Main Icon

باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 729

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِذَا اَكَلَ اَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِاسْمَ اللهِ تَعَالٰی فَاِنْ نَسِيَ اَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللهِ تَعَالٰى فِيْ اَ وَّلِهِ فَلْيَقُلْ:بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُ.

عن عائشةرضي الله عنهاقالت:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اذا اكل احدكم فليذكراسم الله تعالی فان نسي ان يذكر اسم الله تعالى في ا وله فليقل:بسم الله اوله وآخره.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:جب تم میں سے کوئی کھانا کھائےتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لے،اگرشروع میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لینا بھول جائے تو یوں کہے:”بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نام سے اِس ( کھانے) کی ابتدا وانتہا۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلامی اَحکام وآداب دوسروں تک پہنچا ناایک اہم دینی فریضہ ہے۔ ہمارے پیارےآقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجہاں ضرورت محسوس فرماتے لوگوں کی اصلاح ضرورفرماتے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو ہر شے کے چھوٹے بڑے آداب سکھا دئیے۔ لہٰذا ہرصاحبِ علم کو چاہیے کہ حسبِ موقع اپنے متعلقین کی اصلاح و بہتری کے لئے انہیں دِینی اَحکام سے آگاہ کرتا رہے۔ جہاں انفرادی طور پرسمجھانامناسب ہووہاں انفرادی طورپرسمجھایا جائے اورجہاں سب کو سمجھانا مقصود ہو وہاں عمومی مسئلہ بیان کردیا جائے ۔جیسا کہ حدیثِ مذکور میں کسی کو مُعَیَّن کئے بغیر بیان کر دیا گیا کہ کھانے سے پہلےبِسْمِ اللّٰہپڑھنا بھول جائے تویادآنے پربِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُپڑھ لے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بندۂ مومن کا ہرکام یہاں تک کھانا پینا،سونا جاگناوغیرہ بھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نام سے اوراسی کی خوشنودی کے لئے ہوتا ہے۔کھانے سے پہلےذِکْرُ اللّٰہکامطلب:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(یہاں)اللّٰہکے ذکر سے مرادبِسْمِ اللهشریف پڑھنا ہے کہ کھانے کے وقت یہ ہیذِکرُ اللّٰہسنت ہے۔ہروقت کا ذِکرعلیحدہ ہے۔خوشی کی خبر سننے کے وقت کاذکرہےاَلْحَمْدُلِلّٰہ،غم کی خبرکاذکرہےاِنّالِلّٰہ(یعنیاِنَّا لِلّٰہِوَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن)،بُری بات سننے کے وقت کا ذکر ہےلَاحَوْلَ(وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ) تو کھانے کے وقت کا ذکر ہےبِسْمِ اللّٰہ،بلکہ وضو کرتے وقت،سوتے وقت،مسجد میں داخل ہوتے وقت بھیبِسْمِ اللهپڑھنا سنت ہے۔اس جگہ بعض علماء نے فرمایا کہذِکرُاللّٰہسے مراد ہر ذکر ہے حتّٰی کہ اگر کھاتے وقت کلمہ طیبہ بھی پڑھ لے تو بھی یہ فائدہ حاصل ہوجائے گا۔ بہرحال قوی یہ ہے کہ یہاںذکرُ اللّٰہسے مرادبِسْمِ اللهشریف ہے۔“اَوَّل آخر سے مراد:مرآۃ المناجیح میں ہے:اَوَّل آخر سے مراد کھانے کی ساری حالت ہے۔جوشخص کھانا کھاتے وقتبِسْمِ اللهپڑھنا بھول جائے تودرمیان میں جب یادآجائےتب یہ کہہ لے۔ بلکہ بعض علماءنے فرمایا کہ کھانا کھا چکنے،ہاتھ دھولینے، کلی کرلینے کے بعد یادآئے تب بھی یہ ہی کہہ لےمگرصحیح یہ ہے کہ کھانے کے دوران یاد آتے وقت ہی کہے تاکہ شیطان کھایا ہوا کھاناقے کردے بعدِ فراغ یہ فائدہ حاصل نہ ہوگا۔مدنی گلدستہ’’ حطیم ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جو کھاناکھانے سے پہلے
بِسْمِ اللّٰہپڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پربِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُکہہ لے ۔(2) ∞نیکی کی دعوت اس انداز میں دینی چاہئے کہ سننے والوں کو ترغیب ملے اورکسی کی دل آزاری بھی نہ ہو۔
(3) ہمارے پیارےنبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنی امت کوہرشے کےچھوٹے بڑےآداب سکھادئیے جو ان پر عمل کرے گا دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوگا۔
(4) بندۂ مومن اپنا ہرکام
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نام سے شروع اورختم کرتا ہے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں کھانے کی ابتدا میں تسمیہ بھول جانے کی صورت میں کھانے کے درمیانبِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُکہہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 729