Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1016

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مِنَ الْقُرْآنِ سُوْرَةٌ ثَلاثُوْنَ آ يَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾.

عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من القران سورة ثلاثون ا ية شفعت لرجل حتى غفر له وهي:﴿ تبرك الذی بیده الملك﴾.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”قرآنِ پاک کی ایک تیس آیات والی سورت نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ ﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾(یعنی سورۂ ملک) ہے۔“

شرح حدیث

سورۂ ملک کی شفاعت:تیس آیات والی سورت سے”معلوم ہواکہبِسْمِ اﷲشریف سورت کا جزنہیں ورنہ سورۂ ملک کی آیتیں۳۱ ہوجاتیں کیونکہ سورۂ ملک کیبِسْمِ اﷲکے علاوہ تیس آیتیں ہیں۔“
”قرآنِ پاک کی ایک تیس آیات والی سورت نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اس کی بخشش ہوگئی۔“اس کی وضاحت کرتے ہوئے
مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی ایک شخص سورۂ ملک کا ورد رکھتاتھا اس سے بہت محبت کرتا تھا اس کے مرنے کے بعد اس سورہ نے اس کی سفارش کی تو اس کی شفاعت کی برکت سے وہ شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہا لہٰذا یہاں”شَفَعَتْ“ بمعنیٰ ماضی ہی ہے۔معلوم ہوا کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اس عالَم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔
علامہ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اگر ”شَفَعَتْ“ بمعنی ماضی ہو جیسا کہ حدیثِ پاک سے ظاہر ہورہا ہے تو اس صورت میں یہ غیب کی خبر ہےاور”شَفَعَتْ“ بمعنی مستقبل بھی ہوسکتا ہے یعنی سورۂ ملک اپنے عاملوں کی شفاعت کرے گی اور اس کی شفاعت کی برکت سے عامل کی بخشش ہوگی،اس صورت میں یہ فرمان ترغیب کے لیے ہے تاکہ لوگ پابندی سے اس کی تلاوت کیا کریں۔“سورۂ ملک کے3 فضائل:(1)حضرت سیِّدُناعبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ایک شخص سے فرمایا: کیا مىں تمہىں اىک ایسی بات کا تحفہ نہ دوں جو تمہیں خوش کرے؟ اس نے کہا: کىوں نہىں۔فرمایا: تم خودبھى سورۂ مُلک کى تلاوت کىا کرو اور اپنے گھر والوں کو، اپنی اولاد کو، گھر کے بچوں اور پڑوسىوں کو بھی یہ سکھاؤ کىونکہ ىہ نجات دلانے اور جھگڑنےوالى ہے۔یہ اپنے پڑھنےوالے کے لىے بروزِ قیامت ربّعَزَّ وَجَلَّسے جھگڑا کرے گی اور اس کے لیے عذاب دوزخ سے نجات کا مطالبہ کرے گی اور اسےپڑھنے والاعذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
(2)حضرت سیِّدُناعبد
اﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: سورۂ مُلک مانِعَہ(یعنی روکنے والی)ہے یہ عذابِ قبرکو روکتى ہے،جب عذاب سر کى طرف سے آتا ہےتو سر کہتا ہے:یہاں سے تیرے لیے کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ میرے ذریعے سورۂ ملک کی تلاوت کرتا تھا اور جب عذاب قدموں کی طرف سے آتا ہے قدم کہتے ہیں: یہاں بھی تیرے لیے کوئی راہ نہیں کیونکہ ىہ بندہ ہم پر سہارا لے کر سورۂ ملک کی تلاوت کیا کرتا تھا۔
(3)حضرت سیِّدُنا انس بن مالک
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مکہمکرمہ،سردارِمدینہ منورہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اىک شخص فوت ہوگىا،اسےصرف سورۂ ملک ہی یاد تھی، جب اسے قبر میں اُتارا گیا اورعذاب کا فرشتہ آیا تو یہ سورت اس کے سامنےہو گئی، فرشتے نے کہا: تمکتابُ اﷲسے ہواور مجھے تمہارے ساتھ بے ادبی ہرگز پسند نہیں، میں تمہارے لئے، اسمرنے والے کے لئے اور اپنے لئے کسی نَفع اورضَرَر کا مالک نہیں ہوں،اگر تم اسے عذاب سے بچانا چاہتی ہو تو میرے ساتھ ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں چل کر اس کے لئے سفارش کرو۔ چنانچہ سورۂ ملک بارگاہ الٰہی میں پہنچی اور عرض کی: اے میرے ربّ!تیرے فلاں بندے نے مجھے تیری کتاب سے منتخب کر کے سیکھا اور میری تلاوت کی، کیا تو اسے آگ سے جلائے گا اور عذاب دے گا حالانکہ میں اس کے پیٹ میں ہوں؟الٰہی! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو مجھے اپنی کتاب سے مٹا دے۔ ربّ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: میں تجھےناراض ہوتا دیکھ رہا ہوں۔سورۂ مُلک نے عرض کی: ناراض ہونا میرا حق ہے۔ربّ تعالیٰ نے ارشادفرمایا: جا میں نے اسے تیرے حوالے کیا اور اس کے حق میں تیری سفارش قبول کی۔ چنانچہ وہ واپس گئی اور فرشتہ بوجھل قدموں کے ساتھ خالی ہاتھ واپس چلاگیا۔ پھر سورۂ ملک نےاس میت کے منہ پر اپنا منہ رکھ کرکہا: کیا ہی خوب ہے یہ منہ جواکثر میری تلاوت کرتا تھا،کیا ہی خوب ہے یہ سینہ جس نے مجھے محفوظ کیا اورکیا ہی خوب ہیں یہ قدم جن کا سہارا لے کرمجھے تلاوت کیا جاتا تھا۔ پھر وہ قبر میں اس کادل بہلاتی رہتی ہےتاکہ اسے وَحْشَت نہ ہو۔حضرت سیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: جب سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات بیان فرمائی تو مدینہ منورہ میں ہر چھوٹے بڑے،آزادوغلام نے اس سورت کو سیکھ لیا اورآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کا ناممُنْجِیَہ(نجات دلانے والی) رکھا۔مدنی گلدستہ’’مُنْجِیَہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جنات اور انسانوں کی نظر بد سے حفاظت کے لئے سورۂ فلق وناس پڑھنی چاہئے۔
(2) حدیث پاک میں سورۂ ملک کو تیس آیات والی سورت کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ
بِسْمِ اﷲشریف سورۂ ملک کا جزنہیں۔
(3) حضور انور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اس عالم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔
(4) سورۂ ملک پڑھنے والا عذاب قبر سے محفوظ رہے گااور یہ سورت اپنے پڑھنے والے کا قبر میں دل بہلاتی رہے گی تاکہ اسے وحشت نہ ہو نیز یہ سورت بروزِ قیامت اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی۔
(5) حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ ملک کا ناممُنْجِیَہ(یعنی نجات دلانے والی) رکھا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزانہ سورۂ ملک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1016