Main Icon

باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1231

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابنِ عُمَرَ رَضيَ اللَّه عَنْهُمَا قالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ اُمِّ مَكْتُومٍ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:”اِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ اُمِّ مَكْتُومٍ“ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا اِلَّا اَنْ يَنْزِلَ هٰذَا وَيَرْقَى هٰذا.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم مؤذنان: بلال وابن ام مكتوم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”ان بلالا يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن ام مكتوم“ قال: ولم يكن بينهما الا ان ينزل هذا ويرقى هذا.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دو مؤذن تھے، ایک حضرت بلال اور دوسرے اِبنِ اُمّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بلال رات میں اذان دیتے ہیں تم لوگ اُس وقت تک کھا پی لیا کرو جب تک کہ ابنِ اُمّ مکتوم اذان نہ دے دیں۔“راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں میں بس اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ وہ (یعنی حضرت بلال) نیچے اُترتے تھے اور یہ (یعنی ابنِ اُمِّ مکتوم) اوپر چڑھتے تھے۔

شرح حدیث

فجر کی اذان وقت سے پہلےدیناکیسا؟مذکورہ حدیثِ پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفجر کی اذان وقت سے پہلے دے دیا کرتے تھے اس حدیث سے امام اوزاعی،عبد اﷲبن مبارک، امام مالک، امام شافعی اور دیگر ائمۂ کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامیہ استدلال کرتے ہیں کہ فجر کی اذان وقت سے پہلے دینا جائز ہے کیونکہ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُوقت سے پہلے اذان دیا کرتے تھے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیاس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُجو اذان رات میں فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے دیا کرتے تھے وہ نماز کے لئے نہیں ہوتی تھی بلکہ اس لئے ہوتی تھی تاکہ سونے والے اُٹھ جائیں روزہ رکھنے والے سحری کرلیں۔ اس بات کی دلیل وہ حدیث ہے جسے امام بخاری نے حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:تم میں سے کسی شخص کو حضرت بلال کی اذان کھانے پینے سے نہ روکے (یعنی حضرت بلال کی اذان سن کر کھانے پینے سے مت رکو) کیونکہ وہ اس لئے اذان دیتے ہیں تاکہ تم میں سے جو غائب ہے وہ لوٹ آئے اور جو سویا ہوا ہے وہ جاگ جائے۔‘‘سحری کب تک کی جاسکتی ہے؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’اس باب سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ روزہ دار کے لئے صبح صادق تک کھانا جائز ہے جیسے ہی صبح صادِق طلوع ہوجائے تو روزہ دار کھانے سے رُک جائے۔ یہی قول جمہور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناورتابعین کا ہے۔دونوں اذانوں کا درمیانی فاصلہ:حضرت بلال اورحضرت ابنِ اُمِّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی اذانوں میں بس اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ وہ (بلال) نیچے اُترتے تھے اور یہ (ابنِ اُمِّ مکتوم) اوپر چڑھتے تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے اذان دینے کے فوراً بعد حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم اذان دینے کھڑے ہوجاتے تھے بلکہ ان کے درمیان کافی وقفہ ہوتا تھا جیسا کہ علامہ محمد بن علان شافعی فرماتے ہیں:’’علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت بلالرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفجر کے وقت سے پہلے اذان دیتے تھے اور پھر اذان کے بعد دعا وغیرہ کے لئے ٹھہرے رہتےیہاں تک کہ فجر کا وقت قریب آجاتا ، پس جیسے ہی طلوعِ فجر قریب ہوتی تو آپ اترتے اور ابنِ اُمِّ مکتوم کو خبر دیتے ، ابنِ اُمِّ مکتوم وضو کرتے اور پھر فجر کی اذان دینا شروع کرتے۔‘‘اذان نماز کے ساتھ خاص نہیں:مرآۃ المناجیح میں ہے:اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:* اذان صرف نماز کے لئے خاص نہیں اور مقاصد کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔دیکھو سیدنا بلال کی یہ اذان سحری کو جگانے کے لئے ہوتی تھی۔* فجریا دیگر اذانیں اگروقت سے پہلے ہوجائیں تو وقت میں کہنی پڑیں گی۔دیکھوسیدنا بلال کی اذان پر اکتفا نہ کی گئی،امام اعظم کا یہی مذہب ہے۔امام شافعی کے ہاں اذانِ فجروقت سے پہلے بھی جائزہے،اسی حدیث کی بناپر مگر یہ دلیل کمزور ہے ورنہ دوبارہ اذان کی کیا ضرورت تھی۔* نابینا کو اذان کے لیے مقرر کر سکتے ہیں جب کہ اسے وقت بتانے والاکوئی ہو۔* سحری کو جگانے کے لیے اذان دینا جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے مگر یہ جب ہوگا جب لوگ اس اذان سے شبہ میں نہ پڑجائیں ورنہ ہرگز نہ دی جائے۔ہمارے ملک میں اذان صبح صادق کی علامت ہے اگریہاں سحری کی اذان دی گئی تو کوئی فجر کے شبہ میں سحری نہ کھا سکے گایاکوئی دوسری اذان کوپہلی سمجھ کردن میں کھاکر روزہ خراب کرلے گا اس لیے اب ہرگز اس پرعمل نہ کیا جائے۔بہت سی چیزیں عہدِصحابہ میں درست تھیں اب ممنوع ہیں۔دیکھو اُس زمانہ میں جوتا پہن کرمسجد میں آنا اورمع جوتے نماز پڑھنا مُرَوَّج تھا اب ممنوع ہے۔پختہ مکان بنانے منع تھے،اب جائز ہے۔کھیتی باڑی سے لوگوں کوروکا گیاتھا اب ضروری ہے۔زکوٰۃ کے مَصرف آٹھ تھے اب سات ہیں۔حالات بدل جانے سے ہنگامی اَحکام بدل جاتے ہیں۔مدنی گلدستہسَحَری‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کسی بھی نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دینا جائز نہیں۔
(2) صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے پہلے روزہ دار کھا پی سکتا ہے۔
(3) حضرت سیدنا بلال
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی اذان سحری کو جگانے کے لئے ہوتی تھی۔
(4) حالات بدل جانے سے ہنگامی اَحکام بدل جاتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1231