Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 731

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا اِذَاحَضَرْنَامَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ نَضَعْ اَيْدِيَنَاحَتّٰى يَبْدَاَرَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَيَضَعَ يَدَهُ وَاِنَّاحَضَرْنَامَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءتْ جَارِيَةٌ كَاَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا في الطَّعَامِ فَاَخَذَرَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِيَدِهَاثُمَّ جَاءَ اَعْرَابِيٌّ كَاَنَّمَا يُدْفَعُ فَاَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ اَنْ لَّا يُذْكَرَ اسْمُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَ اِنَّهُ جَاءَ بِهٰذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَاَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهٰذَا الْاَعْرَابيّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَاَخذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهِ اِنَّ يَدَهُ في يَدِيْ مَعَ يَدَيْهِمَا ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ تَعَالٰی وَاَكَلَ.

عن حذيفة رضي الله عنه قال:كنا اذاحضرنامع رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم طعاما لم نضع ايديناحتى يبدارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فيضع يده واناحضرنامعه مرة طعاما فجاءت جارية كانها تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام فاخذرسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بيدهاثم جاء اعرابي كانما يدفع فاخذ بيده فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:ان الشيطان يستحل الطعام ان لا يذكر اسم الله تعالی عليه و انه جاء بهذه الجارية ليستحل بها فاخذت بيدها فجاء بهذا الاعرابي ليستحل به فاخذت بيده والذي نفسي بيده ان يده في يدي مع يديهما ثم ذكر اسم الله تعالی واكل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب ہم نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ کھانے پر حاضر ہوتےتوجب تک حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشروع نہ فرماتے ہم اپنے ہاتھ کھانے کی طرف نہ بڑھاتے۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، ہم آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے کہ ایک بچی آئی گویا اسے دھکیلا گیا ہو،اس نے آتے ہی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کاہاتھ پکڑ لیا،پھرایک اَعرابی آیا گویا اسےدھکیلا گیا ہو اس نےبھی کھانےکی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کاہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا:شیطان اُس کھانے کواپنے لئے حلال سمجھتا ہےجس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام نہ لیا جائے،شیطان اس بچی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ساتھ کھانا کھالےمگرمیں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا،پھروہ اس اعرابی کولایاتاکہ اس کے ساتھ کھا لےلیکن میں نے اسےبھی پکڑلیا۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں میری جان ہے!ان دونوں کے ہاتھ کےساتھ اُس کاہاتھ بھی میرے ہاتھ میں ہے۔پھرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لیا یعنیبِسْمِ اللّٰہکہی اور کھانا تناول فرمایا۔

شرح حدیث

صحابہ ٔکرام اورتعظیمِ نبی:اس حدیثِ مبارکہ سےصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی محبت وتعظیمِ نبوی کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔وہ حضرات اپنےمحترم ومکرم نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پہلےکوئی بھی کام شروع نہ فرماتے، کسی بھی معاملہ میں آپ سے آگے نہ بڑھتے،ان کےپیشِ نظر وہ آیات ہوتی تھیں جن میں آداب و تعظیمِ نبی کا حکم تھا ، جیساکہ اس آیت میں ارشاد ہوتاہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱)(پ۲۶،الحجرات:۱)ترجمہ ٔکنزالایمان:اے ایمان والواللّٰہاور اس کے رسول سے آ گے نہ بڑھواوراللّٰہسے ڈرو بے شکاللّٰہسُنتا جانتا ہے۔
تفسیرِ خزائنُ العرفان میں اس کے تحت مذکور ہے:یعنی تمہیں لازم ہے کہ اَصلاً تم سے تقدیم (آگے بڑھنا)واقع نہ ہو، نہ قول میں، نہ فعل میں کہ تقدیم کرنا رسول
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ادب و اِحترام کے خلاف ہے۔ بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی و آداب لازم ہیں ۔کھانے کی ابتدا کون کرے؟صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکاکھانے میں پہل نہ کرناتعظیمِ نبی اورحصولِ برکت کے لئے تھا۔روایت میں ہے:”جب کھانارکھاجائے توقوم کا امیر، میزبان یا قوم کا بہترشخص ابتدا کرے۔مرآۃ المناجیح میں ہے: ”جب کسی بزرگ کے ساتھ دسترخوان پرحاضرہوتوان سےپہلے کھانا شروع نہ کرے کہ اس میں بے ادبی ہے۔یہ اس صورت میں ہے کہ سارے کھانے والے بالغ ہوں ان میں ایک بزرگ باقی خُدَّام، لیکن اگر کھانےوالوں میں کوئی ناسمجھ بچہ بھی ہوتووہ پہلے کھانا شرو ع کرسکتا ہے بلکہ اس کے ہاتھ پہلے دھلائےجائیں اورکھاناکھاچکنےپراس کے ہاتھ پیچھے دھلائے جائیں کیونکہ بچے آہستہ آہستہ کھاتے ہیں،دیر تک کھاتے ہیں اورکھانا سامنے آنے پرزیادہ صبرنہیں کرسکتے۔“شیطان کے لئے کھانا حلال ہونے سے مراد:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’جس کھانے پربِسْمِ اللّٰہنہ پڑھی جائے اُس کھانے کا شیطان کے لئے حلال ہونے سے مراد یہ ہے کہبِسْمِ اللّٰہکا ترک شیطان کے لئے کھانے کی اجازت ہے جیساکہبِسْمِ اللّٰہپڑھنااس کے لئے کھانے سے رُکاوٹ ہےیایہ مطلب ہےکہ اس مردود کو کھانے میں تَصَرُّف کا اختیارمل جاتا ہےمگرجباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لے لیا جائےتووہ مداخلت نہیں کرسکتا۔“شیطان بچی اور اَعرابی کو کیوں لایا؟صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوبِسْمِ اللّٰہپڑھ کرکھاتا دیکھ کرشیطان کو ان کے ساتھ کھانے کی جرأت نہ ہوئی اس لیے وہ پہلے بچی کو لایا پھراَعرابی کو تاکہ یہبِسْمِ اللّٰہپڑھے بغیر کھائیں اوران کے ذریعےوہ بھی کھالے کیونکہ اگرجماعت میں ایک آدمی بھی بغیربِسْمِ اللّٰہکے کھائے توشیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جوبچّےبِسْمِ اللّٰہپڑھ سکتے ہوں وہبِسْمِ اللّٰہپڑھ کر کھایا کریں ورنہ شیطان کھانے میں شریک ہوگا۔ہاں بالکل بےسمجھ بچہ جوصحیح بول نہ سکے اس حکم سے علیحدہ ہے۔مدنی گلدستہ’’صحابی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جب کھانارکھا جائے تو قوم کا امیر، میزبان یا قوم کا بہتر شخص ابتدا کرے۔
(2) دسترخوان پرکوئی بزرگ موجود ہوں توان سےپہلے کھانا شرو ع کرنا بے ادبی ہے۔ ہاں!کوئی ناسمجھ بچہ ہوتوپہلے اسے کھلایا جائے کیونکہ کھاناسامنے آنے کے بعد بچے زیادہ صبرنہیں کرسکتے۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانتعظیم وادب ِ نبی کی وجہ سے کسی معاملہ میں نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے آگے نہ بڑھتے تھے۔
(4) اگرجماعت میں سے کوئی ایک بغیر
بِسْمِ اللّٰہپڑھے کھائے توشیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔
(5) جوبچّے
بِسْمِ اللّٰہپڑھ سکتے ہوں انہیں بھی کھانے سے پہلےبِسْمِ اللّٰہپڑھنی چاہئےتاکہ شیطان کھانے میں شریک نہ ہو۔ہاں بالکل چھوٹےبچے اس حکم سے علیحدہ ہیں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمارے کھانے کو شیطان سے بچائے ،ہمیں کھانا کھانے کی ابتدا میںبِسْمِ اللّٰہپڑھنے اور شریکِ طعام ہونے والے کو بھیبِسْمِ اللّٰہپڑھنے کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 731