- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُناابو سعید رافع بن مُعَلّٰیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآنِ کریم کی عظیمُ الشان سورت نہ بتاؤں؟‘‘پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرا ہاتھ پکڑلیا اور جب ہم باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی عظیم الشان سورت بتاؤں گا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱)﴾(یعنی سورۂ فاتحہ) یہ سات آیات ہیں جو باربار پڑھی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم ہے جو مجھے دیا گیا۔“
عَنْ اَبي سَعِيْدٍ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَلَا اُعَلِّمُكَ اَعْظَمَ سُورَةٍ فِی الْقُرْآن قَبْلَ اَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ؟ فَاَخَذَ بِيَدِيْ فَلَمَّا اَرَدْنَا اَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اِنَّكَ قُلْتَ:لَاُعَلِّمَنَّكَ اَعْظَمَ سُورَةٍ في القُرْآنِ قَالَ: اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ المَثَانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِيْمُ الَّذِي اُوْتِيْتُهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1009 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾(یعنی سورۂ اخلاص)کے متعلق فرمایا:” اُس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ایک روایت میں ہے کہ رسولِ پاک،صاحبِ لولاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا: ” کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھے؟“صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو یہ بات گراں معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ارشادفرمایا: ’’﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾(یعنی سورۂ اِخلاص) تہائی قرآن ہے۔ “
عَنْ اَبي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيْ: قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ: وَالَّذِي نَفْسِيْ بِيَدِهِ اِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.وَ فِيْ رَوَايَةٍ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَصْحَابِهِ:اَيَعْجِزُ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّقْرَاَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَيْهِمْ وَقَالُوْا:اَيُّنَا يُطِيْقُ ذٰلِكَ يَا رَسُوْلَ الله ؟فَقَالَ:﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ثُلُثُ الْقُرْآنِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1010 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو سعیدخدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کسی کو بار بار﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾(یعنی سورۂ اخلاص)پڑھتے ہوئے سنا ۔صبح ہوئی تو اس نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اس بات کا ذکر کیااور وہ شخص (یعنی پڑھنے والا)اسے کم خیال کررہا تھا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اُس ذات کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے !یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَاُ:﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا اَصْبَحَ جَاءَ اِلٰى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ وَكَانَ الرَّجُلُ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ اِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْاٰن.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1011 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حُضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾(یعنی سورۂ اخلاص)کے متعلق فرمایا:”یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔“
عَنْ اَبیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيْ:قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ: اِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1012 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اس سورت﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾(یعنی سورۂ اخلاص) سے محبت کرتا ہوں۔رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تیری یہ محبت تجھے جنت میں پہنچا دے گی۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ:يَا رَسُولَ اللهِ! اِنِّیْ اُحِبُّ هٰذِهِ السُّوْرَةَ:﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ قَالَ: اِنَّ حُبَّهَا اَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1013 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عقبہ بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کیا تم دیکھتے نہیں کہ آج رات ایسی آیات اُتری ہیں جن کی مثل دیکھی نہ گئیں اوروہ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾اور﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾(یعنی سورۂ فلق اورسورۂ ناس )ہیں۔“
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِر ٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلَمْ تَرَ آ يَاتٍ اُنْزِلَتْ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ؟ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الفَلَقِ وَ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1014 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجِنَّات سے اور انسانوں کی نظرِ بد سے پناہ طلب کرتے تھے حتّٰی کہمُعَوَّذَتَیْن(سورۂ فلق وناس)نازل ہوئیں تو آپ نے ان کو شروع کردیا اور ان کے سوا کو ترک کردیا۔
عَنْ اَبِیْ سَعِيدٍ الْخُدريِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الاِنْسَانِ حَتّٰى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا اَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1015 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”قرآنِ پاک کی ایک تیس آیات والی سورت نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ ﴿تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾(یعنی سورۂ ملک) ہے۔“
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مِنَ الْقُرْآنِ سُوْرَةٌ ثَلاثُوْنَ آ يَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ﴾.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1016 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابومسعود بدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اسے کافی ہوں گی۔“
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَاَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ في لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1017 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ مَقَابِرَ اِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَاُ فِيْهِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1018 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنااُبَیْ بِن کعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اے ابو مُنذِر!کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے پاس قرآن میں سے سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے؟‘‘میں نے عرض کی:اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔تو حضورِانورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا:”تمہیں عِلم مبارک ہو۔“
