہیے اگر کسی ایک نےبھیبِسْمِ اللّٰہترک کر دی توشیطان کو ساتھ کھانے کاموقع مل جائے گا۔یہ بھی معلوم ہواکہ جب کسی کوسمجھانا مقصود ہو تو اسے اس کی غلطی کانقصان اوراس سے بچنے کا فائدہ بتا دیا جائے تاکہ اس کی دل آزاری بھی نہ ہواوراسے اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جائے ۔کھاناسب کو کفایت کیسے کرتا؟دلیل الفالحین میں ہے:اگروہ شخصبِسْمِ اللّٰہپڑھ لیتاتوکھانے میں برکت دی جاتی اور وہ کھانا اسےاور سب موجودِین کوکفایت کرجاتا لیکن اس نےبِسْمِ اللّٰہترک کردی تو کھانے سے برکت اٹھا لی گئی اور وہ سارا کھانا دولقموں ہی میں ختم ہوگیا ۔مدنی گلدستہ”بقیع ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) مل کرکھاناسنتِ مبارکہ ہے۔
(2) کسی کو سمجھانا مقصود ہو تو اس انداز میں سمجھایا جائے کہ اس کی دل آزاری بھی نہ ہو اوراسے اپنی غلطی کا اِحساس بھی ہو جائے ۔
(3) جب کھانے پر
بِسْمِ اللّٰہنہ پڑھی جائے تو کھانے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے ۔
(4) بابرکت کھانے کی تھوڑ ی سی مقدار بھی بہت سے افراد کو کافی ہو جاتی ہے جبکہ بے برکتی والا کھانا کثیر مقدار میں ہونے کے باوجود تھوڑے سے افراد کو بھی کفایت نہیں کرتا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمارے کھانے کو بے برکتی سے بچائے اور ہمیں سنت کے مطابق کھانا تناول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 733