Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 906

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ عَادَ مَرِيْضًا لَمْ يَحْضُرْهُ اَجَلُهُ، فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ: اَسْاَلُ اللهَ الْعَظِيْمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَنْ يَشْفِيَكَ اِلَّا عَافَاهُ اللهُ مِنْ ذٰلِكَ الْمَرَضِ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: من عاد مريضا لم يحضره اجله، فقال عنده سبع مرات: اسال الله العظيم، رب العرش العظیم، ان يشفيك الا عافاه الله من ذلك المرض.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: جو بندہ ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو اور وہ اس کے پاس سات مرتبہ یہ پڑھے:’’اَسْاَلُ اللّٰہ الْعَظِيْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ يَشْفِيَكَ‘‘یعنی میں عظمت والے ربّ، عرشِ عظیم کےمالک سےتیری شفایابی کی دعا کرتا ہوں۔تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے شفاعطافرماتاہے ۔

شرح حدیث

شفاملنے کی صورتیں:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”(حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ مریض کے سامنے یہ دعا پڑھنے سے مریض کو شفا نصیب ہوگی) یہ حکم تغلیبی ہے یعنی اکثر شفا ہوگی یامطلب یہ ہے کہ اگر اس عمل کے تمام شرائط جمع ہوں توبِفَضْلِہٖ تَعَالیٰضرور شفا ہوگی۔ اگرکبھی شفا نہ ہوتوسمجھو کہ ہماری طرف سے کوئی کوتاہی ہے،اللّٰہ ،رسول سچے ہیں۔ اس سےمعلوم ہوا کہ موت کا علاج نہیں۔ نیز اگر قریب المرگ پر یہ دعا پڑھی جائے تواِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی جان کنی آسان ہوگی اور ایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا۔ غرضکہ دعارائیگاں نہ جائے گی، شفائے ظاہر نہ ہو تو شفائےباطن ہوگی۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 906