Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 81

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ بَکْرِنِ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ القُرَشِیِّ الْتَیْمِیّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَہُوَ وَاَبُوْہُ وَاُمُّہُ صَحَابَۃ ٌرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَ: نَظَرْتُ إِلٰی اَقْدَامِ الْمُشْرِکِیْنَ وَنَحْنُ فِیْ الغَاِروَہُمْ عَلٰی رُءُوْسِنَا فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ!لَوْاَنَّ أَحَدَہُمْ نَظَرَ تَحَتَ قَدَمَیْہِ لَاَبْصَرَنَا، فَقَالَ: مَاظَنُّکَ یَا أبَا بَکْرٍبِاِثْنَیْنِ، اَللّٰہُ ثَالِثُہُمَا؟ ( )

عن ابی بکرن الصدیق رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب القرشی التیمی رضی اللہ عنہ وہو وابوہ وامہ صحابۃ رضی اللہ عنہم قال: نظرت إلی اقدام المشرکین ونحن فی الغاروہم علی رءوسنا فقلت یارسول اللہ!لوان أحدہم نظر تحت قدمیہ لابصرنا، فقال: ماظنک یا أبا بکرباثنین، اللہ ثالثہما؟ ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقعبداللہبن عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تَیم بن مُرّہ بن کَعْب بن لُؤَیِّ بن غالب قرشی تیمیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُآپ ، آپ کے والداور والدہ کو بھی شرف صحابیت حا صل ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ (کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے موقع پر ) جب ہم غار میں تھے تو میں نے مشرکین کے قدموں کو دیکھا وہ ہمارے سروں پر پہنچ گئے۔میں نے عرض کی: ’’یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف نظر کی تووہ ہمیں دیکھ لے گا۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے ابو بکر! تیرا اُن دو کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جن کے ساتھ تیسرا ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ“ہے؟ ‘‘

شرح حدیث

اللہ عَزَّ وَجَلَّپرہیز گاروں کے ساتھ ہے:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”ثَالِثُھُمَایعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے تیسرے ہونے“ کا مطلب ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد و نصرت ان کے ساتھ ہے اوروہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حفاظت میں ہیں ۔اور یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فرمان عالیشان کے تحت داخل ہے، جس میں ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ (۱۲۸)(پ۱۴، النحل:۱۲۸)ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہاُن کے ساتھ ہے جو ڈرتے ہیں اور جو نیکیاں کرتے ہیں ۔
اس حدیث میں حضور
سَیِّدُالْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ الِّلْعَالَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاللہ عَزَّوَجَلَّپر عظیم توکل کا بیان ہے۔ (کہ دشمن کے اتنے قریب ہونے کے باوجود بھی نہ گھبرائے ۔) اسی طرح اس میں صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت کا بھی بیان ہے کہ انہوں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں اپنا مال ، اہل وعیال اور اپنے وطن کو چھوڑدیااور حضور کی حفاظت کے ‏لیے اپنی جان داؤ پر لگادی۔‘‘ ( )کفار اندھے ہوگئے:سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اتنے کٹھن ونازک وقت میں بھی حضور نبی مکرم نور مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ربّعَزَّوَجَلَّپر کامل بھروسہ کیااور کفارکی طرف سےبالکل بھی نہ گھبرائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے نبی کی زبر دست مدد فرمائی اور کفارمکہ کوآپ نظر ہی نہ آئے۔ چنانچہ منقول ہے کہ ان کافروں کے بارے میں حضور سیدعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں دعا فرمائی: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! انہیں اندھا کردے۔ ‘‘ پس کفارِ مکہ غار کے ارد گرد پھر تے رہے لیکن انہیں غار میںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سَیِّدُنَاصدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی موجودگی کا علم نہ ہوسکا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں اندھا کردیا تھا۔ ( )بہترین عبادت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ جب ہجرت کی شب حضور انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو لے کر صدیق اکبر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) غار ثور میں بیٹھے، تب مشرکین عرب اس غار کے دروازے پر پہنچ گئے، تب آپ نے نہایت خوف کی حالت میں یہ کہا۔ جناب صدیق اکبر کو اس وقت اپنی جان کا خوف نہیں تھا اپنی جان تو آپ پہلے ہی فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے، سانپ سے کٹوا لیا، خوف حضور انور کی تکلیف کا تھا، یہ خوف بہترین عبادت تھا جس پر ساری عبادات قربان ہو ں ۔ حضرت صدیق اکبر اور حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ گفتگو ربّ تعا لیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں بایں الفاظ نقل فرمایا:اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-(پ۱۰، التوبۃ:۴۰)ترجمۂ کنزالایمان:جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سےفرماتے تھے غم نہ کھا بے شکاللہہمارے ساتھ ہے۔ ( )
¥
تَوکُّلْکیا ہے؟حضرت سَیِّدُنا ابوعبداللہقرشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے توکل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’ ہر حال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے تعلق قائم رکھنا۔ ‘‘ سائل نے عرض کی: ’’ مزید کچھ فرمائیے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ہر اس سبب کو چھوڑدینا جواللہ عَزَّ وَجَلَّتک پہنچنے میں رکاوٹ ہو۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ ابوبکر ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنے والا ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی حفاظت میں رہتا ہے۔
(2) انبیاء کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامپر چاہے کیسا ہی کٹھن وقت آجائے وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے۔انہیں اپنے ربّ کریمعَزَّوَجَلَّکی ذات پر کامل بھروسہ ہوتا ہے۔
(3) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی حضور نبی اکرم نور مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کا یہ عالَم تھا کہ وہ آپ پر اپنی جانیں نچھاور کرتے ، آپ کے آرام کی خاطربڑی بڑی تکالیف خوش دلی سے برداشت کر لیا کرتے تھے ۔
دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے ہر اس سبب کو چھوڑ دیتے ہیں جو اس پر توکل کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔
(5) جب دشمن کا خوف ہو تو اس وقت ذکر ِ الٰہی کرنے سے گھبراہٹ دُور ہوجاتی ہے اور دل کوسکون و قرار نصیب ہوتا ہے۔
(6) اشیاء میں تاثیر
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم ہی کی وجہ سے ہے۔ وہ جیسے چاہتا ہے اُن میں تصرف فرماتا ہے۔ یہ اُس کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ آنکھ کو ایک شے نظر آئے اور اس کے برابر دوسری شے نظر نہ آئے۔جیسا کہ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر ہوا کہ کفارِ مکہ کو اور توسب چیزیں نظر آرہی تھی لیکن اپنے قریب موجودرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سَیِّدُنَاصدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبالکل نظر نہ آئے ۔ سچ ہے کہ :
آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی حقیقی توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 81