Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 903

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ لِثَابِتٍ رَحِمَهُ اللهُ: اَلَا اَرْقِيْكَ بِرُقْيَةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: اللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاْسِ، اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شَافِيَ اِلَّا اَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.

عن انس رضی اللہ عنہ انه قال لثابت رحمه الله: الا ارقيك برقية رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: بلی، قال: اللهم رب الناس، مذهب الباس، اشف انت الشافي، لا شافي الا انت، شفاء لا يغادر سقما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت ثابترَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے فرمایا: کیا میں تمہیںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموالا دم نہ کردوں؟انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں، ضرور۔ چنانچہ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ کلمات پڑھے:”اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاْسِ، اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شَافِيَ اِلَّا اَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا‘‘یعنی اےاللّٰہ! لوگوں کے رب، تکلیف دور کرنے والے، شفا عطا فرما توہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو نہ چھوڑے۔

شرح حدیث

دم کرنے کی تین شرائط:حدیثِ مذکورکا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ حضر ت سَیِّدُنا ثابت بنانیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی کہ میں بیمار ہوں تو حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: کیا میں تمہیں اُن کلمات سے دم نہ کردوں جن سے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامدم فرمایا کرتے تھے، حضرت ثابت بنانیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے عرض کی: کیوں نہیں۔ تو حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےمذکورہ دعا پڑھ کر دم فرمایا۔علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ ہر تکلیف میں دم کرنا جائز ہے اور یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہمارے اَسلاف کے درمیان دم کرنا بہت عام تھا۔“عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”علما کا اس بات پر اِجماع ہے کہ تین شرائط کے ساتھ دَم کرنا جائز ہے: (1)جن الفاظ سے دم کیا جارہا ہے وہ الفاظاللّٰہتعالیٰ کے کلام یا اس کے اَسماء یا اس کی صفات پرمشتمل ہوں۔(2) دم عربی زبان میں کیا جائے یا اس زبان میں کیا جائے جس کے معنی سمجھ میں آتے ہوں۔ (3) یہ اِعتقاد رکھنا کہ دم بذاتِ خود مؤثر نہیں ہے بلکہ مؤثر تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات ہے۔“مدنی گلدستہ’’رحمتِ نبوی ‘‘کے8حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) ہر طرح کی بیماری اور تکلیف میں دم کرنا جائز ہے۔
(2) دوا اسی وقت اثر کرتی ہے جب
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہتا ہے۔
(3) بزرگانِ دِین
رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامبکثرت مریضوں کی عیادت کرتے اور انہیں دم کیا کرتےتھے۔
(4) دم صرف ان کلمات سے کیا جاسکتا ہے جن کے معانی شریعت کے خلاف نہ ہوں ۔
(5) مدینے کی مٹی میں شفا ہے،طبیبوں کے طبیب،
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مدینہ منورہ کی مبارک مٹی اور اپنے لعابِ دَہن سے مریضوں کاعلاج فرمایا ۔
(6)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ہمیشہ کامل نعمت مانگنی چاہیے اسی طرح شفا بھی ایسی مانگنی چاہیے جس کے بعد کوئی بیماری نہ ہو۔
(7) بیماری گناہوں کا کفارہ اور بلندیٔ درجات کاسبب بنتی ہے۔
(8) دنیا عالَم اسباب ہے ،اس میں کام کے وقوع کا کوئی نہ کوئی ظاہری سبب ضرور ہوتا ہے مگر سبب حقیقی
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا حکم ہی ہے اسی کے چاہنے سے اَشیاء میں تاثیر پیدا ہوتی ہے ،وہ نہ چاہے تو تمام اَسباب کے ہوتے ہوئے بھی کام کی تکمیل نہ ہو۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلاف کے طریقے کے مطابق مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 903