- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”سحری کرو بے شک سحری میں برکت ہے۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”تَسَحَّرُوا فَاِنَّ في السُّحُورِ بَرَكَةً.“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1229 ، باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ سحری کی پھر ہم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، پوچھا گیا کہ نمازاورسحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا: ” پچاس آیات پڑھنے کا۔“
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضيَ اللَّه عَنْهُ قال: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ثُمَّ قُمْنَا اِلى الصَّلاةِ قِيْلَ: كَمْ كانَ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِینَ آيَةً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1230 ، باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناعبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دو مؤذن تھے، ایک حضرت بلال اور دوسرے اِبنِ اُمّ مکتومرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بلال رات میں اذان دیتے ہیں تم لوگ اُس وقت تک کھا پی لیا کرو جب تک کہ ابنِ اُمّ مکتوم اذان نہ دے دیں۔“راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں میں بس اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ وہ (یعنی حضرت بلال) نیچے اُترتے تھے اور یہ (یعنی ابنِ اُمِّ مکتوم) اوپر چڑھتے تھے۔
عَنِ ابنِ عُمَرَ رَضيَ اللَّه عَنْهُمَا قالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ: بِلَالٌ وَابْنُ اُمِّ مَكْتُومٍ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:”اِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ اُمِّ مَكْتُومٍ“ قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا اِلَّا اَنْ يَنْزِلَ هٰذَا وَيَرْقَى هٰذا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1231 ، باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا عَمرو بِن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں جو فرق ہے وہ سحری کھانا ہے۔“
عَنْ عَمْرو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” فَصْلُ ما بيْنَ صِيَامِنَا وَصِيامِ اَهْلِ الْكِتَابِ اَكْلَةُ السَّحَرِ.“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1232 ، باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان