Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1013

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلاً قَالَ:يَا رَسُولَ اللهِ! اِنِّیْ اُحِبُّ هٰذِهِ السُّوْرَةَ:﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ قَالَ: اِنَّ حُبَّهَا اَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ.

عن انس رضي الله عنه ان رجلا قال:يا رسول الله! انی احب هذه السورة:﴿ قل هو الله احد﴾ قال: ان حبها ادخلك الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اس سورت﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾(یعنی سورۂ اخلاص) سے محبت کرتا ہوں۔رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تیری یہ محبت تجھے جنت میں پہنچا دے گی۔“

شرح حدیث

جنتی ہونے کا ذریعہ:مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:سُبْحَانَ اﷲ! کیسا مختصر اور جامع جواب ہے یعنی تو اس سورت سے محبت کی بنا پراﷲکا پیارا بن جائے گااوراﷲکے پیارے کی جگہ جنت ہی تو ہے،بعض لوگ سورۂ ”اَلَمْ نَشْرَحْ“،”وَالضُّحٰی“ اور سورۂفَتْح‘‘اور’’اَحْزَاب“سے بڑی محبت کرتے ہیں اس لیے کہ یہ حُضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی نعت کی سورتیں ہیں،ان کی یہ محبت بھیاِنْ شَآءَاﷲجنتی ہونے کا ذریعہ ہے۔سورۂ اخلاص کے3 فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن مجید کے تین حصے کئے ہیں اور سورۂ اخلاص کو قرآن مجید کا ایک حصہ بنایا ہے۔“(2)حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی ہررکعت میں سورۂ اخلاص پڑھا کرتے۔حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے کہا:میں اس سورت سے محبت کرتا ہوں ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا۔“(3)اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو لشکر میں بھیجا اور وہ اس لشکر میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا،وہ سورت ملانے کے بعد آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتے۔جب لشکر کے لوگ واپس آئے تو انہوں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس بات کا ذکر کیا ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے رہے۔“ لوگوں نے پوچھا تو اُنہوں نے کہا:یہ سورت رحمٰن کی صفت ہے اس لئے میں اس کو پڑھنا پسند کرتا ہوں ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اس سے کہو کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سےمحبت کرتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’اَحَد‘‘کے3حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے لہٰذا اسےتین بار تلاوت کرلینے سے سارا قرآن شریف پڑھنے کا ثواب ملے گا۔
(2) قرآنِ کریم میں تین قسم کے مضامین ہیں:
ااﷲ تعالٰیکی ذات و صفات،قصےاوراَحکام اور سورۂ اخلاص میں ذات و صفاتِ اِلٰہی کا مکمل ذکر ہے، اس لحاظ سے یہ تہائی قرآن کی مثل ہے۔
(3) سورۂ اخلاص
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے دو ایسے ناموں پرمشتمل ہے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے تمام اوصافِ کمالیہ کوشامل ہیں اور اس سورت کے علاوہ کسی اور سورت میں دو ایسےنام نہیں اور وہ دو نام ”ا َلْاَحَد“اور ”ا َلصَّمَد“ ہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سورۂ اخلاص پڑھنے اوراسے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1013