Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1017

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَرَاَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ في لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ.

عن ابی مسعود البدري رضي الله عنه عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: من قرا بالآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابومسعود بدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اسے کافی ہوں گی۔“

شرح حدیث

کافی ہونے سے مراد:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ دو آیتیں قیام لیل (یعنی رات کی نفلی نماز)کے لیے کافی ہوں گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رات کو ناپسندیدہ چیزوں سے اُس کے لئے کافی ہوں گی۔“مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی دُکھ درد رنج وغم میں کافی ہیں کہ اِن کا تلاوت کرنے والااِنْ شَآءَاﷲدکھ درد سے محفوظ رہتا ہےاور اگر اتفاقًا کبھی آبھی جائیں تواﷲمشکل حل کردیتا ہے یا تمام وِرد و وَظیفوں کی طرف سے کافی ہیں،یا نماز تہجد میں جوان آیتوں کی تلاوت کیا کرے تو بہت سی تلاوت سے کافی ہیں۔نمازِ تہجد میں اس کی تلاوت ضرور کی جائے کہ بہت ہی مفید ہے ایک رکعت میں یہ آیات پڑھے۔ دوسری میں﴿اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ﴾سے لےکر﴿تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ﴾(یعنیسورۂ آلِ عمرانکی آیت نمبر ۱۹۰سے۱۹۴)تک۔اِنْ شَآءَاﷲاِن سے حضورِقلبی بھی نصیب ہوگا اور بہت فیضان بھی میسر ہوگا،اگر شروع رات میں بھی پڑھ لی جائیں اور تہجد میں بھی بہت مفید ہے۔
علامہ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:کافی ہونے سے مراد یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں اپنے پڑھنے والے کوجنوں اور انسانوں کے شر سے بچاتی ہیں یارات کے باقی اوراد ووظائف کی جگہ صرف یہی دو آیتیں کافی ہوجاتی ہیں۔سورۂ بقرہ کی آخری دوآیات کے 3فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنانعمان بن بشیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضورِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :”ﷲ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں وہ اتاریں جن پر سورۂ بقرہ ختم فرمائی یہ ناممکن ہے کہ کسی گھر میں یہ آیتیں برابر تین شب پڑھی جائیں پھر شیطان اس کے پاس بھی پھٹکے۔“(2)حضرت سَیِّدُناابوذررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ﷲ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کو اُن دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس خزانے سے عطا ہوئی ہیں جو عرش کے نیچے ہےلہٰذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ۔“ (3)حضرت سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے مصیبت وتکلیف کے وقت آیت الکرسی اور سورۂ بقرہ کی آخری (دو)آیات کی تلاوت کی تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد فرمائے گا۔“مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کرنے والا
اِنْ شَآءَاﷲدکھ درد سے محفوظ رہتا ہےاور اگر اتفاقًا کبھی آبھی جائیں تواﷲمشکل حل کردیتا ہے۔
(2) رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے والے کو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّجنوں اور انسانوں کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔
(3) جس گھر میں سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں مسلسل تین رات پڑھی جائیں تو شیطان اس گھر کے قریب نہیں آتا۔
(4) جومصیبت وتکلیف کے وقت سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کرتا ہے تو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد فرماتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں روزانہ رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دوآیات پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی برکت سے ہمیں جنوں اور انسانوں کے شر سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1017