- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- حدیث نمبر 1016
باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1016
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مِنَ الْقُرْآنِ سُوْرَةٌ ثَلاثُوْنَ آ يَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾.
عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من القران سورة ثلاثون ا ية شفعت لرجل حتى غفر له وهي:﴿ تبرك الذی بیده الملك﴾.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”قرآنِ پاک کی ایک تیس آیات والی سورت نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ ﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾(یعنی سورۂ ملک) ہے۔“
شرح حدیث
سورۂ ملک کی شفاعت:تیس آیات والی سورت سے”معلوم ہواکہبِسْمِ اﷲشریف سورت کا جزنہیں ورنہ سورۂ ملک کی آیتیں۳۱ ہوجاتیں کیونکہ سورۂ ملک کیبِسْمِ اﷲکے علاوہ تیس آیتیں ہیں۔“
”قرآنِ پاک کی ایک تیس آیات والی سورت نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اس کی بخشش ہوگئی۔“اس کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی ایک شخص سورۂ ملک کا ورد رکھتاتھا اس سے بہت محبت کرتا تھا اس کے مرنے کے بعد اس سورہ نے اس کی سفارش کی تو اس کی شفاعت کی برکت سے وہ شخص عذابِ قبر سے محفوظ رہا لہٰذا یہاں”شَفَعَتْ“ بمعنیٰ ماضی ہی ہے۔معلوم ہوا کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اس عالَم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔
علامہ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اگر ”شَفَعَتْ“ بمعنی ماضی ہو جیسا کہ حدیثِ پاک سے ظاہر ہورہا ہے تو اس صورت میں یہ غیب کی خبر ہےاور”شَفَعَتْ“ بمعنی مستقبل بھی ہوسکتا ہے یعنی سورۂ ملک اپنے عاملوں کی شفاعت کرے گی اور اس کی شفاعت کی برکت سے عامل کی بخشش ہوگی،اس صورت میں یہ فرمان ترغیب کے لیے ہے تاکہ لوگ پابندی سے اس کی تلاوت کیا کریں۔“سورۂ ملک کے3 فضائل:(1)حضرت سیِّدُناعبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ایک شخص سے فرمایا: کیا مىں تمہىں اىک ایسی بات کا تحفہ نہ دوں جو تمہیں خوش کرے؟ اس نے کہا: کىوں نہىں۔فرمایا: تم خودبھى سورۂ مُلک کى تلاوت کىا کرو اور اپنے گھر والوں کو، اپنی اولاد کو، گھر کے بچوں اور پڑوسىوں کو بھی یہ سکھاؤ کىونکہ ىہ نجات دلانے اور جھگڑنےوالى ہے۔یہ اپنے پڑھنےوالے کے لىے بروزِ قیامت ربّعَزَّ وَجَلَّسے جھگڑا کرے گی اور اس کے لیے عذاب دوزخ سے نجات کا مطالبہ کرے گی اور اسےپڑھنے والاعذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
(2)حضرت سیِّدُناعبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: سورۂ مُلک مانِعَہ(یعنی روکنے والی)ہے یہ عذابِ قبرکو روکتى ہے،جب عذاب سر کى طرف سے آتا ہےتو سر کہتا ہے:یہاں سے تیرے لیے کوئی راستہ نہیں کیونکہ یہ میرے ذریعے سورۂ ملک کی تلاوت کرتا تھا اور جب عذاب قدموں کی طرف سے آتا ہے قدم کہتے ہیں: یہاں بھی تیرے لیے کوئی راہ نہیں کیونکہ ىہ بندہ ہم پر سہارا لے کر سورۂ ملک کی تلاوت کیا کرتا تھا۔
(3)حضرت سیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مکہمکرمہ،سردارِمدینہ منورہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: اىک شخص فوت ہوگىا،اسےصرف سورۂ ملک ہی یاد تھی، جب اسے قبر میں اُتارا گیا اورعذاب کا فرشتہ آیا تو یہ سورت اس کے سامنےہو گئی، فرشتے نے کہا: تمکتابُ اﷲسے ہواور مجھے تمہارے ساتھ بے ادبی ہرگز پسند نہیں، میں تمہارے لئے، اسمرنے والے کے لئے اور اپنے لئے کسی نَفع اورضَرَر کا مالک نہیں ہوں،اگر تم اسے عذاب سے بچانا چاہتی ہو تو میرے ساتھ ربّعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں چل کر اس کے لئے سفارش کرو۔ چنانچہ سورۂ ملک بارگاہ الٰہی میں پہنچی اور عرض کی: اے میرے ربّ!تیرے فلاں بندے نے مجھے تیری کتاب سے منتخب کر کے سیکھا اور میری تلاوت کی، کیا تو اسے آگ سے جلائے گا اور عذاب دے گا حالانکہ میں اس کے پیٹ میں ہوں؟الٰہی! اگر تیرا یہی ارادہ ہے تو مجھے اپنی کتاب سے مٹا دے۔ ربّ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: میں تجھےناراض ہوتا دیکھ رہا ہوں۔سورۂ مُلک نے عرض کی: ناراض ہونا میرا حق ہے۔ربّ تعالیٰ نے ارشادفرمایا: جا میں نے اسے تیرے حوالے کیا اور اس کے حق میں تیری سفارش قبول کی۔ چنانچہ وہ واپس گئی اور فرشتہ بوجھل قدموں کے ساتھ خالی ہاتھ واپس چلاگیا۔ پھر سورۂ ملک نےاس میت کے منہ پر اپنا منہ رکھ کرکہا: کیا ہی خوب ہے یہ منہ جواکثر میری تلاوت کرتا تھا،کیا ہی خوب ہے یہ سینہ جس نے مجھے محفوظ کیا اورکیا ہی خوب ہیں یہ قدم جن کا سہارا لے کرمجھے تلاوت کیا جاتا تھا۔ پھر وہ قبر میں اس کادل بہلاتی رہتی ہےتاکہ اسے وَحْشَت نہ ہو۔حضرت سیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: جب سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بات بیان فرمائی تو مدینہ منورہ میں ہر چھوٹے بڑے،آزادوغلام نے اس سورت کو سیکھ لیا اورآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کا ناممُنْجِیَہ(نجات دلانے والی) رکھا۔مدنی گلدستہ’’مُنْجِیَہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جنات اور انسانوں کی نظر بد سے حفاظت کے لئے سورۂ فلق وناس پڑھنی چاہئے۔
(2) حدیث پاک میں سورۂ ملک کو تیس آیات والی سورت کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہبِسْمِ اﷲشریف سورۂ ملک کا جزنہیں۔
(3) حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اس عالم کی ہربات ہر واقعہ کی تفصیلی خبر ملتی رہتی ہے یا خود ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں۔
(4) سورۂ ملک پڑھنے والا عذاب قبر سے محفوظ رہے گااور یہ سورت اپنے پڑھنے والے کا قبر میں دل بہلاتی رہے گی تاکہ اسے وحشت نہ ہو نیز یہ سورت بروزِ قیامت اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی۔
(5) حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ ملک کا ناممُنْجِیَہ(یعنی نجات دلانے والی) رکھا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزانہ سورۂ ملک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1016