- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- حدیث نمبر 909
باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 909
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ وَاَبِيْ هُرَ يْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا: اَنَّهُمَا شَهِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، فَقَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَاَنَا اَكْبَرُ. وَاِذَا قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، قَالَ: يَقُوْلُ: لَااِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيْكَ لِیْ. وَاِذَا قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ. وَاِذَا قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِیْ، وَكَانَ يَقُوْلُ: مَنْ قَالَهَا فِیْ مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ.
عن ابي سعيد الخدري وابي هر يرۃ رضی اللہ عنہما: انهما شهدا علی رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال: من قال: لااله الا الله والله اكبر، صدقه ربه، فقال: لا اله الا انا وانا اكبر. واذا قال: لا اله الا الله وحده لا شريك له، قال: يقول: لااله الا انا وحدي لا شريك لی. واذا قال: لا اله الا الله له الملك وله الحمد، قال: لا اله الا انا لي الملك ولي الحمد. واذا قال: لااله الا الله ولا حول ولا قوة الا بالله، قال: لااله الا انا ولا حول ولا قوة الا بی، وكان يقول: من قالها فی مرضه ثم مات لم تطعمه النار.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدری اور حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ وہ دونوںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جس نے کہا:لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَاللّٰہ اَكْبَرُیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیںاللّٰہسب سے بڑا ہے، تواللّٰہتعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے:”واقعی میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔“اور جب بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُیعنی اکیلےاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں میں ایک ہوں میرا کوئی شریک نہیں“اور جب بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے:”میرے سوا کوئی معبود نہیں میرے لیے ہی بادشاہی ہے اور میرے لیے ہی تعریف ہے۔“اور جب بندہ کہتا ہے:لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقتاللّٰہکی توفیق سے ہی ہے، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت میں ہی عطا کرنے والا ہوں۔“نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرمایا کرتے تھےکہ”جو اپنی بیماری میں یہ کلمات کہے اور پھر فوت ہوجائے تو اُسے جہنم کی آگ نہیں جلائے گی ۔“
شرح حدیث
فرشتوں کے سامنے بندے کاذِکر:حدیثِ مذکور میں وہ مبارک کلمات بیان کیے گئے ہیں کہ جنہیں بندہ بیماری کی حالت میں پڑھ لے اور پھر فوت ہو جائے تو ان کلمات کی برکت سے وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔ حدیث پاک میں چار کلمات بیان کیے گئے ہیں،جب بندہ’’لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَاللّٰہ اَكْبَرُ‘‘کہتاہےتو رب تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ یہ پڑھ رہا ہے اور وہ سچا ہے سچ کہہ رہاہے۔سُبْحَانَ ا ﷲ! بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اس کی تھوڑی سی لب کی حرکت سے اس کا ذکر بارگاہِ رب العالمین میں فرشتوں کے سامنے آجائے اور ساتھ میں خود رب تعالیٰ تصدیق بھی فرمادے۔پھر جب بندہ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ‘‘ کہتاہےتو رب تعالیٰ فرماتاہے: ’’واقعی میرے سواکوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘پھر بندہ ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ“کہتا ہے توربِّ کریم فرماتاہے:”میرے سوا کوئی معبود نہیں میرے لیےہی بادشاہی اورمیرے لیے ہی تعریف ہے۔‘‘پھر جب بندہ’’لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہ“ کہتا ہے تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں میں ہی گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت عطا کرتاہوں۔‘‘
مرآۃ المناجیح میں ہے:”خیال رہے کہلَاحَوْلشریف میں انسان اپنی انتہائی بے بسی کا اقرار اور رب تعالیٰ کی انتہائی قدرت کا اعتراف کرتا ہے یہ ہی بندگی کا مدار ہے اسی لیے یہ جنت کا خزانہ ہے۔ حول کے معنی ہیں ظاہری طاقت، قوۃ کے معنی ہیں باطنی قدرت یا حول سے مراد ہے دفع شر کا حیلہ اور قوت سے مراد ہے خیرحاصل کرنے کا ذریعہ یعنی بندے میں بغیر رب تعالیٰ کی مدد کے نہ ظاہری طاقت ہے نہ اندرونی قوت، اس کےکرم کے بغیربندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہاللّٰہکی دَین، اس کے کرم سے بندہ میں ظاہری باطنی طاقتیں آسکتی ہیں جیساکہ اولیاوانبیا کی کرامات و معجزات سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان نے تین میل سے دور چیونٹی کی آوازسن کر سمجھ لی، حضرت آصف بن برخیا پَل بھر میں یمن سے تختِ بلقیس لے آئے یہ ربانی طاقتیں رحمانی عطا سے تھیں، بجلی کے بلب، پنکھے، مشین وغیرہ بغیر پاورمحض بیکار ہیں پاور آجائے تو بہت طاقتور ہوجاتے ہیں، بجلی کا تار آدمی کیا ہاتھی کو ہلاک کردیتا ہے۔“ مزید فرماتے ہیں کہ بندہ رب سے کٹ کر کچھ نہیں نہ اس میںحَوْلرہتی ہے نہقُوّتمگر رب سے واصل ہو کر سب کچھ بن جاتا ہے کہ اس میں حول بھی آجاتی ہے اور قوت بھی، قطرہ دریا سے الگ ہو تو کچھ نہیں مگر دریا میں جاتے ہی اس میں روانی، طغیانی، فراوانی سب کچھ آجاتی ہے، شیشہ سائے میں رہے تو کچھ نہیں مگر آفتاب کے مقابل ہوکر اس میں شعاعیں روشنی تیزی دھوپ سب کچھ آجاتی ہے۔اِلَّا بِاﷲمیںباِلصاق کی ہے یعنیاللّٰہسے مل کر بندے میں حول و قوت سب کچھ آجاتی ہے۔“حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ جو بیماری کی حالت میں یہ کلمات پڑھ لے اُسے جہنم کی آگ نہیں کھائے گی۔”یعنی اُسے قبر حشر اور حشر سے فارغ ہونے کے بعد کبھی آگ کا عذاب نہ ہوگا اور جب وہ پل صراط سے گزر گیا تو آگ کا اس پر اثر نہ ہوگا۔سُبْحَانَ اﷲ! یہ کلمات ایسا روحانی مصالحہ ہیں جس کے لگ جانے سے جہنم کی آگ اثر نہیں کرتی۔“مدنی گلدستہپنجتن پاک کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر چیز کا حقیقی مالکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی ہے ، مخلوق کو جو کچھ عطا ہوا وہ عارضی طورپر ان کی ملکیت میں ہے۔
(2) نظرِبد یا بخار کے مریض کودم کرنا بہت فائدہ مند ہے۔
(3) بندے میں رب تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ ظاہری طاقت ہے نہ باطنی قوت، رب کے کرم کے بغیر نہ بندہ گناہوں سے بچ سکتاہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔
(4) بندہ اپنے ربّ سے دور ہوکر کچھ نہیں کر سکتا جبکہ رب کا قرب پاکر سب کچھ کر سکتاہے۔
(5) بیماری کا علاج دوا کے ساتھ ساتھ دم ودعا سے بھی کرنا چاہیے کہ دونوں ہی طریقے سنت ہیں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں زمینی آسمانی بلاؤں سے محفوظ رکھے اور دِین ودنیا کی بھلائیاں عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 909