Main Icon

باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1003

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ.

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: انمامثل صاحب القران كمثل الابل المعقلة ان عاهد عليها امسكها وان اطلقها ذهبت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑدے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔“

شرح حدیث

قرآن یاد رکھنے کے بہت فوائدہیں:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے میں غفلت نہیں کرنی چاہیے، اگربندہ تلاوتِ قرآنِ پاک میں سُستی کرے گا اور اس کی تکرار نہیں کرے گا توبہت جلد بھول جائے گا کیونکہ”اونٹ تو مضبوط رسی سے کھونٹے پر رہتا ہے اور قرآن شریف ہمیشہ دُور کرنے اور تکرار کرتے رہنے سے ذہن میں ٹھہرتا ہے، پھر جیسے اونٹ اگر ٹھہر جائے تو بڑے فائدے پہنچاتا ہے، سواری، باربرداری، گوشت، دودھ، نسل، اُون وغیرہ سب ہی دیتا ہے۔ایسے ہی قرآن اگر ذہن میں ٹھہر جائے تو ایمان، عرفان، رضائے رحمٰن وغیرہ سب کچھ اِسی سے مُیَسَّر ہوتے ہیں۔“قرآن پڑھ کر بھلادینا گناہ ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا اور اسے مکمل یا اس کی چند سورتیں و آیتیں یاد کرنا بہت سعادت کی بات ہے لہٰذا جس قدر ممکن ہوسکے قرآنِ پاک حفظ کرلیجئے اور جب بھی کوئی آیت یا سورت حفظ کرلیں تو پھر اسے یاد رکھنے کے لیے باربار اس کی تلاوت کرتے رہیں تاکہ وہ آپ کو ذہن نشین رہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کئی افراد ایسے ہیں کہ جو قرآنِ پاک کے چند پارے یا سورتیں یاد کرلیتے ہیں مگر پھر اُن کی دُہرائی نہیں کرتے جس کی وجہ سے انہیں وہ پارے یا سورتیں بھول جاتی ہیں۔ بہار شریعت میں ہے:”قرآنِ پاک پڑھ کر بُھلا دینا گناہ ہے۔“ لہٰذا قرآنِ پاک کا جتنا بھی حصہ آپ کو یاد ہے اُسے باربار پڑھتے رہیں اورمسلسل اُس کی تلاوت کرتے رہیں۔مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہ تجربہ بھی ہے کہ بڑے سے بڑا حافِظ یا عالِم اگر کچھ دن یہ مشغلہ نہ رکھے تو بھول جاتا ہے۔اسی لیے علامہ شامی نے فرمایا کہ قاضی کو کچھ روز بعد کُتب بینی کے لیے چھٹی دی جائے تاکہ علمِ قرآن شریف بھول نہ جائے۔“مدنی گلدستہ’’قرآن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کا معمول بنانا چاہیے۔
(2) قرآن جب ہمارے دِل و دماغ میں بیٹھ جائے گا تو پھر ہمیں اُس سے ایمان، معرفتِ الٰہی، سکونِ قلبی اور دیگر بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔
(3) مکمل قرآنِ پاک یا اس کی چند سورتیں و آیتیں حفظ کرکے بُھلا دینا گناہ ہے ۔
(4) قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی عادت ڈالیے اور غفلت و کوتاہی سے پرہیز کیجئے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پابندی کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اسے بھولنے سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1003