Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 908

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ جِبْرِيْلَ اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! اشْتَكَيْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِسْمِ اللهِ اَرْقِيْكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اَللهُ يَشْفِيْكَ، بِسمِ اللهِ اَرْقِيْكَ.

عن ابی سعيد الخدري رضی اللہ عنہ ان جبريل اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! اشتكيت؟ قال: نعم، قال: بسم الله ارقيك، من كل شيء يؤذيك، من شر كل نفس او عين حاسد، الله يشفيك، بسم الله ارقيك.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:اے محمد!(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کیا آپ بیماری کی وجہ تکلیف محسوس کر رہے؟ فرمایا: ہاں،حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ کلمات کہے: ”بِسْمِ اللّٰہ اَرْقِيْكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللّٰہ یَشْفِيْكَ، بِسْمِ اللّٰہ اَرْقِيْكَیعنی میںاللّٰہکے نام سے آپ کو دَم کرتا ہوں ہر ایذاء پہنچانے والی چیز سے، ہرنفس کی شرارت یا حاسِد کی نظر سے،اللّٰہآپ کو شفا عطا فرمائے، میںاللّٰہکے نام سے آپ کو دَم کرتا ہوں۔“

شرح حدیث

رب کی طرف سے مزاج پُرسی:حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت اَقدس میں حاضر ہوکر آپ کی مزاج پُرسی فرمائی۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”حضرت جبریل خود نہ آئے تھے بلکہ ربّ نے بھیجا تھا، یہ مزاج پُرسی رب کی طرف سے تھی، قرآنِ کریم فرماتا ہے:﴿وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-﴾(پ۱۶،مریم:۶۴) (ترجمہ ٔکنز الایمان:(اور جبریل نے محبوب سے عرض کی) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے۔)اس سے حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی محبوبیت کا پتہ لگا کہ رب ان کی مزاج پُرسی کرے اور رب ہی جبریل کو بھیج کر ان پر دم کرائے۔شعر
سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
¥ دو اِشکال اور اُن کے جوابات:
حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا کہ کیا آپ بیمار ہیں؟ تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ہاں، اس پر حضرت جبریل نے حدیثِ پاک میں مذکور دعا کے ذریعے آپ پر دم کیا۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت جبریل نے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دم کیا جبکہ ایک دوسری حدیثِ پاک میں ہےکہ جنت میں بے حساب وہ لوگ داخل ہوں گے کہ جو نہ دم کریں گے، نہ کروائیں گے اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کرنے والے ہوں گے، بظاہر ان احادیث میں تعارض نظرآتا ہے لیکن ان احادیث میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ جن حدیثوں میں دم نہ کرنے کو اچھا کہا گیا ہے ان سے مراد وہ دم ہے جس میں کفار کے کلمات ہوں یا وہ دم مجہول ہو اور عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں ہو تو ایسا دم کرنا مذموم ہے کیونکہ اس دم میں کفریہ معنی یا کفر کے قریبی معنی یا کوئی ناپسندیدہ معنی پائے جانے کا احتمال ہے بہر حال قرآنی آیات اور معروف اَذکار و دعائیں پڑھ کر دم کرنا منع نہیں بلکہ سنت ہے۔ یہاں ایک اور اشکال ہے کہ ایک حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ دم نظرِبد اور بخار ہی میں کیا جائے، اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ کسی اور وجہ سے دم نہیں کرنا چاہیے،علما اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ دم صرف نظربد اور بخار ہی میں جائز ہے اور کسی چیز میں جائز نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی اور وجہ سے دم کرنے کے مقابلے میں نظربد اور بخار میں دم کرنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے اور یہ دونوں باقی تمام چیزوں سے دم کی زیادہ حقدار ہیں، اس لیے کہ ان میں شدید نقصان ہوتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ حدیثِ مذکورمیں اس بات کی صراحت ہے کہاللّٰہتعالیٰ کے ناموں سے دم کیا جائے اور اس حدیثِ پاک میں دم کرنے اور دعائیں پڑھنے اور ان کی بار بار تکرار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 908