Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1020

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: وَكَّلَنِي رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَاَتَانِيْ اٰتٍ فَجَعَلَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَام فَاَخَذْتُهُ فقُلتُ:لَاَرْفَعَنَّكَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنِّي ْ مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَبِيْ حَاجَةٌ شَدِيْدَةٌ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ الله! شَكَا حَاجَةً وَعِيَالًا فَرحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ. فَقَالَ: اَمَا اِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُوْدُ، فَعَرَفْتُ اَنَّهُ سَيَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَامِ فَقُلتُ: لَاَرْفَعَنَّكَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَعْنِيْ فَاِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَااَعُوْدُ فَرحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ البَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ الله! شَكَا حَاجَةً وَعِيَالًا فَرحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَقَالَ: اِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُوْدُ، فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ فَجَاءَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَامِ فَاَخَذْتُهُ فَقُلتُ: لَاَرْفَعَنَّكَ اِلٰى رَسْولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ اَنَّكَ تَزْعُمُ اَنَّكَ لَا تَعُوْدُ ثُمَّ تَعُوْدُ! فَقَالَ: دَعْنِي فَاِنِّيْ اُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهَا قُلْتُ:مَا هُنَّ؟ قَالَ : اِذَا اَوَيْتَ اِلٰى فِرَاشِكَ فَاقْرَاْ اٰيَةَ الْكُرْسِيِّ فَاِنَّهُ لَنْ يَّزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ حَتّٰى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَاَصْبَحْتُ فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ الله! زَعَمَ اَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهَا فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: قَالَ لِيْ: اِذَا اَوَيْتَ اِلٰى فِرَاشِكَ فَاقْرَاْ اٰيَة الكُرْسِيِّ مِنْ اَوَّلِهَا حَتّٰى تَخْتِمَ الْاٰيَةَ: ﴿ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﴾ وَقَالَ لِيْ: لَا يَزَالُ عَلَيْكَ مِنَ اللهِ حَافِظٌ وَلَنْ يَّقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتّٰى تُصْبِحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَمَا اِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوْبٌ تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثٍ يَا اَبَا هُرَيْرَةَ! قُلْتُ:لَا . قَالَ : ذَاكَ شَيْطَانٌ.

عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه قال: وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان فاتاني ات فجعل يحثو من الطعام فاخذته فقلت:لارفعنك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اني محتاج وعلي عيال وبي حاجة شديدة فخليت عنه فاصبحت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابا هريرة! ما فعل اسيرك البارحة؟ قلت: يا رسول الله! شكا حاجة وعيالا فرحمته فخليت سبيله. فقال: اما انه قد كذبك وسيعود، فعرفت انه سيعود لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فرصدته فجاء يحثو من الطعام فقلت: لارفعنك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: دعني فاني محتاج وعلي عيال لااعود فرحمته فخليت سبيله فاصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابا هريرة! ما فعل اسيرك البارحة؟ قلت: يا رسول الله! شكا حاجة وعيالا فرحمته فخليت سبيله فقال: انه قد كذبك وسيعود، فرصدته الثالثة فجاء يحثو من الطعام فاخذته فقلت: لارفعنك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهذا آخر ثلاث مرات انك تزعم انك لا تعود ثم تعود! فقال: دعني فاني اعلمك كلمات ينفعك الله بها قلت:ما هن؟ قال : اذا اويت الى فراشك فاقرا اية الكرسي فانه لن يزال عليك من الله حافظ ولا يقربك شيطان حتى تصبح فخليت سبيله فاصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما فعل اسيرك البارحة؟ قلت: يا رسول الله! زعم انه يعلمني كلمات ينفعني الله بها فخليت سبيله قال: ما هي؟ قلت: قال لي: اذا اويت الى فراشك فاقرا اية الكرسي من اولها حتى تختم الاية: ﴿ الله لا اله الا هو-الحی القیوم ﴾ وقال لي: لا يزال عليك من الله حافظ ولن يقربك شيطان حتى تصبح فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اما انه قد صدقك وهو كذوب تعلم من تخاطب منذ ثلاث يا ابا هريرة! قلت:لا . قال : ذاك شيطان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا تو ایک شخص آیا اورغلہ اٹھانےلگا، میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میں تجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس لے چلوں گا۔وہ بولا: میں محتاج ہوں، میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۔ فرماتے ہیں: میں نے اسے چھوڑ دیا۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اے ابوہریرہ!تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اُس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذر کیا تو میں نے رحم کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا۔فرمایا:اُس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اوروہ پھرآئے گا۔مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ پھر آئے گاچنانچہ میں اس کی تاک میں رہا۔ وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانےلگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا :اب تجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ضرور لے چلوں گا۔ وہ بولا :مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے، میں اب نہ آؤں گا۔مجھے اس پر پھررحم آیا اور میں نے اُسےچھوڑدیا۔ جب صبح ہوئی تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اے ابو ہریرہ! تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا بنا ؟میں نے عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر کیا تو مجھے اس پر رحم آگیا لہٰذا میں نے اسےچھوڑ دیا۔ فرمایا: اُس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا ۔چنانچہ میں تیسری بار پھر گھات میں رہا۔ وہ آیا غلہ اٹھانے لگا تو میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا : اب تجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں ضرور لے چلوں گا۔یہ آخری تیسری بار ہے کہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۔ وہ بولا :مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہاﷲعَزَّ وَجَلَّان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا۔ میں نے کہا: وہ کلمات کیا ہیں؟ اس نے کہا:جب آپ بستر میں جائیں تو آیت الکرسی﴿اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾پڑھ لیا کریں بے شکاﷲعَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تم پر ہمیشہ ایک حفاظت کرنے والا رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا۔میں نے اسے چھوڑ دیا،جب صبح ہوئی تو مجھے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: تمہارے گزشتہ رات کے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی: اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سےاﷲعَزَّوَجَلَّمجھے نفع دے گا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا:وہ کلمات کیا ہیں؟میں نے عرض کی: اس نے مجھ سے کہا کہ جب تم بستر میں جاؤ تو آیت الکرسی﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ﴾(پ۳، البقرہ:۲۵۵)شروع سے آخر تک پڑھ لو اور مجھے کہا کہ بے شکاﷲعَزَّ وَجَلَّکی طرف سے تم پر ہمیشہ ایک حفاظت کرنے والا رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہ آئے گا۔حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا،کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کررہے تھے؟ اے ابوہریرہ!‘‘ میں نےعرض کی:نہیں۔ فرمایا: ’’وہ شیطان تھا۔‘‘

شرح حدیث

جن وانس کی چوری سے حفاظت کا نسخہ:مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”صحابہ کرام جو اپنے فطرے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بارگا ہ میں حاضر کرجاتے تھے تاکہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمخود فقراء میں تقسیم فرمادیں تاکہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے ربّ تعالیٰ قبول فرمالے،اس جمع شدہ فطروں کی حفاظت اس دفعہ حضرت ابوہریرہ(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ)کے سپرد ہوئی۔خیال رہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت دانہ،غذائیں،پھل،مٹھائیاں سب کچھ کھاتے ہیں،ساتھ ہی کوئلہ وغیرہ بھی کھاتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص بغیربِسْمِ اﷲپڑھے کھائے تو شیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے،لہٰذا حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ ابلیس کو کھانے کی کیا حاجت ۔اس سے معلوم ہوا کہ شیطان چوری کرتا ہے اس لیے آیت الکرسی وغیرہ(پڑھ کر)مال پر دم کردی جائے تاکہ جن وانس کی چوری سے محفوظ رہے۔“حدیث سے ماخوذ مسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:اس حدیثِ پاک سے درج ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں:(1)اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور قاضی تک یہ معاملہ پہنچے سے پہلے اس کو معاف کرنا جائز ہے ۔(2)شیطان نے کہاکہ رات کو آیت الکرسی پڑھ کر سونے سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّحفاظت فرماتا ہے ،اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کو نفع بخش چیز کا علم ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کبھی جھوٹا ،سچی بات بھی بتاتا ہے۔(3)اس حدیثِ پاک میں حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علمِ غیب کا ثبوت اورآپ کی نبوت کی دلیل ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ کے کچھ بتانے سے پہلے ہی) پوچھا:اے ابوہریرہ! آج رات تمہارے قیدی کا کیا بنا؟ (4) حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے شیطان کو دیکھا ہے۔اس پریہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید میں یہ مذکور ہے کہ انسان شیطان کو نہیں دیکھ سکتا ۔چنانچہاﷲعَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے:﴿ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ﴾(پ۸،الاعراف:۲۷)(ترجمۂکنز الایمان: بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔)اس کا جواب یہ ہے کہ انسان ،شیطان کو اس کی صورتِ اَصلیہ میں نہیں دیکھ سکتا جبکہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے شیطان کو اس وقت دیکھا تھا جب وہ انسانی شکل میں چوری کے لئے آیا تھا۔ (5) جنات کھاتے پیتے ہیں اور انسانی شکلوں میں ظاہر ہوکر انسانوں کی طرح گفتگو بھی کرتے ہیں۔(6)چور کا عذر بھی قبول کرنا چاہیے۔(7)جب تیسری بار شیطان نے چوری کی اور اس کا عذر پیش کیا تو حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کا عذر قبول نہیں کیا،اس سے معلوم ہوا کہ کسی جرم کا عذر صرف دوبار قبول کیا جاسکتا ہے۔ (8)جنات چوری کرتے ،جھوٹ بولتے اور دھوکا بھی دیتے ہیں۔(9)صدقۂ فطر کو عید کی رات سے پہلے جمع کرنا جائز ہے اور اس کی حفاظت کے لئے کسی کو مقرر کرنا بھی جائز ہے۔(10)بے عمل سے بھی علم سیکھنا جائز ہے۔مدنی گلدستہ’’بیتاﷲ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) ابلیس اور اس کی ذریت دانہ،غذائیں،پھل،مٹھائیاں،کوئلہ وغیرہ سب کچھ کھاتے ہیں۔
(2) جو شخص بغیر
بِسْمِ اﷲپڑھے کھائے تو شیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔
(3) کوئی شخص بھوک کی وجہ سے چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور قاضی تک یہ معاملہ پہنچے سے پہلے اس کو معاف کرنا جائز ہے ۔
(4) انسان ،شیطان کو اس کی صورتِ اصلیہ میں نہیں دیکھ سکتالیکن انسانی شکل میں دیکھ سکتا ہے۔
(5) جنات چوری کرتے ،جھوٹ بولتے اور دھوکا بھی دیتے ہیں۔
(6) صدقۂ فطر کو عید کی رات سے پہلے جمع کرنااور اس کی حفاظت کے لئے کسی کو مقرر کرنا بھی جائز ہے۔
(7) بے عمل سے بھی علم سیکھنا جائز ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شیطان مَردود کے شر سے بچائے اور اس کے شر سے حفاظت کے لئے آیت الکرسی پڑھنے کا عادی بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1020