Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1022

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:بَيْنَمَا جِبْريلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقيضاً مِّنْ فَوقِهِ فَرَفَعَ رَاْسَهُ فَقَالَ: هٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ وَلَمْ يُفْتَحْ قَطُّ اِلَّا الْيَوْمَ فَنَزلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ: هٰذَا مَلَكٌ نَـزَلَ اِلَى الْاَرْضِ لَمْ ينْزِلْ قَطُّ اِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ: اَبْشِرْ بِنُوْرَيْنِ اُوتِيْتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبيٌّ قَبْلَكَ: فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَواتِيْمُ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَاَ بِحَرْفٍ مِّنْهَا اِلَّا اُعْطِيَتَهُ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما:بينما جبريل عليه السلام قاعد عند النبي صلى الله عليه وسلم سمع نقيضا من فوقه فرفع راسه فقال: هذا باب من السماء فتح اليوم ولم يفتح قط الا اليوم فنزل منه ملك فقال: هذا ملك نـزل الى الارض لم ينزل قط الا اليوم فسلم وقال: ابشر بنورين اوتيتهما لم يؤتهما نبي قبلك: فاتحة الكتاب وخواتيم سورة البقرة لن تقرا بحرف منها الا اعطيته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں:”حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اوپر سے آواز سنی تو آپ نے سر مبارک اٹھایا۔ حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی: یہ آسمان کا وہ دروازہ کھولا گیا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ کھولا گیا۔ اس سے ایک فرشتہ اترا تو حضرت سَیِّدُنا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کی:یہ وہ فرشتہ زمین پر اترا ہے جو آج کے سوا کبھی نہ اترا ۔اس فرشتے نے سلام کیا پھر عرض کی: آپ کو خوشخبری ہو ان دو نوروں کی جو آپ کو دیئے گئےاور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہ دیئے گئے: (1)سورۂ فاتحہ اور(2)سورۂ بقر کی آخری آیتیں۔ان دونوں کا ایک حرف بھی آپ نہ پڑھیں گے مگر آپ کو اس کا اجر ملے گا۔“

شرح حدیث

خاص فرشتے کا نزول:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”خیال رہے کہ آسمان کے بے شمار دروازے ہیں،جن سے مختلف چیزیں آتی جاتی ہیں،بعض دروازوں سے رِزق آتے ہیں، بعض سے عذاب، بعض سے دعائیں و توبہ جاتی ہیں، بعض سے خاص فرشتے اترتے ہیں،ایک دروازہ وہ بھی ہے جو صرف معراج کی رات حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے لیے کھولا گیا۔آج کا یہ دروازہ اس فرشتے کے لیے کھولا گیا تھا اس سے پہلے نہ یہ فرشتہ کبھی زمین پر آیا تھا اور نہ یہ دروازہ کبھی کھلا تھا۔ اس فرشتہ کا نزول حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی کرامت و عزت کے اِظہار کے لیے ہے ورنہ یہ پیغام تو حضرت جبریل بھی عرض کرسکتے تھے۔‘‘نور کہنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”سورۂ فاتحہ اورسورۂ بقرہ کی آخری آیات اپنے پڑھنے والے کی تعظیم وتوقیر کے لئے قیامت کے روز روشنی کی شکل میں اس کے آگے چلیں گی یا دنیا میں ان کے معانی میں غور کرنے والے کے لئے یہ سیدھی راہ کی جانب ہدایت کا سبب ہیں اس وجہ سے انہیں نور فرمایا گیا۔“( )سورۂ بقرہ کی آخری آیات سے مراد’’سورۂ بقرہکا آخری رکوع:﴿لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰاتِ﴾سے﴿عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْن﴾تک۔“خصوصی ثواب:حدیثِ پاک میں بیان ہوا:”ان دونوں کا ایک حرف بھی آپ نہ پڑھیں گے مگر آپ کو اس کا اجر ملے گا۔“اِس کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی ان آیات کے ہر حرف کی تلاوت پر آپ کو اور آپ کے صدقہ سے آپ کی اُمَّت کو خصوصی ثواب ملے گا علاوہ تلاوت کے ثواب کے کہ وہ ثواب تو قرآن شریف کے تمام حروف پر ہےیا حرف سے مراد آیت ہے یعنی ان میں جو آیات دعا ہیں، ان میں سے ہر آیت قبول ہوگی اور اس آیت کی دعااِنْ شَاءَاﷲمنظور ہوگی۔“
¥مدنی گلدستہ
’’آیت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) آسمان کے بے شمار دروازے ہیں،جن سے مختلف چیزیں آتی جاتی ہیں،بعض دروازوں سے رزق آتے ہیں، بعض سے عذاب،بعض سے دعائیں و توبہ جاتی ہیں اور بعض سے خاص فرشتے اُترتے ہیں۔
(2) آسمان کا ایک دروازہ وہ بھی ہے جو صرف معراج کی رات حضورِ انور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے لیے کھولا گیا۔
(3) سورۂ فاتحہ اورسورۂ بقرہ کی آخری آیات اپنے پڑھنے والے کی تعظیم وتوقیر کے لئے قیامت کے روز روشنی کی شکل میں اس کے آگے چلیں گی۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی توفیق عطا کرے اور اس کی برکتوں سے ہمیں مالا مال کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1022