Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 905

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللهِ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّہُ شَكَا اِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا، یَجِدُہُ فِیْ جَسَدِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِيْ تَاَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ ثَلَاثًا، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اَعُوْذُ بِعِزَّ ةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ.

عن ابی عبد الله عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ انہ شكا الی رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعا، یجدہ فی جسده، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ضع يدك على الذي تالم من جسدك وقل: بسم الله ثلاثا، وقل سبع مرات: اعوذ بعز ة الله وقدرته من شر ما اجد واحاذر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوعبداللّٰہعثمان بن ابو العاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے جسم میں درد کی شکایت کی تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے فرمایا: اپنا ہاتھ اپنے جسم کے اس حصے پر رکھو جہاں درد ہے اور تین باربِسْمِ اللّٰہپڑھو اور سات بار(یہ دعا) پڑھو:”اَعُوْذُ بِعِزَّ ةِ اللّٰہ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ‘‘یعنیاللّٰہتعالیٰ کی عزت و قُدرت کے ساتھ میں اس شر سے پناہ چاہتاہوں جسے میں پارہاہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے۔

شرح حدیث

حضور کی بارگاہ میں بیماری کی شکایت:حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنا عثمان بن ابو العاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اپنے جسم میں درد کی شکایت کی تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں درد سے نجات کی دعا ارشاد فرمائی ،اس دعا کی برکت سے آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو درد سے خلاصی نصیب ہوئی۔” اس سے معلوم ہوا کہ بیماری، ناداری اورتمام مصائب کی شکایات حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے کرسکتے ہیں۔ہم گنہگاروں کا حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے فریادکرنا اسی حدیث سے ماخوذ ہے، اس میں رب سے ناراضی نہیں بلکہ اپنے شہنشاہ سے فریاد ہے اور دفعیہ کے لیے عرض معروض ہے جیسے مظلوم حاکم سے اور بیمارحکیم سے اپنی شکایات پیش کرتے ہیں۔‘‘عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت سَیِّدُنَا عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو درد کی جگہ پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا کیونکہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماس بات کی تعلیم دینا چاہتے تھے کہ دم کرنے والے کا مریض پر ہاتھ رکھنا مریض کو فائدہ پہنچاتا ہے۔حدیث مذکور میںبِسْمِ اللّٰہسے مراد مکملبِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمہے۔حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے سات مرتبہ”اَعُوْذُ بِعِزَّ ةِ اللّٰہ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ“ پڑھنے کا حکم ارشادفرمایا،یہ طبِ الٰہی سے علاج ہے کیونکہ اس میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر ہے اور اس دعا کو پڑھنے والے کا خود کو اس کے سُپرد کرنا ہے اور اس کی عزت سے پناہ طلب کرنا ہے اور اس دعا کی بار بار تکرار مریض کو بہت فائدہ پہنچاتی ہے اور اس کا خوب اثر ہوتا ہے جیساکہ طبیب کی دوا بار بار استعمال کرنے سے انسان کے بدن سے نقصان دہ مادے نکل جاتے ہیں اسی طرح اس دعا کی تکرار کرنے یعنی سات بار پڑھنے سے مریض کی حالت اچھی ہو جاتی ہے اور اس دعا کو سات مرتبہ ہی پڑھا جائے کہ اس میں ایک خاص تاثیر ہے اور وہ تاثیر سات کے علاوہ کسی اور عدد میں نہیں پائی جاتی۔ ”ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ یہ دعا تکلیف دور کرتی ہے یا اس میں کمی کردیتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا سچی نیت اور کامل یقین کے ساتھ یہ دعا پڑھے کہ مجھے اس دعا سے فائدہ ہوگا۔“اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جسم کے جس حصہ میں درد ہو اس جگہ پر ہاتھ رکھ کر مذکورہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خیال رہے کہ ان صحابی نے خود ہی دعا نہ مانگی بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے اجازت لےکر دعا کی۔ مشائخ کرام سے جو وظیفوں اور دعاؤں کی اجازت لی جاتی ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے، اجازت سے عمل کی تاثیر بڑھ جاتی ہے، دعائیں کارتوس ہیں اور بزرگوں کی زبان اور اجازت رائفل، بغیر رائفل شیر مارنے والا کارتوس مرغی کو نہیں مارسکتا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 905