Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 907

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى اَعْرَابِیٍّ یَعُوْدُهُ، وَكَانَ اِذَا دَخَلَ عَلَى مَنْ يَعُوْدُهُ، قَالَ: لَا بَاْسَ طَهُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللهُ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل على اعرابی یعوده، وكان اذا دخل على من يعوده، قال: لا باس طهور ان شاء الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک اَعرابی کی بیمار پُرسی کے لیے تشریف لے گئے اورآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب بھی کسی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے:”لَا بَاْسَ طَهُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰہیعنی کوئی ڈر نہیں، اگراللّٰہنے چاہا تویہ بیماری پاک کرنے والی ہے۔“

شرح حدیث

اس حدیث میں حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے طرزِ عیادت کو بیان کیا گیا ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامجب کسی مریض کی بیمار پُرسی کے لیے جاتے تو فرماتے: ”لَا بَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللهُ۔“ہر امیر و غریب کی عیاد ت کی جائے:عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہےکہ امام کے لیے اپنی رعایا میں سے کسی کی عیادت کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ مریض سخت طبیعت دیہاتی ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح عالِم کے لیے جاہل کی عیادت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ عالم اسے اچھی باتیں سکھائے گا، اسے نفع بخش نصیحت کرے گا، اُسے صبر کرنے کا حکم دے گا اور اُسے تسلی وغیرہ دے گا جس سے اس کا اور اس کے گھروالوں کا دل خوش ہوگا۔“
مرآۃ المناجیح میں اس دعا کامطلب یہ بیان کیا گیاہے:”یعنی گناہوں سے صفائی ہے اور بہت سی بیماریوں سے بچاؤ، کیونکہ بعض چھوٹی بیماریاں بڑی بیماریوں سے انسان کو محفوظ کردیتی ہیں، ایک زکام پچپن بیماریوں کو دور رکھتا ہے، خارش والے کو کبھی کوڑ ھ نہیں ہوتی۔ اس حدیث سےحضور
صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے اخلاقِ کریمانہ معلوم ہوئے کہ ہرغریب و امیر کے گھر بیمار پُرسی کے واسطے تشریف لے جاتے۔سُبْحَانَ اﷲ! کیسا پاکیزہ کلمہ ہے کہ ایک(لفظ)طَہُوْرمیں جسمانی، جناتی، روحانی صفائیوں کا ذکر فرمادیا۔“عیادت کرنے والا مریض کو تسلی دے:”سنت یہ ہے کہ عیادت کرنے والا مریض کو تسلی دے تاکہ اُسے درد وتکلیف میں کمی محسوس ہو اور اُسے سمجھائے کہ بیماری بُرے اَعمال کا کفارہ ہوتی ہے اور مریض کو گناہوں سے پاک کردیتی ہے۔ اُس سے یوں کہے کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں، تمہیں جو بیماری پہنچی ہے یہ گناہوں کے کفارے کا سبب بنے گی، یہ تکلیف دور ہو جائے گی، تم ٹھیک ہو جاؤ گے اور تمہیں اس مرض پر ثواب ملے گا، اُس سے اس طرح کی باتیں کرے تاکہ وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی تقدیر پر ناراض نہ ہو اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس نہ ہو، اُسے شیطان کے بہکاوے سے بچائیں کیونکہ اکثر ایسے موقعوں پر شیطان مریض کے منہ سے ناشکری اور تقدیر پر راضی نہ ہونے والے کلمات ادا کروادیتا ہے اسی لیے مریض کے سامنے تسلی آمیز باتیں کرنی چاہئیں تاکہ اس کا دل مطمئن رہے۔نیز مریض کو بھی چاہیے کہ عیادت کرنے والے کا جواب اچھے انداز میں دے اور عیادت کرنے والا اُس سے جو بھی اچھی بات کہےاور اُسے بیماری کے عوض ملنے والے ثواب کے بارے میں جو فضیلت بیان کرے اُسے قبول کرے۔“مدنی گلدستہجنت کے 8 دروازوں کی نسبت سےاَحادیثِ مذکورہ اوران کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) بیماری گناہوں سے پاک کرتی ہے اور ایک چھوٹی بیماری کئی بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
(2) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی یہ تمنا ہوتی تھی کہ ان کی وفات مدینہ پاک میں ہو۔
(3) نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر امیر و غریب مسلمان کی عیادت کو تشریف لے جایا کرتےتھے ۔
(4) دم کرنے والے کا مریض پر ہاتھ رکھنا مریض کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
(5) عیادت کرنے والے کو چاہیے کہ مریض کو تسلی دے تندرستی کی امید دلائےاور صبر و شکر کا درس دے ۔
(6) زکام پچپن بیماریوں سے بچاتا ہے اور خارش والے کو کبھی کوڑھ کا مرض نہیں ہوتا۔
(7) مریض کو چاہیے کہ عیادت کرنے والا اُس سے جو بھی اچھی بات کہے یا اُسے بیماری کے فضائل بتائے انہیں قبول کرے اور اچھے انداز میں جواب دے۔
(8) حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں بیماری ومصائب کی شکایت کرناجائز ہے یہ ایساہی ہےجیسے مریض کاحکیم کو اپنی بیماری بتانایامظلوم کا حاکم کے سامنے اپنا دُکھ درد بیا ن کرنا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں تمام روحانی جسمانی بیماریوں سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 907