Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1019

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا الْمُنْذِرِ! اَتَدْرِيْ اَيُّ آ يَةٍ مِّنْ كِتَابِ الله مَعَكَ اَعْظَمُ؟ قُلْتُ: اﷲ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِيْ وَقَالَ: لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ اَبَا الْمُنْذِرِ.

عن ابي بن كعب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابا المنذر! اتدري اي ا ية من كتاب الله معك اعظم؟ قلت: اﷲ لا الہ الا ہو الحی القیوم، فضرب في صدري وقال: ليهنك العلم ابا المنذر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااُبَیْ بِن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اے ابو مُنذِر!کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس قرآن میں سے سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے؟‘‘میں نے عرض کی:اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔تو حضورِانورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا:”تمہیں عِلم مبارک ہو۔“

شرح حدیث

پہلی بار نہ بتانے اوردوسری بار پوچھنے پر بتانے کی وجہ:مسلم شریف کی یہ حدیثِ پاک مکمل یوں ہے کہ جب پہلی مرتبہ حضور نبی رحمتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےدریافت فرمایا کہ قرآنِ پاک کی کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے تو حضرت سَیِّدُنا اُبَی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:اﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔دوبارہ دریافت فرمایا تو عرض کی:اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”پہلی بار نہ بتانے اور پھر بتادینے کی شارِحین نے بہت وجوہ بیان کی ہیں فقیر کی نظر میں قوی وجہ یہ ہے کہ ان دو سوالوں کے درمیان کے وقفہ میں نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اُن کے دِل میں جواب بطورِ فیضان اِلقا فرما دیا پھر پوچھا تو آپ نے وہ ہی اِلقا کیا ہوا جواب عرض کردیا۔حضراتِ صُوفیاء کبھی نظر سے،کبھی سینہ پرہاتھ رکھ کر،کبھی مرید کو سامنے بٹھا کر،کبھی کوئی بات پوچھ کر فیض دیتے ہیں۔ان طریقوں کی اصل یہ حدیث ہے۔حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اُبَیْ ابنِ کعب (رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)کو نظر بھر کر دیکھا جس سے ان کے سینہ میں علوم کے دریا بہہ گئے۔“اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ پہلے حضرت سَیِّدُنا اُبَی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو پوچھنے پر علم نہ ہو لیکن جب انہوں نےیہ کہاکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں تواﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان کا سینہ کھول دیا ہو اور اسے نور سے مامور کردیا ہو اور انہیں اس کا جواب سمجھا دیا ہو،اس لئے جب انہوں نے دوبارہ پوچھنے پر جواب دیا تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں مبارکباد دی۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:حضرت اُبَی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے پہلی مرتبہ تو ازراہِ ادب جواب نہیں دیا، دوسری مرتبہ جب آپ نے پھر پوچھا توانہوں نے آپ کے سوال کے پیش نظر جواب دیا،گویا اس طرح انہوں نے بڑے لطیف انداز میں ادب وفرمانبرداری دونوں کو جمع کردیاجیساکہ اہلِ کمال کا طریقہ ہے۔سب سے زیادہ عظمت والی آیت سے مراد:سب سے زیادہ عظمت والی آیت سے مراد اُخروی ثواب اور دنیاوی فوائد میں زیادہ ہے۔یہ زیادتی اضافی ہے،لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کسی حدیث میں کسی آیت کو اعظم فرمایا اور دوسری حدیث میں دوسری آیت کو۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:آیت الکرسی کو سب سے زیادہ عظمت والی اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں توحید،تعریف وتعظیمِ الٰہی ،اَسمائے حُسنی اور صفاتِ باری تعالیٰ جیسے عظیم وعالی مضامین کا بیان ہے۔”تمہیں علم مبارک ہو۔“اس کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی اے اُبَیْ تمہیں یہ علم لدنی مبارک ہوکہ بغیر کتابیں پڑھے داتا کی دین اور راہبر کامل کی ا یک نگاہ کرم سے تمہیں سب کچھ مل گیا۔“حدیث مذکور کے 5فوائد:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمیں مذکورہ حدیث کے فوائد ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(1)اس حدیث میں حضرت سَیِّدُنا ابی بن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی عظیم منقبت اور ان کے کثرت علم کی دلالت ہے۔(2)اس بات کا بیان ہے کہ عالِم کا اپنے اصحاب میں سے کسی کی فضیلت بیان کرنااور اسے کنیت سے پکارناجائز ہے۔ (3)کسی مصلحت کی بنا پر منہ پر تعریف کرنا جائز ہے جبکہ سامنے والے کے خود پسندی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ (4)اس حدیث میں اس پر دلیل ہے کہ بعض سورتیں بعض سے افضل ہیں۔(5)آیت الکرسی کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہےکہ اس میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی سات صفات کا ذکر ہے: اُلُوہیَّت،وحدانیت،حیات،علم،مِلک،قدرت اور اِرادہ۔ان سات کو اصولِ اسما وصفاتِ الٰہی کہتے ہیں۔آیت الکرسی کی خصوصیت:علامہ ابو العباس احمد بن منیر مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیکہتے ہیں کہ میرے دادارَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے تھے :آیت الکرسی میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے جتنے اسما ہیں کسی اور آیت میں اتنے نہیں ہیں کیونکہ اس آیت میں سترہ جگہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا اسم ہے ،بعض جگہ اسم ظاہر اور بعض جگہ اسم ضمیر ہے۔آیت الکرسی کے 3فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے تو اسے موت کے سوا کوئی چیز جنت سے نہ روکے گی اور جو بستر پر لیٹتے وقت اسے پڑھ لے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے گھر ، اس کے پڑوسی کے گھر اور آس پاس کے گھر والوں کو امان عطا فرمائے گا ۔“(2)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” ہر چیز کی ایک بلندی ہے اور بیشک قرآن کی بلندی سورۂ بقرہ ہے، اور اس میں ایک آیت ایسی ہے جو کہ قرآن پاک کی آیتوں کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔“(3)حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حُضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جائے اگر شیطان وہاں موجود ہوگا تو بھاگ جائے گا۔“مدنی گلدستہ’’آیت الکُرسی‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) آیت الکرسی قرآنِ پاک کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت ہے۔
(2) آیت الکرسی کو سب سے زیادہ عظمت والی آیت اِس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں توحید،تعظیمِ اِلٰہی،اسمائے حُسنٰی اور صفاتِ باری تعالیٰ جیسے عظیم وعالی مضامین کا بیان ہے۔
(3) صوفیائے
کرام رَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامکبھی نظر سے،کبھی سینہ پرہاتھ رکھ کر،کبھی مرید کو سامنے بٹھا کر اور کبھی کوئی بات پوچھ کر فیض دیتے ہیں۔
(4) کسی مصلحت کی بنا پر کسی شخص کے منہ پر تعریف کرناجائز ہے جبکہ اس سے اس کے خود پسندی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
(5) آیت الکرسی میں سات اصولِ اَسما و صفاتِ الٰہی کا ذِکر ہے:(1)
اُلُوہیَّت(2)وحدانیت(3) حیات (4) علم(5)ملک(6)قدرت اور(7)ارادہ۔
(6) آیت الکرسی میں
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے جتنے اسما ہیں کسی اور آیت میں اتنے نہیں ہیں کیونکہ اس میں سترہ جگہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا اسم ہے ،بعض جگہ اسم ظاہر اور بعض جگہ اسم ضمیر ہے۔
(7) نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے پر جنت کی بشارت ہے ۔
(8) رات کو سوتے وقت آیت الکرسی پڑھنے سے اپنے اور پڑوس کے گھروں کی حفاظت رہتی ہے۔
(9) جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جائے اگر شیطان وہاں موجود ہوگا تو بھاگ جائے گا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت آیت الکرسی پڑھنے کا عادی بنائےاور اس کی برکتوں سے ہمیں مالا مال کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1019