- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ جب کوئی شخص حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کسی بیماری کی شکایت کرتا یا اُسے کوئی زخم یا پھوڑا ہو جاتا تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی انگلی سے اِس طرح اِشارہ کرتے ہوئے فرماتے(پھرحدیث کے ایک راوی حضرت سفیان بن عیینہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اٹھائی):”اللّٰہکے نام سے، ہماری زمین کی مٹی جو ہمارے بعض کے لعاب سے ملی ہوتی ہے،بحکم پروردگار اِس سے ہمارے مریض کو شفادی جاتی ہے۔‘‘
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا اشْتَكىَ الْاِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، اَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ اَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاُصْبُعِهِ هٰكَذَا وَوَضَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ الرَّاوِي سَبَّابَتَهُ بِالْاَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا وَقَالَ: بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ اَرْضِنَا، بِرِ يْقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيْمُنَا باِذْنِ رَبِّنَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 901 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب اپنے گھروالوں میں سے کسی کی عیادت فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ مریض پر پھیرتے ہوئے دعافرماتے: ”اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْهِبِ الْبَاْسَ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُسَقَمًا‘‘یعنی اےاللّٰہ! لوگوں کے رب، تکلیف دور کردے اور شفا عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعُوْدُ بَعْضَ اَهْلِهِ يَمْسَحُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى وَيَقُوْلُ:اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْهِبِ الْبَاْسَ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 902 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت ثابترَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے فرمایا: کیا میں تمہیںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموالا دم نہ کردوں؟انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں، ضرور۔ چنانچہ حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ کلمات پڑھے:”اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاْسِ، اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شَافِيَ اِلَّا اَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا‘‘یعنی اےاللّٰہ! لوگوں کے رب، تکلیف دور کرنے والے، شفا عطا فرما توہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو نہ چھوڑے۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّهُ قَالَ لِثَابِتٍ رَحِمَهُ اللهُ: اَلَا اَرْقِيْكَ بِرُقْيَةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: اللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ الْبَاْسِ، اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شَافِيَ اِلَّا اَنْتَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 903 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُناسعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری عیادت فرمائی اور دعا کی :”اےاللّٰہ!سعد کو شفا عطا فرما،اےاللّٰہ!سعد کو شفا عطا فرما، اےاللّٰہ! سعد کو شفا عطا فرما۔“
عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: عَادَنِیْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اَللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اَللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 904 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُنا ابوعبداللّٰہعثمان بن ابو العاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے جسم میں درد کی شکایت کی تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے فرمایا: اپنا ہاتھ اپنے جسم کے اس حصے پر رکھو جہاں درد ہے اور تین باربِسْمِ اللّٰہپڑھو اور سات بار(یہ دعا) پڑھو:”اَعُوْذُ بِعِزَّ ةِ اللّٰہ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ‘‘یعنیاللّٰہتعالیٰ کی عزت و قُدرت کے ساتھ میں اس شر سے پناہ چاہتاہوں جسے میں پارہاہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے۔
عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللهِ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّہُ شَكَا اِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا، یَجِدُہُ فِیْ جَسَدِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِيْ تَاَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ ثَلَاثًا، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اَعُوْذُ بِعِزَّ ةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 905 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: جو بندہ ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو اور وہ اس کے پاس سات مرتبہ یہ پڑھے:’’اَسْاَلُ اللّٰہ الْعَظِيْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ يَشْفِيَكَ‘‘یعنی میں عظمت والے ربّ، عرشِ عظیم کےمالک سےتیری شفایابی کی دعا کرتا ہوں۔تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے شفاعطافرماتاہے ۔
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَادَ مَرِيْضًا لَمْ يَحْضُرْهُ اَجَلُهُ، فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اَسْاَلُ اللهَ الْعَظِيْمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَنْ يَشْفِيَكَ اِلَّا عَافَاهُ اللهُ مِنْ ذٰلِكَ الْمَرَضِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 906 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک اَعرابی کی بیمار پُرسی کے لیے تشریف لے گئے اورآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب بھی کسی کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے:”لَا بَاْسَ طَهُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰہیعنی کوئی ڈر نہیں، اگراللّٰہنے چاہا تویہ بیماری پاک کرنے والی ہے۔“
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى اَعْرَابِیٍّ یَعُوْدُهُ، وَكَانَ اِذَا دَخَلَ عَلَى مَنْ يَعُوْدُهُ، قَالَ: لَا بَاْسَ طَهُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 907 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:اے محمد!(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کیا آپ بیماری کی وجہ تکلیف محسوس کر رہے؟ فرمایا: ہاں،حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ کلمات کہے: ”بِسْمِ اللّٰہ اَرْقِيْكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللّٰہ یَشْفِيْكَ، بِسْمِ اللّٰہ اَرْقِيْكَیعنی میںاللّٰہکے نام سے آپ کو دَم کرتا ہوں ہر ایذاء پہنچانے والی چیز سے، ہرنفس کی شرارت یا حاسِد کی نظر سے،اللّٰہآپ کو شفا عطا فرمائے، میںاللّٰہکے نام سے آپ کو دَم کرتا ہوں۔“
عَنْ اَبِیْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ جِبْرِيْلَ اَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! اشْتَكَيْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِسْمِ اللهِ اَرْقِيْكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اَللهُ يَشْفِيْكَ، بِسمِ اللهِ اَرْقِيْكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 908 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدری اور حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ وہ دونوںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جس نے کہا:لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَاللّٰہ اَكْبَرُیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیںاللّٰہسب سے بڑا ہے، تواللّٰہتعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے:”واقعی میرے سوا کوئی معبود نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔“اور جب بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُیعنی اکیلےاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں میں ایک ہوں میرا کوئی شریک نہیں“اور جب بندہ کہتا ہے:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے:”میرے سوا کوئی معبود نہیں میرے لیے ہی بادشاہی ہے اور میرے لیے ہی تعریف ہے۔“اور جب بندہ کہتا ہے:لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہیعنیاللّٰہکے سوا کوئی معبود نہیں گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقتاللّٰہکی توفیق سے ہی ہے، تواللّٰہتعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے سوا کوئی معبود نہیں گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت میں ہی عطا کرنے والا ہوں۔“نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرمایا کرتے تھےکہ”جو اپنی بیماری میں یہ کلمات کہے اور پھر فوت ہوجائے تو اُسے جہنم کی آگ نہیں جلائے گی ۔“
عَنْ اَبيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ وَاَبِيْ هُرَ يْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا: اَنَّهُمَا شَهِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَرُ، صَدَّقَهُ رَبُّهُ، فَقَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَاَنَا اَكْبَرُ. وَاِذَا قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، قَالَ: يَقُوْلُ: لَااِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيْكَ لِیْ. وَاِذَا قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ. وَاِذَا قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ، قَالَ: لَااِلٰهَ اِلَّا اَنَا وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِیْ، وَكَانَ يَقُوْلُ: مَنْ قَالَهَا فِیْ مَرَضِهِ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 909 ، باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