Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1010

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيْ: قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ: وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهِ اِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.وَ فِيْ رَوَايَةٍ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَصْحَابِهِ:اَيَعْجِزُ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّقْرَاَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوْا:اَيُّنَا يُطِيْقُ ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ الله ؟فَقَالَ:﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ثُلُثُ الْقُرْآنِ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه:ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في: قل هو الله احد: والذي نفسي بيده انها لتعدل ثلث القران.و في رواية: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاصحابه:ايعجز احدكم ان يقرا بثلث القران في ليلة فشق ذلك عليهم وقالوا:اينا يطيق ذلك يا رسول الله ؟فقال:﴿ قل هو الله احد(۱) الله الصمد﴾ثلث القران.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾(یعنی سورۂ اخلاص)کے متعلق فرمایا:” اُس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ایک روایت میں ہے کہ رسولِ پاک،صاحبِ لولاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا: ” کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھے؟“صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو یہ بات گراں معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ارشادفرمایا: ’’﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾(یعنی سورۂ اِخلاص) تہائی قرآن ہے۔ “

شرح حدیث

تہائی قرآن سے مراد:”سورۂ اِخلاص تہائی قرآن ہے۔ “اس کی شرح کرتے ہوئےمُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”شارِحین نے اس جملہ کے بہت معنیٰ کئے ہیں،بہترین معنیٰ یہ ہیں کہ ایک بار﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾پڑھنے کا ثواب دس پارے تلاوت کرنے کے برابر ہے۔لہٰذا تین بار تلاوت کرلینے سے سارا قرآن شریف پڑھ لینے کا ثواب ہے۔ ختم شریف وغیرہ میں تمام سورتیں ایک ایک بار پڑھی جاتی ہیں مگر سورۂ اخلاص تین بار،اس عمل کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔خیال رہے کہ قرآن کریم میں تین قسم کے مضامین ہیں:اﷲ تعالٰیکی ذات و صفات،قصے،احکام اور سورۂ اخلاص میں ذات و صفاتِ الٰہی کا مکمل ذِکر ہے،اس لیے یہ سورۃ قرآ ن کریم کے تہائی کا ثواب رکھتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حمدِالٰہی کی آیات دیگر آیات سے افضل ہیں۔
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:قرآن میں تین اُمور قصص،احکام اوراﷲ تعالیٰکی صفات ہیں اور یہ سورت صرف صفات پر مشتمل ہے لہٰذا تین کا جز قرآن کی تہائی ہے۔بعض نے کہا: اس کا ثواب تضعیف کے بغیر ثُلُثِ قرآن کے ثواب کی مقدار ہے(یعنی بغیر دس دُگنا ہوئے اس کا ثواب تہائی قرآن کے برابر ہے)۔بعض علما نے کہا :قرآنِ کریم تین اَقسام سے مُتَجَاوِز نہیں یہاﷲ تعالیٰکی ذات کی معرفت ،اس کے اَسمااور صفات کی معرفت اور اس کے اَفعال اورسُنَن کی معرفت کی راہنمائی کرتا ہے چونکہ یہ سورت تقدیس پرمشتمل ہے (یعنیاﷲتعالیٰ ہر عیب سے مُقَدَّس اور پاک ہے)اس لئےسرورِ کائناتصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اس کو ثُلُث قرآن (تہائی قرآن)کے برابر قرار دیا ہے۔بعض علما نے کہا:یہ سورت اقرار بِالتَّوحید اور خالقِ کائنات کی ذات سِتُودہ صفات پریقین رکھنے کو شامل ہے اس لئے اسے پڑھنے والاایسا ہے جیسے اُس نے ایک تہائی قرآن پڑھا ہو۔تمام صفاتِ کمالیہ کومتضمن دو نام:علامہ ابو العباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہ سورتاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے دو ایسے ناموں پرمشتمل ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے تمام اَوصافِ کمالیہ کواپنے اندرلیے ہوئے ہیں اور اس سورت کے علاوہ کسی اور سورت میں دو ایسےنام نہیں۔ان میں سے ایک نام ”اَلْاَحَد“جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے اس وجودِ خاص کی خبر دیتا ہے جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہےاور دوسرا نام ”اَلصَّمَد“ہے جواﷲ عَزَّوَجَلَّکے تمام اَوصافِ کمالیہ کو شامل ہے کہ ”صَمَد“وہ ہے جس کی طرف سرداری کی انتہا ہو اور تمام حاجتوں میں اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اس کا اطلاق۱س پر صحیح ہے جس نے حقیقتاًتمام صفاتِ کمال کو جمع کرلیا ہو اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کسی میں حقیقتاًتمام صفاتِ کمال جمع نہیں ۔چنانچہ معلوم ہوا کہ ان دو ناموں کی جو خصوصیت ہے وہ کسی اور اسم میں نہیں اور چونکہ اس سورت میں یہ خصوصیت ظاہر ہوئی اس وجہ سے یہ آیت تہائی قرآن پاک کے برابر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1010