Main Icon

باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1230

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضيَ اللَّه عَنْهُ قال: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ثُمَّ قُمْنَا اِلى الصَّلاةِ قِيْلَ: كَمْ كانَ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِینَ آيَةً.

عن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال: تسحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قمنا الى الصلاة قيل: كم كان بينهما ؟ قال: قدر خمسین آية.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا زید بن ثابترَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ سحری کی پھر ہم نماز کے لئے کھڑے ہوگئے، پوچھا گیا کہ نمازاورسحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا: ” پچاس آیات پڑھنے کا۔“

شرح حدیث

سحری میں تاخیرکی حکمت:شرح ابنِ بطال میں ہے:’’علامہمُہْلَب رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ یہ حدیث تاخیر سے سحری کرنے پر دلالت کرتی ہے تاکہ روزہ رکھنے پر قوت حاصل ہوسکے۔‘‘( )اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث میں سحری کو فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک مُؤخر کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔‘‘
مفتی شریف الحق امجدی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سحری دیر کر کے طلوعِ فجر کے وقت کھانی مستحب ہے، احناف کے یہاں فجر میں اِسفار(اُجالا ہوا) اگرچہ رمضان میں بھی مستحب ہے مگر یہ حدیث اس کے مُعارِض نہیں اس لئے کہ اَوَّل وقت بھی فجر کی نماز بلاکراہت درست ہے۔سحری کھانے کے بعد سونے سے غفلت کی نیند آجاتی ہے جس میں جماعت بلکہ بعض اوقات نماز کے چھوٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے اور آج مسلمانوں کا جو حال ہے وہ سب کو معلوم ہے اس لئے اس خادم نے اپنے یہاں اسی حدیث کے مطابق اَوَّل وقت میں نمازِ فجر پڑھنی رائج کی ہے۔‘‘سحری میں تاخیر مستحب ہے:شیخِ طریقت امیر اہلسنت مولانا محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃفرماتے ہیں:’’سحری میں تاخِیر کرنا مستحب ہے اور دیر سے سحری کرنے میں زیادہ ثواب مِلتا ہے۔مگر اتنی تاخیر بھی نہ کی جائے کہ صبحِ صادق کا شُبہ ہونے لگے!یہاں ذِہن میں یہ سُوال پیدا ہوتا ہے کہ”تاخیر“سے مُراد کونسا وَقت ہے؟
مُفَسّرِ شہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیرنعیمی میں فرماتے ہیں کہ اِس سے مُراد رات کا چھٹا حِصّہ ہے ۔پھر سُوال ذِہن میں اُبھرا کہ رات کا چھٹا حصہ کیسے معلوم کیا جائے ؟اِس کا جواب یہ ہے کہ غُروبِ آفتاب سے لیکر صُبح صادِق تک رات کہلاتی ہے ۔مثلاً کسی دِن سات بجے شام کو سُورج غُروب ہوا اورپھر چار بجے صُبحِ صادِق ہوئی۔اِس طرح غروبِ آفتاب سے لیکر صُبحِ صادِق تک جو نو گھنٹے کا وَقفہ گُزرا وہ رات کہلایا۔اب رات کے اِ ن نو گھنٹوں کے برابر برابر چھ حِصّے کر دیجئے ۔ہر حِصّہ ڈیڑھ گھنٹے کا ہوا اب رات کے آخِری ڈیڑھ گھنٹے (یعنی اڑھائی بجے تا چار بجے) کے دوران صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے جب بھی سحری کی وہ تاخیر سے کرنا ہوا۔سحری واِفطار کا وَقت عموماً روزانہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔بیان کیے ہوئے طریقے کے مطابِق جب بھی چاہیں رات کا چھٹا حصّہ نِکال سکتے ہیں اگر رات سحری کر لی اور روزہ کی نِیَّت بھی کرلی ۔ بلکہ عَوامی اِصطِلاح میں”روزہ بند“بھی کرلیا پھر بھی بقیہ رات میں جب چاہیں کھاپی سکتے ہیں۔نئی نیَّت کی حاجت نہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’نبی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) سحری میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔
(2) سحری کھانے کے بعد سونا نہیں چاہیے کیونکہ سحری کھانے کے بعد سونے سے غفلت کی نیند آجاتی ہے جس میں جماعت یا
مَعَاذَ اﷲنماز کے چھوٹ جانے کا خطرہ رہتا ہے۔
(3) دیر سے سحری کرنے میں زیادہ ثواب مِلتا ہےمگر اتنی تاخیر بھی نہ کریں کہ صبحِ صادق کا شُبہ ہونے لگے۔
رب تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مستحب وقت میں سحری کرنے اور پابندی کے ساتھ فرض روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1230