Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 735

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذِ ابْنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:مَنْ اَ كَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُلِلهِ الَّذِي اَطْعَمَنِيْ هٰذَاوَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَاقُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

عن معاذ ابن انس رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:من ا كل طعاما فقال: الحمدلله الذي اطعمني هذاورزقنيه من غير حول مني ولاقوة غفر له ما تقدم من ذنبه.

حدیث ترجمہ

حضرت معاذبن اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :جو کھاناکھائےپھر یہ کہے:”اَلْحَمْدُلِلهِ الَّذِي اَطْعَمَنِي هٰذَاوَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَاقُوَّةٍیعنی تمام تعریفیںاللّٰہتعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری قوت و طاقت کےبغیر مجھے یہ عطا فرمایا۔“ تو اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔

شرح حدیث

مرآۃالمناجیح میں ہے:”زبان سےیہ( مذکورہ دعائیہ ) کلمات کہے اوردل میں عقیدہ رکھے کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے میرے علم وعقل کانتیجہ نہیں صرف میرے رب کا فضل ہے ورنہ مجھ سے اچھے اچھے مارے مارے پھررہے ہیں، بڑی مصیبتوں میں ہیں، تواِنْ شَآءَاللّٰہمغفرت ہوگی۔“کونسے گناہ معاف ہوتے ہیں ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیمذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں:”ظاہریہ ہے کہ یہا ں صغیرہ گناہوں کی معافی مراد ہے نہ کہ کبیرہ گناہوں کی معافی ۔“
مذکورہ دعا بہت سی خوبیوں کامجموعہ ہے جن میں سے چند یہ ہیں:یہ دعا پڑھنے والااپنے ربِّ کریم کا شکر اداکرتاہے،
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےمُنْعمِ حقیقی ہونے کا اقرار کرتاہے،اپنے اوپر اس کی نعمت کا اظہار کرتاہے،اس کےسامنے اپنی عاجزی واِنکساری اورمسکینی کااعتراف کرتاہے۔ اس دعا کی برکت سے بندے کے سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ، اس کے رزق میں اضافہ ہوتاہے ، یہ نعمت زائل نہیں ہوتی ، اس کا شمار شکر گزار بندوں میں ہوتاہے،سنت پرعمل کاثواب ملتاہے ۔ان کے علاوہ کئی دِینی و دُنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔شکر کا فائدہ:صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:”شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصور اور اس کا اظہارکرے اور حقیقتِ شکر یہ ہے کہمُنْعِم(نعمت دینے والے)کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اورنفس کو اس کا خُوگر بنائے۔یہاں ایک باریکی (اہم بات) ہے وہ یہ کہ بندہ جباللّٰہتعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میںاللّٰہتعالیٰ کی مَحبت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ یہ مقام بہت برتر ہے اور اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہمُنْعِمکی مَحبت یہاں تک غالب ہو کہ قلب کو نعمتوں کی طرف اِلتفات(رغبت)باقی نہ رہے ، یہ مقام صدیقوں کا ہے۔اللّٰہتعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔گناہوں سے پاک ہونے کا نسخہ:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مغفرت نشان ہے :”جو کھانا کھا کرسیر ہوجائے اور پانی پی کر سیراب ہوجائے اور یہ دعا پڑھے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتاہے جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔دعا یہ ہے :”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي اَطْعَمَنِيْ وَاَشْبَعَنِيْ وَسَقَانِیْ وَاَرْوَانِیْیعنی تمام تعریفیں اساللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے لئے جس نے مجھے کھلایااورسیر کردیا اورمجھے پلایا اور سیراب کردیا ۔ “مدنی گلدستہ’’نعمت ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ہر نعمت کے حصول پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا نعمتوں کو بڑھاتا اور ربّ کی رضادِلواتا ہے۔
(2) ہمیں جونعمتیں مل رہی ہیں وہ محض ہمارے ربّ کریم کے فضل وکرم سے مل رہی ہیں۔
(3) چھوٹی چھوٹی دعاؤں پر مغفرت فرما دینا یہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ہم گناہ گاروں پر بہت بڑی عنایت ہے ۔ اگر اُس کریم رب کا کرم شاملِ حال نہ ہو تو ہم تباہ و برباد ہوجائیں ۔
(4) کھانے اور پینے کے بعد
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرناچاہیے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے،کھانے اور پینے کے بعد شکر ادا کرنے اور ناشکری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 735