Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1015

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِيدٍ الْخُدريِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجَانِّ وَعَيْنِ الاِنْسَانِ حَتّٰى نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ فَلَمَّا نَزَلَتَا اَخَذَ بِهِمَا وَتَرَكَ مَا سِوَاهُمَا.

عن ابی سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الانسان حتى نزلت المعوذتان فلما نزلتا اخذ بهما وترك ما سواهما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجِنَّات سے اور انسانوں کی نظرِ بد سے پناہ طلب کرتے تھے حتّٰی کہمُعَوَّذَتَیْن(سورۂ فلق وناس)نازل ہوئیں تو آپ نے ان کو شروع کردیا اور ان کے سوا کو ترک کردیا۔

شرح حدیث

حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جب سورۂ فلق اور سورۂ ناس نازل ہوئیں تو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کے سوا کوترک کردیا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی دیگر دعاؤں کی کثرت چھوڑ دی زیادہ تر سورۂ فلق و ناس ہی سے عمل فرمایا،یہ مطلب نہیں کہ بالکل چھوڑدیں لہٰذا احادیث میں تعارض نہیں۔سورۂ فلق وناس کے3فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنَا ابن ِعابس جہنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حُضوراکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے ارشادفرمایا:اے ابنِ عابس!کیا میں تمہیں ان کلمات کی خبر نہ دوں جواﷲ عَزَّوَجَلَّسے پناہ طلب کرنے والوں کے لئے سب سے افضل ہیں ؟انہوں نے کہا:کیوں نہیں یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ دو سورتیں:﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾اور﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ہیں۔“(2)حضرت سَیِّدُنا عقبہ بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھوں؟آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا”اے عقبہ!﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾پڑھو،تم کوئی سورت نہیں پڑھو گے جواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک اس سے زیادہ بلیغ ہو۔اگر تم سے ہوسکے تو اسے پڑھنا نہ چھوڑنا۔“(3)حضرت سَیِّدُنَا عقبہ بن عامررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سواری چلارہا تھا اسی دوران آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اے عقبہ!کیا میں تمہیں پڑھی گئی سورتوں میں سے دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں؟میں نے عرض کی: جی ہاں۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾اور﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1015