عَنْ اُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا الْمُنْذِرِ! اَتَدْرِيْ اَيُّ آ يَةٍ مِّنْ كِتَابِ الله مَعَكَ اَعْظَمُ؟ قُلْتُ: اﷲ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِيْ وَقَالَ: لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ اَبَا الْمُنْذِرِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1019 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا تو ایک شخص آیا اورغلہ اٹھانےلگا، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میں تجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لے چلوں گا۔وہ بولا: میں محتاج ہوں، میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۔ فرماتے ہیں: میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اے ابوہریرہ!تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اُس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذر کیا تو میں نے رحم کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔فرمایا:اُس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اوروہ پھرآئے گا۔مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ پھر آئے گاچنانچہ میں اس کی تاک میں رہا۔ وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانےلگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا :اب تجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ضرور لے چلوں گا۔ وہ بولا :مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے، میں اب نہ آؤں گا۔مجھے اس پر پھررحم آیا اور میں نے اُسےچھوڑدیا۔ جب صبح ہوئی تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اے ابو ہریرہ! تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا بنا ؟میں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر کیا تو مجھے اس پر رحم آگیا لہٰذا میں نے اسےچھوڑ دیا۔ فرمایا: اُس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا ۔چنانچہ میں تیسری بار پھر گھات میں رہا۔ وہ آیا غلہ اٹھانے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : اب تجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ضرور لے چلوں گا۔یہ آخری تیسری بار ہے کہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۔ وہ بولا :مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہاﷲعَزَّ وَجَلَّان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا۔ میں نے کہا: وہ کلمات کیا ہیں؟ اس نے کہا:جب آپ بستر میں جائیں تو آیت الکرسی﴿اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾پڑھ لیا کریں بے شکاﷲعَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تم پر ہمیشہ ایک حفاظت کرنے والا رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا۔میں نے اسے چھوڑ دیا،جب صبح ہوئی تو مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی: اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سےاﷲعَزَّوَجَلَّمجھے نفع دے گا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا:وہ کلمات کیا ہیں؟میں نے عرض کی: اس نے مجھ سے کہا کہ جب تم بستر میں جاؤ تو آیت الکرسی﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾(پ۳، البقرہ:۲۵۵)شروع سے آخر تک پڑھ لو اور مجھے کہا کہ بے شکاﷲعَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تم پر ہمیشہ ایک حفاظت کرنے والا رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا۔حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا،کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کررہے تھے؟ اے ابوہریرہ!‘‘ میں نےعرض کی:نہیں۔ فرمایا: ’’وہ شیطان تھا۔‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَاَتَانِيْ اٰتٍ فَجَعَلَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَام فَاَخَذْتُهُ فقُلتُ:لَاَرْفَعَنَّكَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنِّي ْ مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَبِيْ حَاجَةٌ شَدِيْدَةٌ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ الله! شَكَا حَاجَةً وَعِيَالًا فَرحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ. فَقَالَ: اَمَا اِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُوْدُ، فَعَرَفْتُ اَنَّهُ سَيَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَامِ فَقُلتُ: لَاَرْفَعَنَّكَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَعْنِيْ فَاِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَااَعُوْدُ فَرحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ البَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ الله! شَكَا حَاجَةً وَعِيَالًا فَرحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَقَالَ: اِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُوْدُ، فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ فَجَاءَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُهُ فَقُلتُ: لَاَرْفَعَنَّكَ اِلٰى رَسْولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ اَنَّكَ تَزْعُمُ اَنَّكَ لَا تَعُوْدُ ثُمَّ تَعُوْدُ! فَقَالَ: دَعْنِي فَاِنِّيْ اُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهَا قُلْتُ:مَا هُنَّ؟ قَالَ : اِذَا اَوَيْتَ اِلٰى فِرَاشِكَ فَاقْرَاْ اٰيَةَ الْكُرْسِيِّ فَاِنَّهُ لَنْ يَّزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ حَتّٰى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ الله! زَعَمَ اَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهَا فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: قَالَ لِيْ: اِذَا اَوَيْتَ اِلٰى فِرَاشِكَ فَاقْرَاْ اٰيَة الكُرْسِيِّ مِنْ اَوَّلِهَا حَتّٰى تَخْتِمَ الْاٰيَةَ: ﴿ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﴾ وَقَالَ لِيْ: لَا يَزَالُ عَلَيْكَ مِنَ اللهِ حَافِظٌ وَلَنْ يَّقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتّٰى تُصْبِحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَمَا اِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوْبٌ تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثٍ يَا اَبَا هُرَيْرَةَ! قُلْتُ:لَا . قَالَ : ذَاكَ شَيْطَانٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1020 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گا دجال سے محفوظ رہے گا۔“اورایک روایت میں ہے کہ ”جو سورۂ کہف کی آخری دس آیات یاد کرے گا دجال سے محفوظ رہے گا۔“
عَنْ اَبِيْ الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ حَفِظَ عَشْرَ اٰيَاتٍ مِنْ اَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّال.( )وَفِيْ رَوَايَةٍ : مِنْ اٰخِرِ سُورَةِ الْكَهْفِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1021 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں:”حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اوپر سے آواز سنی تو آپ نے سر مبارک اٹھایا۔ حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: یہ آسمان کا وہ دروازہ کھولا گیا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ کھولا گیا۔ اس سے ایک فرشتہ اترا تو حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی:یہ وہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ اترا ۔اس فرشتے نے سلام کیا پھر عرض کی: آپ کو خوشخبری ہو ان دو نوروں کی جو آپ کو دیئے گئےاور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہ دیئے گئے: (1)سورۂ فاتحہ اور(2)سورۂ بقر کی آخری آیتیں۔ان دونوں کا ایک حرف بھی آپ نہ پڑھیں گے مگر آپ کو اس کا اجر ملے گا۔“
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:بَيْنَمَا جِبْريلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقيضاً مِّنْ فَوقِهِ فَرَفَعَ رَاْسَهُ فَقَالَ: هٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ وَلَمْ يُفْتَحْ قَطُّ اِلَّا الْيَوْمَ فَنَزلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ: هٰذَا مَلَكٌ نَـزَلَ اِلَى الْاَرْضِ لَمْ ينْزِلْ قَطُّ اِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ: اَبْشِرْ بِنُوْرَيْنِ اُوتِيْتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَواتِيْمُ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَاَ بِحَرْفٍ مِّنْهَا اِلَّا اُعْطِيَتَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1022 ، باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان