Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 909

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ وَاَبِيْ هُرَ يْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا: اَنَّهُمَا شَهِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، فَقَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَاَنَا اَكْبَرُ. وَاِذَا قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، قَالَ: يَقُوْلُ: لَااِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيْكَ لِیْ. وَاِذَا قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ. وَاِذَا قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِیْ، وَكَانَ يَقُوْلُ: مَنْ قَالَهَا فِیْ مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ.

عن ابي سعيد الخدري وابي هر يرۃ رضی اللہ عنہما: انهما شهدا علی رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال: من قال: لااله الا الله والله اكبر، صدقه ربه، فقال: لا اله الا انا وانا اكبر. واذا قال: لا اله الا الله وحده لا شريك له، قال: يقول: لااله الا انا وحدي لا شريك لی. واذا قال: لا اله الا الله له الملك وله الحمد، قال: لا اله الا انا لي الملك ولي الحمد. واذا قال: لااله الا الله ولا حول ولا قوة الا بالله، قال: لااله الا انا ولا حول ولا قوة الا بی، وكان يقول: من قالها فی مرضه ثم مات لم تطعمه النار.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدری اور حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ وہ دونوںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جس نے کہا:لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَاللّٰہ اَكْبَرُیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیںاللّٰہسب سے بڑا ہے، تواللّٰہتعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے:”واقعی میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔“اور جب بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُیعنی اکیلےاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں میں ایک ہوں میرا کوئی شریک نہیں“اور جب بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے:”میرے سوا کوئی معبود نہیں میرے لیے ہی بادشاہی ہے اور میرے لیے ہی تعریف ہے۔“اور جب بندہ کہتا ہے:لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقتاللّٰہکی توفیق سے ہی ہے، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت میں ہی عطا کرنے والا ہوں۔“نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرمایا کرتے تھےکہ”جو اپنی بیماری میں یہ کلمات کہے اور پھر فوت ہوجائے تو اُسے جہنم کی آگ نہیں جلائے گی ۔“

شرح حدیث

فرشتوں کے سامنے بندے کاذِکر:حدیثِ مذکور میں وہ مبارک کلمات بیان کیے گئے ہیں کہ جنہیں بندہ بیماری کی حالت میں پڑھ لے اور پھر فوت ہو جائے تو ان کلمات کی برکت سے وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔ حدیث پاک میں چار کلمات بیان کیے گئے ہیں،جب بندہ’’لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَاللّٰہ اَكْبَرُ‘‘کہتاہےتو رب تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ یہ پڑھ رہا ہے اور وہ سچا ہے سچ کہہ رہاہے۔سُبْحَانَ ا ﷲ! بندے کی خوش نصیبی ہے کہ اس کی تھوڑی سی لب کی حرکت سے اس کا ذکر بارگاہِ رب العالمین میں فرشتوں کے سامنے آجائے اور ساتھ میں خود رب تعالیٰ تصدیق بھی فرمادے۔پھر جب بندہ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ‘‘ کہتاہےتو رب تعالیٰ فرماتاہے: ’’واقعی میرے سواکوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘پھر بندہ ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ“کہتا ہے توربِّ کریم فرماتاہے:”میرے سوا کوئی معبود نہیں میرے لیےہی بادشاہی اورمیرے لیے ہی تعریف ہے۔‘‘پھر جب بندہ’’لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہ“ کہتا ہے تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں میں ہی گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت عطا کرتاہوں۔‘‘
مرآۃ المناجیح میں ہے:”خیال رہے کہ
لَاحَوْلشریف میں انسان اپنی انتہائی بے بسی کا اقرار اور رب تعالیٰ کی انتہائی قدرت کا اعتراف کرتا ہے یہ ہی بندگی کا مدار ہے اسی لیے یہ جنت کا خزانہ ہے۔ حول کے معنی ہیں ظاہری طاقت، قوۃ کے معنی ہیں باطنی قدرت یا حول سے مراد ہے دفع شر کا حیلہ اور قوت سے مراد ہے خیرحاصل کرنے کا ذریعہ یعنی بندے میں بغیر رب تعالیٰ کی مدد کے نہ ظاہری طاقت ہے نہ اندرونی قوت، اس کےکرم کے بغیربندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہاللّٰہکی دَین، اس کے کرم سے بندہ میں ظاہری باطنی طاقتیں آسکتی ہیں جیساکہ اولیاوانبیا کی کرامات و معجزات سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان نے تین میل سے دور چیونٹی کی آوازسن کر سمجھ لی، حضرت آصف بن برخیا پَل بھر میں یمن سے تختِ بلقیس لے آئے یہ ربانی طاقتیں رحمانی عطا سے تھیں، بجلی کے بلب، پنکھے، مشین وغیرہ بغیر پاورمحض بیکار ہیں پاور آجائے تو بہت طاقتور ہوجاتے ہیں، بجلی کا تار آدمی کیا ہاتھی کو ہلاک کردیتا ہے۔“ مزید فرماتے ہیں کہ بندہ رب سے کٹ کر کچھ نہیں نہ اس میںحَوْلرہتی ہے نہقُوّتمگر رب سے واصل ہو کر سب کچھ بن جاتا ہے کہ اس میں حول بھی آجاتی ہے اور قوت بھی، قطرہ دریا سے الگ ہو تو کچھ نہیں مگر دریا میں جاتے ہی اس میں روانی، طغیانی، فراوانی سب کچھ آجاتی ہے، شیشہ سائے میں رہے تو کچھ نہیں مگر آفتاب کے مقابل ہوکر اس میں شعاعیں روشنی تیزی دھوپ سب کچھ آجاتی ہے۔اِلَّا بِاﷲمیںباِلصاق کی ہے یعنیاللّٰہسے مل کر بندے میں حول و قوت سب کچھ آجاتی ہے۔“حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ جو بیماری کی حالت میں یہ کلمات پڑھ لے اُسے جہنم کی آگ نہیں کھائے گی۔”یعنی اُسے قبر حشر اور حشر سے فارغ ہونے کے بعد کبھی آگ کا عذاب نہ ہوگا اور جب وہ پل صراط سے گزر گیا تو آگ کا اس پر اثر نہ ہوگا۔سُبْحَانَ اﷲ! یہ کلمات ایسا روحانی مصالحہ ہیں جس کے لگ جانے سے جہنم کی آگ اثر نہیں کرتی۔“مدنی گلدستہپنجتن پاک کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) ہر چیز کا حقیقی مالک
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی ہے ، مخلوق کو جو کچھ عطا ہوا وہ عارضی طورپر ان کی ملکیت میں ہے۔
(2) نظرِبد یا بخار کے مریض کودم کرنا بہت فائدہ مند ہے۔
(3) بندے میں رب تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ ظاہری طاقت ہے نہ باطنی قوت، رب کے کرم کے بغیر نہ بندہ گناہوں سے بچ سکتاہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔
(4) بندہ اپنے ربّ سے دور ہوکر کچھ نہیں کر سکتا جبکہ رب کا قرب پاکر سب کچھ کر سکتاہے۔
(5) بیماری کا علاج دوا کے ساتھ ساتھ دم ودعا سے بھی کرنا چاہیے کہ دونوں ہی طریقے سنت ہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں زمینی آسمانی بلاؤں سے محفوظ رکھے اور دِین ودنیا کی بھلائیاں عطافرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 909