Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 732

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ الصَّحابِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جَالِسًاوَرَجُلٌ يَاْ كُلُ فَلَمْ يُسَمِّ اللهَ حَتّٰى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ اِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّارَفَعَهَااِلٰی فِيْهِ قَالَ:بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُ فَضَحِكَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ثُمَّ قَالَ:مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَاْ كُلُ مَعَهُ فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللهِ اسْتَقَاءَمَافِي بَطْنِهِ.

عن امية بن مخشي الصحابي رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جالساورجل يا كل فلم يسم الله حتى لم يبق من طعامه الا لقمة فلمارفعهاالی فيه قال:بسم الله اوله واخره فضحك النبي صلی اللہ علیہ وسلم ثم قال:ما زال الشيطان يا كل معه فلما ذكر اسم الله استقاءمافي بطنه.

حدیث ترجمہ

صحابیِ رسول حضرت سَیِّدُنا اُمیّہ بن مَخْشیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرما تھےقریب ہی ایک شخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لئے بغیر کھانا کھا رہاتھا یہاں تک کہ کھانے کا ایک لقمہ باقی رہ گیا جب وہ لقمہ اپنے منہ کی طرف لایا تو کہا:”بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُ“ یہ دیکھ کر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائے پھرفرمایا:’’شیطان اس کے ساتھ کھا رہا تھا مگرجب اس نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لیا توجو کچھ اس کے پیٹ میں تھا سب قے کر دیا ۔‘‘

شرح حدیث

حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نظر:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ اگرکھانےپراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام نہ لیا جائے توشیطان کوساتھ کھانے کاموقع مل جاتاہے۔وہ انسان کے ہر کام میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے جیسے ہی اسے ربّ کی یاد سے غافل پاتاہےفوراً اس پر حملہ کر کےبہت سی دینی ودنیاوی بھلائیوں سے دور کر دیتا ہے۔یہ بھی معلوم ہواکہ ہمارے غیب دان آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھیں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہیں جوہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےشیطان مردودکوا س شخص کے ساتھ کھاتے ہوئےاوربِسْمِ اللّٰہپڑھنےپرقے کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔یہ بھی معلوم ہواکہ شیطا ن کے شر سے بچنے کا بہترین ذریعہ ذِکرِ الٰہی ہے۔شیطا ن کے قے کرنےسے مراد:صَدْرُالشَّرِیْعَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیاس حدیث کو بیان کرکے فرماتے ہیں:”اس کے یہ معنیٰ بھی ہوسکتے ہیں کہبِسْمِ اللّٰہنہ کہنے سے کھانے کی برکت جو چلی گئی تھی واپس آگئی۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جیسے ہمارا معدہ مکھی والا کھانا ہضم نہیں کرسکتاایسے شیطان کا معدہبِسْمِ اللّٰہوالا کھانا ہضم نہیں کرتا اگرچہ اس کا قے کیا ہوا کھانا ہمارے کسی کام کانہیں مگروہ مردود توبیماربھی پڑجاتا ہےاوربھوکابھی رہ جاتا ہے اور ہمارے کھانے کی فوت شدہ برکت لوٹ آتی ہے غرضیکہ اس میں ہمارا فائدہ ہےاُس کے دو نقصان۔اورممکن ہے کہ وہ مردودآئندہ ہمارے ساتھ بغیربِسْمِ اللّٰہوالا کھانا بھی اس ڈرسےنہ کھائے کہ شایدیہ بیچ میںبِسْمِ اللّٰہپڑھ لےاورمجھےقے کرنی پڑے۔غالبًا وہ شخص اکیلا کھا رہا تھا اگرحضورِانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ہوتا توبِسْمِ اللّٰہنہ بھولتا کیونکہ وہاں تو حاضرینبلندآواز سےبِسْمِ اللّٰہکہتے تھے اور ساتھیوں کو بھیبِسْمِ اللّٰہکہنے کا حکم کرتے تھے۔“مدنی گلدستہ’’ زم زم ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جس کھانے پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام نہ لیاجائے اس میں شیطان شامل ہوجاتاہے ۔(2) ∞ہمارے غیب دان آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔
(3) اگر کھانے سےپہلے
بِسْمِ اللّٰہپڑھنا یاد نہ رہے تو یاد آنے پربِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُپڑھ لیا جائے۔
(4) شیطان انسان پر اس وقت حملہ آور ہوتا ہے جب وہ ذِکر الٰہی سے غافل ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمارے کھانے کو شیطان سے بچائے، ہمیں کھانے سے پہلےبِسْمِ اللهِاور ابتدا میں بھول جانے کی صورت میں بعد میںبِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُپڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 732