Main Icon

باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1232

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” فَصْلُ ما بيْنَ صِيَامِنَا وَصِيامِ اَهْلِ الْكِتَابِ اَكْلَةُ السَّحَرِ.“

عن عمرو بن العاص رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” فصل ما بين صيامنا وصيام اهل الكتاب اكلة السحر.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عَمرو بِن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں جو فرق ہے وہ سحری کھانا ہے۔“

شرح حدیث

سحری اِس اُمَّت کا خاصہ:علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سحری اس اُمَّت کا خاصہ ہے۔اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزے میں فرق وپہچان کرنے والی جو چیز ہے وہ سحری ہے کیونکہ وہ لوگ سحری نہیں کرتے اور ہمارے لئے سحری کو مستحب کردیا گیا ہےسحری تھوڑی کھانا بہتر ہے:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(حدیث پاک میں لفظ)اُکْلَہالف کے پیش اور کاف کے جزم سےبمعنیٰ لقمے یا نوالے اور الف کے زبر سے بمعنیٰ کھانا یعنی سحری کے نوالے یا سحری کھانا مسلمان اور اہلِ کتاب کے روزوں میں فرق کا باعِث ہیں کیونکہ ان کے ہاں رات کو سونے کے بعد کھانا حرام ہوجاتا ہے،اسلام میں بھی پہلے یہی حکم تھا اب پوپھٹنے تک کھانا پینا حلال کردیا گیا،سحری کھانے میںاﷲکی دعوت کا قبول کرنا ہے اور اس کی اس نعمت کا شکریہ۔اَکْلَہفرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ سحری تھوڑی کھانا بہتر ہے اتنی زیادہ کہ دوپہر تک کھٹی ڈکاریں آئیں بہتر نہیں۔مدنی گلدستہ’’عُمَر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) اہلِ کتاب اور ہم مسلمانوں کے روزوں میں فرق سحری کرنا ہے۔
(2) سحری اِس اُمَّت کا خاصہ ہے۔
(3) سحری تھوڑی کھانا بہتر ہے اتنی زیادہ کھانا کہ بدہضمی ہوجائے بہتر نہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزہ وسحری وغیرہ میں کفار اورمشرکین کی مخالفت کرنے اور سنّت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1232