Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 79

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَوْ أَنَّکُمْ تَتَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ، تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا. ( )

عن عمررضی اللہ عنہ قال:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لو أنکم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر، تغدو خماصا وتروح بطانا. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ ا گرتماللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

بغیر کوشش کے رزق ملنا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ کوّے کا بچہ جب انڈے سے نکلتا ہے تو اس کا رنگ سفید ہوتا ہے، اس کے ماں باپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ چنانچہ وہ بچہ بھوکا رہتاہے۔مگراللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی طرف مکھیوں اور چیونٹیوں کو بھیجتا ہےجنہیں کھاکر وہ تھوڑا بڑا ہوجاتا ہے اور رنگ بھی سیاہ ہوجاتا ہے۔ اس کے ماں باپ اس کے پاس واپس آتے ہیں تو اس کا کالارنگ دیکھ کر اس کی دیکھ بھال کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ اس طرح بغیر کوشش کے اسے رزق ملتا رہتا ہے۔ ‘‘ ( )ربّتعالٰیدشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرتِ سَیِّدُناعِزْرَائیلعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا: ’’ روح قبض کرتے وقت تجھے کسی پر رحم بھی آیا؟ ‘‘ عرض کی: ’’ ہاں ! جب ایک کشتی غرق ہوئی تو اس کے کچھ مسافر ایک تختے کا سہارا لینے کی وجہ سے بچ گئے، ان میں ایک عورت بھی تھی جو اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی، مجھے اس کی روح قبض کرنے کا حکم ہوا تو مجھے اس کے بچے پر بہت رحم آیا۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا: ’’ میں نے اس بچے کو جزیرے پر ڈال دیااور اس کی طرف شیرنی بھیجی جو اسے دودھ پلاتی رہی یہاں تک کہ وہ بڑا ہوگیا ۔پھر جنوں نے اسے انسانوں کی بولی سکھائی، پھر وہ بادشاہ بنااورپھر وہ اپنی حقیقت کو بھلا کر خدا ہونے کا دعویٰ کربیٹھا ۔ اس کا نام شَدَّاد تھا۔ ‘‘ یہ وا قعہ نقل کرنے کے بعدعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّایسا رزاق ہے کہ اپنے دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے تو پھر اپنے محبوب بندوں کو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ ‘‘ ( )حق توکل کیا ہے؟مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ حق توکل یہ ہے کہ فاعل حقیقیاللہ عَزَّ وَجَلَّکو ہی جانے۔ بعض نے فرمایا کہ کسب کرنا (اور) نتیجہاللہ عَزَّوَجَلَّپر چھوڑنا حق توکل ہے۔ جسم کو کام میں لگائے، دل کواللہ عَزَّ وَجَلَّسے وابستہ رکھے۔ تجربہ بھی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرنے والے بھوکے نہیں مرتے ۔کسی نے کیا خوب کہا ۔ شعر
رزق نہ رکھیں ساتھ میں پنچھی اور درویش
جن کا ربّ پر آسرا اُن کو رزق ہمیش
خیال رہے کہ پرندے تلاش رزق کے لیے آشیانہ سے باہر ضرور جاتے ہیں ہاں درختوں میں چلنے کی طاقت نہیں تو انہیں وہاں ہی کھڑے کھڑے کھاد پانی پہنچتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
ربّتعالٰیکی شانِ رزّاقی:حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم بن ادھمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْاَکْرَمکی توبہ کاایک سبب یہ واقعہ بنا کہ ایک دن آپ شکار کے ‏لیے گئے ۔پھر جب کھانا کھانے لگے تو ایک کوّا آیا اورروٹی کا ایک ٹکڑا اٹھا کر تیزی سے ایک جانب اڑگیا۔ آپ کوبہت تعجب ہوا۔چنانچہ گھوڑے پر سوار ہو کر اس کا تعاقب کرنے لگے۔کَوّا کچھ دور ایک پہاڑ پر جاکر نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔آپ بھی پہاڑ پر چڑھے تو کوا وہاں موجود تھا اور قریب ہی ایک شخص پڑا تھا جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔آپ نے جلدی سے اسے کھول دیا اور ماجرا دریافت کیا۔ اس نے بتا یا کہ میں ایک تاجر ہوں ، ڈاکوؤں نے میرا سارا مال چھین لیا اور میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں ڈال دیا میں اسی حالت میں سات دن سے یہاں موجود ہوں ۔ یہ کَوَّا روزانہ میرے پاس روٹی لے کر آتا ہے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے میرے منہ میں ڈال دیتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے میرے رزق کا ایسا انتظام فرمایاہے کہ میں ایک دن بھی بھوکا نہیں رہا۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّکی یہ شان رزّاقی دیکھ کر آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے صِدْقِ دل سے توبہ کی، غلاموں کو آزاد کردیا، اپنی تمام دولت وجائیدادوقف کردی اور شا ہانہ لباس اتار کر اُونی کپڑے پہن ‏لیے۔ پھراللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کر کے بِلا زَادِ راہ پیدل ہی حج کے ‏لیے چل دئیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کی بدولت دوران سفر آپ کوبھوک و پیاس کا بالکل بھی احساس نہ ہوا یہاں تک کہ آپبیت اللہشریف پہنچ گئے۔ آپ نے اس کرم پراللہ عَزَّ وَجَلَّکا بہت شکر ادا کیا۔ ( )اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمینتوکل کی چار اقسام:حضرت سَیِّدُنَاحَاتِم اَصَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے فرمایا : ’’ توکل چار طرح کا ہوتا ہے: (۱) مخلوق پر توکل (۲) مال پر توکل (۳) نفس پر توکل (۴) اپنے ربّ پرتوکل۔مخلوق پرتوکل کرنے والا کہتا ہے :فلاں کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی غم نہیں پہنچ سکتا ۔اورمال پر توکل کرنے والا کہتا ہے:جب تک میرے پاس کثیر مال ہے مجھے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اور نفس پر توکل کرنے والا کہتا ہے:جب تک میرا جسم سلامت ہے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہو سکتی۔ یہ تینوں اقسام جاہلوں کا توکل ہے۔ اوراللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرنے والا کہتا ہے کہ :میں مالدار ہوں یا فقیر ، مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میرا ربّ میرے ساتھ ہے، وہ جیسے چاہے گا مجھے سنبھالے گا ۔ ( ) (یہ حقیقی توکل ہے۔)مدنی گلدستہ
’’ تَوَکُّل ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
جو رزق مُقَدَّر میں ہے وہ ضرور ملتا ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّجیسے چاہتا ہے اپنی مخلوق تک رزق پہنچاتا ہے۔
(2) رزق کے ‏لیے تگ و دو ضرور کرنی چاہیے، حصولِ رزق کی کوشش ہرگز توکل کے خلاف نہیں ۔
(3) بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عبرت آموز معاملات سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی طرف گامزن ہوجاتے ہیں ۔
(4) مال ودولت اورطاقت وقوت پر بھروسہ کرنا جاہلوں کا طریقہ ہے ۔ تو کل کا حق یہ ہے کہ صرف خدائے بزرگ وبرتر کی ذات پر بھروسہ کیا جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کامل توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی سے سرفراز فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 79