Main Icon

باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 902

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعُوْدُ بَعْضَ اَهْلِهِ يَمْسَحُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى وَيَقُوْلُ:اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْهِبِ الْبَاْسَ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.

عن عائشة رضی اللہ عنہا ان النبي صلى الله عليه وسلم کان يعود بعض اهله يمسح بيده اليمنى ويقول:اللهم رب الناس، اذهب الباس، واشف انت الشافي لا شفاء الا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب اپنے گھروالوں میں سے کسی کی عیادت فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ مریض پر پھیرتے ہوئے دعافرماتے: ”اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، اَذْهِبِ الْبَاْسَ، وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُسَقَمًا‘‘یعنی اےاللّٰہ! لوگوں کے رب، تکلیف دور کردے اور شفا عطا فرما تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔

شرح حدیث

مریض پر ہاتھ پھیرنا سنت ہے:اِس حدیث سےمعلوم ہوا کہ بیمار پر ہاتھ پھیرنا بھی سنت ہے تاکہ کلام کی برکت کے ساتھ ہاتھ کی برکت بھی مریض کو پہنچے، یہ حدیث صوفیا کے اس عمل کی اصل ہے۔(یعنی صوفیا کرام کی بارگاہ میں جب کوئی عقیدت مند یا مریض حاضر ہوتا ہے تو وہ برکت کے لیے اس کے سر یا پیٹھ پر ہاتھ پھیر دیتے ہیں، یہ حدیث اس عمل کی اصل ہے)۔مرقاۃ المفاتیح میں ہے:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا میں فرمایا:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! توہی شافی ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں۔“ یعنی طبیب کی تدبیر اور دوا مریض کو نفع نہیں پہنچا سکتی جب تکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّشفا عطا نہ فرمائے اور اس دوا میں شفا پیدا نہ فرمادے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”دوا بیماری دور کرنے میں مؤثر تو ہے مگر مستقل مؤثر نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے تابع ہے وہ چاہے تو دوا کو مؤثر بنادے، جباللّٰہتعالیٰکسی بیمار کی شفا نہیں چاہتا تو دوا اور مرض کے درمیان ایک فرشتے کے ذریعے آڑ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے دوا مرض پر واقع نہیں ہوتی، جب شفا کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جس سے دوا مرض پر واقع ہوتی ہے اور شفا ہوجاتی ہے۔ ہم نے بہت بیماروں کو دیکھا کہ دوا اُن کے حلق سے نیچے نہیں اُترتی بعد موت ان کے منہ سے دوا نکلتی ہے یہ ہے وہ آڑ۔“ہمیشہ کامل نعمت مانگنی چاہیے:حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا کے آخر میں فرمایا کہ اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ایسی شفا عطا کر جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔”اس سےمعلوم ہوا کہ ہمیشہ کامل نعمت کی دعا مانگو یعنی وہ شفا دے جو بیماری اور کمزوری سب کچھ دورکردے۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی اس دعا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات مریض کو موجودہ بیماری سے تو شفا نصیب ہو جاتی ہے لیکن وہ بیماری اپنے پیچھے کوئی اور مرض چھوڑ جاتی ہے اس لیے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایسی شفا کی دعا مانگی کہ جس کے بعد کوئی بیماری نہ ہو۔ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ مرض تو گناہوں کے کفارے اور ثواب کے حصول کا سبب ہے تو پھر اس سے نجات کی دعا کیوں مانگی جارہی ہے؟ تو اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ دعا کرنا خود ایک عبادت ہے اور یہ گناہوں کے کفارے اور ثواب کے منافی نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں چیزیں تو مرض کے آنے اور اس پر صبر کرنے ہی سے حاصل ہو جاتی ہیں، دعا ان چیزوں کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنتی۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 902