باب :یقین اور توکل کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِرشادفرمایا : ’’ میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں تو میں نے ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا، اُن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا اُن کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ اُن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔اچانک ایک بہت بڑی جماعت میرے سامنے پیش کی گئی تومیں نے خیال کیا کہ شاید یہ میری اُمَّت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام) اور اُن کی اُمَّت ہے، البتہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھئے، میں نے دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔مجھے کہا گیا کہ دوسرے کنارے کی طرف دیکھئے تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھ سے کہاگیا:یہ آپ کی اُمَّت ہے اور اِن کے ساتھ سترہزار 70000اَفرادایسے ہیں جو بِلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے اور کاشانہ ٔ اَقدس میں تشریف لے گئے ۔صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہونے والوں کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ بعض نے کہا: ’’ شاید وہ رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحبت یافتہ ہوں گے۔ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ شاید وہ ہوں گے جومسلمان پیدا ہوئے اور پھراللہ عَزَّ وَجَلَّکےساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ۔ ‘‘ الغرض صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے مختلف خیالات کا اِظہار کیا ۔ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمباہر تشریف لائے اور فرمایا: ’’ کس چیزکے بارے میں بحث کررہے ہو؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے زیر بحث مسئلہ بتایا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، نہ کراتے ہیں اور نہ ہی بد فالی لیتے ہیں اور اپنے ربّعَزَّوَجَلَّپر توکل کرتے ہیں ۔ ‘‘ (یہ سن کر) عُکَّاشہ بن مِحْصَنرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکھڑے ہوئے اور عرض کی: ’’ یارسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دعا کیجئےاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے بھی اُن میں شامل فرمادے۔ ‘‘ فرمایا : ’’ تو اُن میں سے ہے۔ ‘‘ پھر ایک اور شخص کھڑا ہواورعرض کی: ’’ دعا کیجیےاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے بھی اُن لوگوں میں شامل فرمادے ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ اِس میںعُکَّاشَہتم پرسبقت لے گئے۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں تین باتوں کا بیان ہے : (1) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے اُمَّتُوں کا پیش ہونا۔ (2) سترہزار70000لوگوں کاجنت میں بلاحساب وعذاب داخلہ (3) بلاحساب وعذاب جنت میں جانے والوں کی خصوصیات۔اِن تینوں کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔

عَنِْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ، فَرَاَیْتُ النَّبِیَّ وَمَعَہُ الرُّہَیْطُ، وَالنَّبِیَّ وَمَعَہُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِیَّ وَلَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ، اِذْرُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمْ اُمَّتِیْ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذَا مُوْسٰی وَقَوْمُہُ، وَلَکِنِ انْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ،
فَقِیْلَ لِیْ:اُنْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌعَظِیْمٌ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذِہٖ اُمَّتُکَ، وَمَعَہُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفاً یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ نَہَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ، فَخَاضَ النَّاسُ فِی اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمْ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْاِسْلَامِ، وَلَمْ یُشْرِکُوْابِاللّٰہِ شَیْاً، وَذَکَرُوْااَشْیَاءَ، فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الَّذِیْ تَخُوْضُوْنَ فِیْہِ؟ فَاَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ہُمُ الَّذِیْنَ لَایَرْقُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَایَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:اَنْتَ مِنْہُمْ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:سَبَقَکَ بِہَاعُکَّاشَۃُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 74 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہی مَروی ہے کہ حضور نبی اَکرم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ’’ اے میرے پروردگار! میں نے تیری اِطاعت کی، تجھ ہی پر اِیمان لایا، تجھ ہی پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رُجوع لایا اور تیری ہی مدد سے جنگ کی ، اے میرے پروردگار! میں تیرے گمراہ کرنے سے تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو زندہ ہے، تجھے کبھی موت نہیں آئے گی جبکہ تمام جن واِنس مر جا ئیں گے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَااَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ:اَللّٰہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ الَّا اَنْتَ اَنْ تُضِلَّنِیْ، اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ، وَالْجِنُّ وَالْاِنسُ یَمُوْتُوْنَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 75 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہی سے مروی ہے، فرماتے ہیں :جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے یہ کلمات کہے:”حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی ا چھا کارساز ہے۔ ‘‘ اور حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی یہی کلمات کہے جب کفار نے (مسلمانوں سے) کہا کہ (کفار) تمہارے خلاف جمع ہوئے ہیں پس اُن سے ڈرو!تو (یہ سن کر) اُن کے اِیمان بڑھ گئے اور انہوں نے بھی یہی کہا کہ: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘ اور ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا ا بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کے آخری الفاظ یہ تھے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّمجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَیْضًا قَالَ:حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، قَالَہَا اِبْرَاہِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ حِیْنَ اُلْقِیَ فِی النَّارِ، وَ قَالَہَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ قَالُوْا: اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ اِیْمَانًا وَّقَالُوْا:حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:کَانَ آخِرَ قَوْلِ اِبْراہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ حِیْنَ أُلْقِیَ فِی النَّارِ:حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 76 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْئِدَتُہُمْ مِثْلُ اَفْئِدَۃِ الطَّیْرِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 77 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرتسَیِّدُنَاجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے ‏لیے گئے۔جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس ہوئے تو وہ بھی دیگر صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ آپ کے ہمراہ تھے۔واپسی میں اُن حضرات کو دوپہر کا وقت ایسی وادی میں ہوا جہاں بکثرت کانٹے داردرخت تھے۔سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیام کے اِرادے سے وہاں ٹھہر گئے۔پس صحابۂ کرام درختوں کاسایہ لینے الگ الگ مقامات پر چلے گئے۔حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ایک کانٹے دار درخت کے نیچے تشریف لائے اور اپنی تلواراُس پر لٹکا دی۔ ( راوی کہتے ہیں کہ ) ہم ابھی سوئے ہی تھے کہ اچانک آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں بلایا، ہم حاضر خدمت ہوئے تو آپ کے پاس ایک اعرابی تھا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میں سو رہا تھا کہ اِس نے مجھ پرمیری تلوارتان لی۔میں بیدارہوا تو اِس کے ہاتھ میں ننگی تلوارتھی، اِس نے کہا:آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟ میں نےتین بار کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس سے کوئی بدلہ نہ لیا اوروہ بیٹھ گیا ۔
ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیوں فرماتے ہیں کہ ہم ’’غزوۂ ذاتُ الرِّقاع‘‘ میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے۔ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو وہ ہم نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ‏لیے چھوڑ دیا۔مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی درخت پر لٹکی ہوئی تلواراُتار کرکہنے لگا: ’’ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ اس نےکہا: ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائےگا ؟ ‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘
ابوبکر اِسماعیلی کی جو رِوایت اُن کی صحیح میں ہےاُس روایت میں یوں ہے کہ اس نے کہا : ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ فرمایا : ’’
اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی اُس کے ہاتھ سے تلوارگرگئی،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تلواراُٹھاکر فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو جائیے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اورمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں ؟ ‘‘ بولا: ’’ نہیں ۔لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ ‘‘ پس آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے چھوڑ دیا ۔تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس چلاگیا اور کہا : ’’ میں ایسےشخص کے پا س سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ۔ ‘‘

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ، فَاَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍكَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ ، وَنَز َلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَ ةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً، فَاِذَارَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْ نَا وَ اِذَا عِنْدَهُ اَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: اِنَّ هَذَا اِخْتَرَ طَ عَلَيَّ سَيْفِي وَاَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، قَالَ:مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ:اَللَّهُ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ. ( )
وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ جَابِرٌ :كُنَّامَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَاِذَااَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيْلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَرَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، وَسَيْفُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَ ةِ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ: تَخَافُنِي؟ قَالَ : لَا، قَالَ: فَمَنْ يَّمْنَعُكَ مِنِّي؟ قال:اَللَّهُ. ( )
وَفِی رِوَایَۃِ اَبِي بَكْر الاِسْمَاعِيْلِيِّ فِي صَحِيْحِهِ: قَالَ:مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: اَللَّهُ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَاَخَذَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ فَقَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقَالَ:كُنْ خَيْرَ اٰخِذٍ، فَقَالَ:
تَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُوْلُ الله؟ قَالَ: لَا، وَلٰكِنِّي اُعَاهِدُكَ اَنْ لَا اُقَاتِلَكَ وَلَا اَ كُوْنَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُوْنَكَ فَخَلَّى سَبِيْلَهُ، فَاَ تَى اَصْحَابَهُ فَقَالَ:جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 78 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ ا گرتماللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘

عَنْ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَوْ أَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 79 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرت سَیِّدُنَاابو عُمارہ براء بن عازبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہماسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے فلاں !جب تو اپنے بستر پرجائے تو یہ کلمات کہہ لیا کر: ’’اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ، وَأَ لْجَأْتُ ظَھْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَ بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَیعنییااللہ! میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا اورمیں تیری طرف متوجہ ہوا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیااورتیری رحمت کا سہارا لیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ، پناہ گاہ اور موضعِ نجات صرف تیری ہی طرف ہے۔میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔ ‘‘ (آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:) ’’ اگر تو اِسی رات فوت ہوگیاتو اسلام پرفوت ہوگا اور اگر صبح پائے گا توبہت بھلائی حاصل کرے گا۔ ‘‘
صحیحین کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنَا براء
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا: ’’ جب بستر پر جاؤ تو نمازکا سا وضو کرو، پھر اپنے سیدھے پہلو پر لیٹ جاؤ اور یہ کلمات کہو۔ ‘‘ اس کے بعد پہلی حدیث جیسے کلمات بیان کیے اور پھر فرمایاکہ ’’ انہیں اپنے آخری کلمات بناؤ ۔ ‘‘ (یعنی ان کلمات کے بعد کوئی اور بات نہ کرو۔)

عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَا فُلَانُ! إِذَا أَوَیْتَ إِلَی فِرَاشِکَ فَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ، فَإِنَّکَ إِنْ مِتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ مِتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَیْرًا. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحَیْنِ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِذَااَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّاَ وُضُوْ ءَکَ لِلصَّلاَۃِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الاَیْمَنِ وَقُلْ:وَذَکَرَنَحْوَہُ، ثُمَّ قَالَ: وَاجْعَلْہُنَّ آخِرَمَا تَقُوْلُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 80 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقعبداللہبن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تَیم بن مُرّہ بن کَعْب بن لُؤَیِّ بن غالب قرشی تیمیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُآپ ، آپ کے والداور والدہ کو بھی شرف صحابیت حا صل ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ (کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے موقع پر ) جب ہم غار میں تھے تو میں نے مشرکین کے قدموں کو دیکھا وہ ہمارے سروں پر پہنچ گئے۔میں نے عرض کی: ’’یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف نظر کی تووہ ہمیں دیکھ لے گا۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے ابو بکر! تیرا اُن دو کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جن کے ساتھ تیسرا ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ“ہے؟ ‘‘

عَنْ اَبِیْ بَکْرِنِ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ القُرَشِیِّ الْتَیْمِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَہُوَ وَاَبُوْہُ وَاُمُّہُ صَحَابَۃ ٌرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَ: نَظَرْتُ إِلٰی اَقْدَامِ الْمُشْرِکِیْنَ وَنَحْنُ فِیْ الغَاِروَہُمْ عَلٰی رُءُوْسِنَا فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ!لَوْاَنَّ أَحَدَہُمْ نَظَرَ تَحَتَ قَدَمَیْہِ لَاَبْصَرَنَا، فَقَالَ: مَاظَنُّکَ یَا أبَا بَکْرٍبِاِثْنَیْنِ، اَللّٰہُ ثَالِثُہُمَا؟ ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 81 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنااُمِّ سَلَمَہَ رضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاجن کانام ہند بنت ابو امیہ حذیفہ مخزومیہ ہے۔ان سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تویہ کلمات پڑھا کرتے : ’’بِسْمِ اللہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْاُضَلَّ، اَوْاَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ، اَوْاَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْاَجْھَلَ اَوْیُجْھَلَ عَلَیَّیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے ( نکلا ) ، میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کیا۔ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں گمراہ ہونے یا گمراہ کیے جانے ، پھسل جانے یا پھسلائے جانے ، ظلم کرنے یا ظلم کیے جانے، جاہل بننے یا جاہل بنائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘

عَنْ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ اُمِّ سَلَمَۃَ، وَاسْمُہَاہِنْدُبِنْتُ اَبِیْ اُمَیَّۃَ حُذَیْفَۃَ الْمَخْزُوْمِیَّۃُ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ:بِسْمِ اللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْاُضَلَّ، اَوْاَزِلَّ اَوْاُزَلَّ، اَوْاَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْاَجْہَلَ اَوْیُجْہَلَ عَلَیَّ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 82 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اکرم شفیع معظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص ( گھر سے نکلتے وقت) یہ پڑھ لے: ”بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّابِاللّٰہیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے (باہر جاتا ہوں ) میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کیا نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیقاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی عطا سے ہے۔ ‘‘ تو اس پڑھنے والے سے کہا جاتا ہے کہ تجھے ہدایت دی گئی، تیری کفایت کی گئی اور تجھے بچالیا گیا، نیز اس سے شیطان دور ہوجاتا ہے ۔ ‘‘ ابوداؤد نے یہ
اضافہ کیا ہے کہ ( جب کوئی یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو) شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے کہ ’’ تو اسے کیسے گمراہ کرسکتا ہے جسے ہدایت دی گئی جس کی کفایت کی گئی اور جسے بچا لیا گیا۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَالَ یَعْنِیْ إِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہٖ: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، یُقَالُ لَہُ: ہُدِیْتَ وَکُفِیتَ وَوُقِیتَ، وَتَنَحَّی عَنْہُ الشَّیْطَانُ. ( ) زَادَ اَبُودَاود: فَیَقُوْلُ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) لِشَیْطَانٍ آخَرَکَیْفَ لَکَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِیَ وکُفِیَ وَوُقِیَ؟ “ ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 83 ، باب :یقین اور توکل کا بیان

:حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ اقدس میں دو بھائی تھے، ایک بارگاہ نبوی میں حاضر رہتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا ، کام کرنے والے نے حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے بھائی ( کے کام نہ کرنے ) کی شکایت کی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو ۔ ‘‘

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ اَخَوَانِ عَلَی عَہْدِ النَّبِیّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ اَحَدُہُمَا یَأْتِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالْاٰخَرُ یَحْتَرِفُ، فَشَکَا الْمُحْتَرِفُ اَخَاہُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:
لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 84 ، باب :یقین اور توکل کا بیان