Main Icon

باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1018

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ مَقَابِرَ اِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَاُ فِيْهِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ.

عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تجعلوا بيوتكم مقابر ان الشيطان ينفر من البيت الذي تقرا فيه سورة البقرة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“

شرح حدیث

”گھروں کو قبرستان نہ بناؤ “سے مراد:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یعنی اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح ذکر، تلاوت اور عبادت سے خالی نہ رکھو ،قبرستان میں جو مُردے ہوتے ہیں وہ مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام نہیں کرتے۔اس کے بعد آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ چیز بیان فرمائی جو گھروں اور گھر والوں کے لئے افضل اور بہت نفع مند ہے اور وہ قرآنِ پاک کی تلاوت ہے۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: گھروں میں مُردے دفن نہ کرو کہ یہ تو خصوصیت انبیاء ہے یا اپنے گھروں کوذِکْرُاﷲسے خالی نہ رکھو جیسے قبرستان خالی ہوتا ہے ایسے گھر قبرستان ہیں اور وہاں کے باشندے مردے۔دوسرے معنیٰ زیادہ موزوں ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ خیال رہے کہ مؤمن مردے اپنی قبروں میںذِکْرُاﷲکرتے ہیں،مگر وہ ذِکر ہم نہیں سنتے،ہم کو قبرستان سنسان معلوم ہوتے ہیں اسی لیے یہ ار شاد ہوا،لہٰذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔نفس اَمَّارہ کی موت اس کی مخالفت ہے:”شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔“مرادیہ ہے کہ” شیاطین کا سرگروہ ابلیس اس گھر سے دور رہتا ہے یا سورۂ بقر پڑھتے وقت قرین شیطان دور رہتا ہے اگرچہ بعد میں آجائے یا اس گھر کے باشندوں کو وہ جنت سے بہکا نہیں سکتا،انہیں بے دِین بے ایمان نہیں بناسکتا،اِنْ شَآءَ اﷲلہٰذا حدیث واضح ہے۔ خیال رہے کہ شیطان کو دفع کرنے کی یہ تمام تدابیر ہیں ،نفس امارہ ان سے نہیں مرتا اس کی موت اس کی مخالفت سے ہے۔ اسی لیے اگرچہ رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے مگر لوگ گناہ کرتے ہیں نفس امار ہ موجود ہے۔“سورۂ بقرہ کے3 فضائل:(1)حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہر چیز ایک بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورۂ بقرہ ہے۔“
(2)حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعد ساعدی
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے دن کے وقت اپنے گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تو تین دن تک شیطان اُس گھر کے قریب نہیں آئے گا اور جس نے رات کے وقت اپنے گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تو تین راتیں اُس گھر میں شیطان داخل نہ ہوگا۔“
(3)حضرت سَیِّدُنا ابو اُمامہ
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سورۂ بقرہ پڑھا کرو اِس کا حصول برکت اور اِس کا چھوڑنا حسرت ہے۔“مدنی گلدستہ’’البقرہ ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اپنے گھروں کو تلاوت،ذِکر اور عبادت سے خالی نہیں رکھنا چاہیے۔
(2) شیطان اُس گھر سےدور بھاگتا ہے جس میں
سورۂ بقرہپڑھی جاتی ہے۔
(3) گھروں میں دفن ہونا انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکی خصوصیات میں سے ہے۔
(4) مؤمن مُردے اپنی قبروں میں
ذِکْرُ اﷲکرتے ہیں مگر وہ ذکر ہم نہیں سنتے۔
(5) نفسِ اَمَّارہ کی موت اُس کی مخالفت سے ہے اِسی لیے اگرچہ رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے مگر لوگ گناہ کرتے ہیں نفسِ امار ہ موجود ہے۔
(6) قرآن کی بلندی سورۂ بقرہ ہے ،اِس کا حصول برکت اور اِس کا چھوڑنا حسرت ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سورۂ بقرہ کی تلاوت کا عادی بنائےاور اس کی برکتوں سے ہمیں مالا مال کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1018