Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 734

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم كَانَ اِذَارَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ:الْحَمْدُلِلهِ كَثِيْرًاطَيِّبًامُبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَامُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا.

عن ابي امامة رضي الله عنه:ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم كان اذارفع مائدته قال:الحمدلله كثيراطيبامباركا فيه غير مكفي ولامودع ولا مستغنى عنه ربنا.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابو امامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ دعا پڑھتے :”اَلْحَمْدُلِلهِ كَثِيْرًاطَيِّبًامُبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَامُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَایعنی تمام تعریفیںاللّٰہتعالیٰ کے لیے ہیں جو بہت زیادہ پاکیزہ اور برکت والی ہیں، اے ہمارے رب! نہ اس کھانے سے کفایت کی گئی، نہ اس کھانے کو چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ ہم اس سے بے نیاز ہوسکتے ہیں۔

شرح حدیث

دعا کی وضاحت:کھانے کے بعد مانگی جانے والی اس دعا کی وضاحت ”مرآۃ المناجیح “میں تین طرح سے کی گئی ہے: (1)بچا ہوا وہ کھانا جو سامنے سے اٹھایا جارہا ہے ابھی یہ ہم کو کافی نہ ہوچکا ہو، نہ مُنقطع ہوا ہو ، نہ ہی ہم اس سے بے نیاز ہوئے ہوں،بلکہ یہ ہمیں دوبارہ بھی عطا کیاجائے۔(2)ہم ا پنے رب کی ایسی حمدکرتے ہیں جو نہ تو کفایت کی جاچکی ہو، نہ ختم ہوئی ہو،نہ آخری حمد ہو اور نہ آئندہ ہم اس سے بےنیاز ہوئے ہوں، بلکہ ہم بار بار اپنے رب کی حمدکرتے رہیں، اس کی نعمتوں کے گُن گاتے رہیں۔(3)ہم اتنی حمد پر کفایت ہی نہ کریں، آئندہ بھی حمد کریں، نہ حمدچھوڑیں، نہ آئندہ اپنے رب کی حمد سےمستغنی و بے نیاز ہوں۔ پہلی توجیہ ظاہر بھی ہے قوی بھی اور حسبِ حال بھی کہ کھانا کھا چکنے پر یہ دعا ہے تو کھانے کے متعلق ہونی چاہیے۔تفہیم البخاری میں ہے :حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ دسترخوان پر کھانا اور یہ دعا کرنا حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی عادت شریف تھی اور دسترخوان اُٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ جب کھانے سے فارغ ہو جاتے۔”غَيْرَ مَكْفِيٍّ“کے معنیٰ یہ ہیں :اےاللّٰہ!یہ جو ہم نے کھایا ہے یہ مابعد کے لئے کافی نہ ہو اور یہ آخری کھانا نہ ہو بلکہ اس کے بعد منقطع نہ ہو اور ہماری ساری عمر یہ نعمت مُسْتَمر (جاری)رہے کسی وقت بھی ختم نہ ہو۔”لَامُوَدَّعٍ“یعنی ہم سے وداع نہ ہو اور یہ آخری طعام نہ ہو۔”لَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ“یعنی ہم اسے مُستغنی نہ ہوں یہ پہلے معنیٰ کی تاکید ہے۔کامل کھانا:فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:جس دستر خوان پرچارباتیں جمع ہوجائیں وہ کامل ہوجاتا ہے:(1)کھانابِسْمِ اﷲپڑھ کرکھایا جائے(2)کھانے کے بعداَلْحمدُلِلّٰہپڑھ لی جائے(3)کھانے والے زیادہ ہوں اور(4) کھانا حلال ہو۔( )اگرسب مل کر کھا رہے ہوں تو کھانے کے بعد کی دعائیں بلندآواز سے اُسی وَقت پڑھی جائیں جب سب فارِغ ہوجائیں ورنہ آہستہ پڑھی جائیں تاکہ جو کھا رہاہو وہ شرمندہ نہ ہو۔مدنی گلدستہ’’اجمیر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کھانا کھا کر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثنا کرنا رضائے الٰہی کا باعث ہے۔
(2) جس حلال کھانے پر کثیر لوگ جمع ہو ں،اس کے شروع میں
بِسْمِ اللّٰہاور بعدِ فراغتاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہہ لی جائے تو وہ کھانا کامل وبابرکت ہوجاتاہے ۔
(3) عملِ خیر کا ثواب اسی وقت ملتاہے جب وہ خالص
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےلئے ہو ۔
(4) کھانا کھاکر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا سنتِ مبارکہ ہے۔
(5) کھانےکے بعددعا وغیرہ بُلندآواز سے اُسی وَقت پڑھی جائے جب سب کھانے سے فارِغ ہو جائیں ورنہ آہستہ پڑھی جائے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں کھانے کے بعد اس کی دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 734