باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنا عمر بن ابوسلمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لے کر اپنے سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔ “

عَنْ عُمَرَ بْنِ اَبِيْ سَلَمَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ لِيْ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:سَمِّ اللهَ وَكُلْ بِيَمِيْنِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيْكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 728 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:جب تم میں سے کوئی کھانا کھائےتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لے،اگرشروع میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لینا بھول جائے تو یوں کہے:”بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُیعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نام سے اِس ( کھانے) کی ابتدا وانتہا۔“

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِذَا اَكَلَ اَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِاسْمَ اللهِ تَعَالٰی فَاِنْ نَسِيَ اَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللهِ تَعَالٰى فِيْ اَ وَّلِهِ فَلْيَقُلْ:بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَآخِرَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 729 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”جو اپنے گھر میں داخل ہوتے اور کھاناکھاتے وقتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام لے توشیطان اپنے چَیلوں سے کہتا ہے کہ نہ تمہارے لئے رات گزارنے کی جگہ ہے نہ رات کا کھا نااور جب کوئیاللّٰہ عَزَّ وَ جَلَّکانام لئے بغیر گھر میں داخل ہو جائے تو شیطان کہتا ہےکہ تم نے رات گزارنے کی جگہ پالی اور جب وہ کھاتے وقت بھیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام نہ لے تو شیطان کہتاہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ اور رات کاکھانا پالیا۔‘‘

عَنْ جَابِرٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِذَادَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللهَ تَعَالٰى عِنْدَ دُخُو لِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لِاَصْحَابِهِ:لَا مَبِيْتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَاِذَادَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالٰى عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ:اَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَاِذَالَمْ يَذْكُرِ اللهَ تَعَالٰی عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ:اَدْرَكْتُمُ الْمَبِيْتَ وَالعَشَاءَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 730 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب ہم نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ کھانے پر حاضر ہوتےتوجب تک حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشروع نہ فرماتے ہم اپنے ہاتھ کھانے کی طرف نہ بڑھاتے۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، ہم آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے کہ ایک بچی آئی گویا اسے دھکیلا گیا ہو،اس نے آتے ہی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کاہاتھ پکڑ لیا،پھرایک اَعرابی آیا گویا اسےدھکیلا گیا ہو اس نےبھی کھانےکی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاس کاہاتھ بھی پکڑ لیا اور فرمایا:شیطان اُس کھانے کواپنے لئے حلال سمجھتا ہےجس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام نہ لیا جائے،شیطان اس بچی کے ساتھ آیا تاکہ اس کے ساتھ کھانا کھالےمگرمیں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا،پھروہ اس اعرابی کولایاتاکہ اس کے ساتھ کھا لےلیکن میں نے اسےبھی پکڑلیا۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں میری جان ہے!ان دونوں کے ہاتھ کےساتھ اُس کاہاتھ بھی میرے ہاتھ میں ہے۔پھرآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لیا یعنیبِسْمِ اللّٰہکہی اور کھانا تناول فرمایا۔

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا اِذَاحَضَرْنَامَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ نَضَعْ اَيْدِيَنَاحَتّٰى يَبْدَاَرَسُولُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَيَضَعَ يَدَهُ وَاِنَّاحَضَرْنَامَعَهُ مَرَّةً طَعَامًا فَجَاءتْ جَارِيَةٌ كَاَنَّهَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا في الطَّعَامِ فَاَخَذَرَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِيَدِهَاثُمَّ جَاءَ اَعْرَابِيٌّ كَاَنَّمَا يُدْفَعُ فَاَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ اَنْ لَّا يُذْكَرَ اسْمُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَ اِنَّهُ جَاءَ بِهٰذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَاَخَذْتُ بِيَدِهَا فَجَاءَ بِهٰذَا الْاَعْرَابيّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَاَخذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهِ اِنَّ يَدَهُ في يَدِيْ مَعَ يَدَيْهِمَا ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللهِ تَعَالٰی وَاَكَلَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 731 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

صحابیِ رسول حضرت سَیِّدُنا اُمیّہ بن مَخْشیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرما تھےقریب ہی ایک شخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لئے بغیر کھانا کھا رہاتھا یہاں تک کہ کھانے کا ایک لقمہ باقی رہ گیا جب وہ لقمہ اپنے منہ کی طرف لایا تو کہا:”بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُ“ یہ دیکھ کر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائے پھرفرمایا:’’شیطان اس کے ساتھ کھا رہا تھا مگرجب اس نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکانام لیا توجو کچھ اس کے پیٹ میں تھا سب قے کر دیا ۔‘‘

عَنْ اُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ الصَّحابِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جَالِسًاوَرَجُلٌ يَاْ كُلُ فَلَمْ يُسَمِّ اللهَ حَتّٰى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ اِلَّا لُقْمَةٌ فَلَمَّارَفَعَهَااِلٰی فِيْهِ قَالَ:بِسْمِ اللهِ اَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُ فَضَحِكَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ثُمَّ قَالَ:مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَاْ كُلُ مَعَهُ فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللهِ اسْتَقَاءَمَافِي بَطْنِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 732 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھاناتناول فرمارہے تھے اتنے میں ایک اَعرابی آیا اور دو لقموں میں سارا کھانا کھا گیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اگریہبِسْمِ اللّٰہپڑھ لیتاتو یہ کھانا تم سب کو کفایت کر جاتا۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَاْكُلُ طَعَامًافِی سِتَّةٍ مِنْ اَصْحَابِهِ فَجَاءَ اَعْرَابِيٌّ فَاَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اَمَا اِنَّهُ لَوْ سَمّٰی لَكَفَا كُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 733 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

حضرت سیدناابو امامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ دعا پڑھتے :”اَلْحَمْدُلِلهِ كَثِيْرًاطَيِّبًامُبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَامُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَایعنی تمام تعریفیںاللّٰہتعالیٰ کے لیے ہیں جو بہت زیادہ پاکیزہ اور برکت والی ہیں، اے ہمارے رب! نہ اس کھانے سے کفایت کی گئی، نہ اس کھانے کو چھوڑا جاسکتا ہے اور نہ ہم اس سے بے نیاز ہوسکتے ہیں۔

عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم كَانَ اِذَارَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ:الْحَمْدُلِلهِ كَثِيْرًاطَيِّبًامُبَارَكًا فِيْهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَامُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 734 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا

حضرت معاذبن اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :جو کھاناکھائےپھر یہ کہے:”اَلْحَمْدُلِلهِ الَّذِي اَطْعَمَنِي هٰذَاوَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَاقُوَّةٍیعنی تمام تعریفیںاللّٰہتعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری قوت و طاقت کےبغیر مجھے یہ عطا فرمایا۔“ تو اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔

عَنْ مُعَاذِ ابْنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:مَنْ اَ كَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُلِلهِ الَّذِي اَطْعَمَنِيْ هٰذَاوَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَاقُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 735 ، باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا