Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1021

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ حَفِظَ عَشْرَ اٰيَاتٍ مِنْ اَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّال.( )وَفِيْ رَوَايَةٍ : مِنْ اٰخِرِ سُورَةِ الْكَهْفِ.

عن ابي الدرداء رضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من حفظ عشر ايات من اول سورة الكهف عصم من الدجال.( )وفي رواية : من اخر سورة الكهف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گا دجال سے محفوظ رہے گا۔“اورایک روایت میں ہے کہ ”جو سورۂ کہف کی آخری دس آیات یاد کرے گا دجال سے محفوظ رہے گا۔“

شرح حدیث

دجال سے حفاظت کی وجہ:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’سورۂ کہف کی پہلی دس آیات یا آخری دس آیات یاد کرنے والا دجال سے محفوظ رہے گا۔اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ پہلی اور آخری دس آیات میں عجائبات اور نشانیاں ہیں جو اس میں غو ر کرے گا وہ دجال کے فتنے میں نہیں پڑے گا۔‘‘دجال سے مراد:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ دجال سے مراد وہ ہی بڑا دجال ہے جو قُربِ قیامت نکلے گا ا س کا فتنہ اتنا سخت ہوگا کہ ہر نبی نے اپنی اُمَّت کو اس سے ڈرایا یعنی اگر اس کی تلاوت کرنے والے کے زمانے میں دجال ظاہر ہوا تواِنْ شَاءَاﷲاس کے فتنے سے یہ محفوظ رہے گا اور ہوسکتا ہے کہ دجال سے مراد تمام فتنہ گر بے دِین لوگ مراد ہوں جیساکہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ان آیات کی برکت سے یہ شخص ہر بے دِین فتنہ گر کے شر سے بچا رہے گا۔ سورۂ کہف میں اصحابِ کہف کا ذکر ہے کہاﷲ تعالٰینے انہیں کافر بادشاہ کے شر سے محفوظ رکھا۔ ان کی آیات پڑھنے والے پراِنْ شَاءَاﷲوہی فیضان ہوتا ہے بعض روایات میں تین آیات ارشا د ہوئیں مگر دس میں تین بھی داخل ہیں لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔سورۂ کہف کی ابتدائی اور آخری آیات کے دو فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنَا ابو درداءرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جو سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گاتو یہ اُس کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گی۔“ (2)حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جس نے سورۂ کہف اسی طرح پڑھی جیسی نازل ہوئی ہے تو یہ قیامت کے دن اس کے (پڑھنے کے)مقام سےلے کر مکہ تک نور ہو جائے گی اور جس نے اس کی آخری دس آیتیں پڑھیں پھر دجال بھی نکل آیا تو اس پر غالب نہ آسکے گا۔“مدنی گلدستہ’’کھف‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) سورۂ کہف کی ابتدائی دس یا آخری دس آیات یاد کرنے والا دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
(2) ہرنبی نے اپنی اُمَّت کو دجال سے ڈرایا ہے۔
(3) جو سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گاتو یہ اُس کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گی اور جس نےسورۂ کہف کی آخری دس آیتیں پڑھیں پھر دجال بھی نکل آیا تو اس پر غالب نہ آسکے گا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سورۂ کہف یاد کرنے اور اسے پڑھنے کی توفیق دے اور اس کی برکت سے ہمیں دجال کے فتنہ سےبچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1021