Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 904

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: عَادَنِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اَللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اَللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا.

عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قال: عادنی رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:اللهم اشف سعدا، اللهم اشف سعدا، اللهم اشف سعدا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری عیادت فرمائی اور دعا کی :”اےاللّٰہ!سعد کو شفا عطا فرما،اےاللّٰہ!سعد کو شفا عطا فرما، اےاللّٰہ! سعد کو شفا عطا فرما۔“

شرح حدیث

حدیث پاک کا پس منظر:ہمارےپیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممو منوں پررَءُوْفٌ رحیم ہیں، طرح طرح سے اپنے غلاموں کی دِلجوئی فرماتے ہیں،ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں ،بیمار ہوجائیں تو عیادت کے لئے تشریف لاتے ہیں، دعاؤں سے نوازتے ہیں۔خوش نصیب ہے وہ بیمار جس کی عیادت کے لیے طبیبوں کے طبیب ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود تشریف لائیں۔
سرِ بالِیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بَن آئی ہے
حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبھی انہیں خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کی عیادت خود نبی رحمتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمائی اورانہیں اپنی مقبول دعاؤں سے نوازا، جب مصطفےٰ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ مکرمہ تشریف لائےتو ان کی عیادت کے لیے تشریف لئےگئے ،وہاں انہیں روتا ہوا پایا، رونے کی وجہ پوچھی تو عرض کی:”مجھے ڈر ہے کہ میں جس شہرمکہ سے رِضائے الٰہی کیلئے ہجرت کر چکا ہوں کہیں اسی میں میرا انتقال نہ ہو جائے جیسے حضرت سعد بن خولہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا ہوا ،اس پر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےان کے لئے شفا یابی کی دعافرمائی ۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا قبول فرمائی اور حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکو شفا دی اور اس کے بعد ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہی ہوا۔“اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی بیمار پُرسی فرمائی، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ مریض کی عیادت کرنا مستحب ہے اور یہ امام کے لیے بھی اسی طرح مستحب ہے جیسے ہر عام شخص کے لیے۔“مریض کو دعادیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی اپنے بیمار عزیز و اقارب اور دیگر مسلمان بھائیوں کی عیادت کے لیے جانا چاہیے اور اگر وہ ہم سے دور کسی اور مقام پر قیام پذیر ہوں تو حتی الامکان کوشش فرماکر ان کے گھر یا ہسپتال وغیرہ میں حاضر ہوکر ان کی بیمار پُرسی کیجئےیا فون وغیرہ کے ذریعے ان کی خیر خبر لیجئے اور جب بھی کسی مریض کی عیادت کے لیے جائیں تو اس کے لیے دعائے شفا بھی کریں کہ جب حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت سعدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی عیادت کی تو ان کے لیے شفا کی دعا بھی فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 904