- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- حدیث نمبر 83
باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 83
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَالَ یَعْنِیْ إِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہٖ: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، یُقَالُ لَہُ: ہُدِیْتَ وَکُفِیتَ وَوُقِیتَ، وَتَنَحَّی عَنْہُ الشَّیْطَانُ. ( ) زَادَ اَبُودَاود: فَیَقُوْلُ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) لِشَیْطَانٍ آخَرَکَیْفَ لَکَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِیَ وکُفِیَ وَوُقِیَ؟ “ ( )
عن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:من قال یعنی إذاخرج من بیتہ: بسم اللہ توکلت علی اللہ، لاحول ولا قوۃ إلا باللہ، یقال لہ: ہدیت وکفیت ووقیت، وتنحی عنہ الشیطان. ( ) زاد ابوداود: فیقول (یعنی الشیطان) لشیطان آخرکیف لک برجل قد ہدی وکفی ووقی؟ “ ( )
حدیث ترجمہ
:حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اکرم شفیع معظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص ( گھر سے نکلتے وقت) یہ پڑھ لے: ”بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّابِاللّٰہیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے (باہر جاتا ہوں ) میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کیا نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیقاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی عطا سے ہے۔ ‘‘ تو اس پڑھنے والے سے کہا جاتا ہے کہ تجھے ہدایت دی گئی، تیری کفایت کی گئی اور تجھے بچالیا گیا، نیز اس سے شیطان دور ہوجاتا ہے ۔ ‘‘ ابوداؤد نے یہ
اضافہ کیا ہے کہ ( جب کوئی یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو) شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے کہ ’’ تو اسے کیسے گمراہ کرسکتا ہے جسے ہدایت دی گئی جس کی کفایت کی گئی اور جسے بچا لیا گیا۔ ‘‘
شرح حدیث
تَوَکُّلْ عَلَی اللہکی برکات:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ جب بندہ گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے تو ایک فرشتہ کہتا ہے: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے! تجھے سیدھی راہ کی ہدایت دی گئی ، معاملات میں تیری کفایت کی گئی اور دشمنوں سے تیری حفاظت کی گئی۔ ‘‘ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جب وہبِسْمِ اللہکہتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام کی برکت سے اسے ہدایت دی جاتی ہے، جب ”تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ“کہتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کی برکت سے تمام معاملات میں اس کی کفایت کی جاتی ہے اور”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ“ کی برکت سے اسے دشمنوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ یہ بہت پیاری دعا ہے۔ ‘‘ ( )گھر سے مراد رہنے کی جگہ ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ گھر سے مراد رہنے کی جگہ ہے خواہ یہی گھر ہو جس میں بال بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یا مسجد کا حجرہ، خانقاہ وغیرہ جہاں صوفیاء، طلباء اور مَشائخ رہتے ہیں ۔ غرضکہ ہر شخص اپنے ٹھکانے سے نکلتے وقت یہ پڑھ لیا کرے (مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ )اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے نکلتا ہوں اور اپنے کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں ، میں کمزور ہوں ، وہ قوی ہے، اس کے بغیر نہ کسی میں طاقت ہے نہ قوت (لاحَوْلَ ولاقُوّۃ) گناہ سے بچنے کی طاقتحَوْلہے، نیکی کرنے کی طاقتقُوَّتہے، دنیا کے جنجال سے بچنے کی طاقتحَوْلہے، ربِّ ذُوالجلال تک پہنچنے کی طاقتقُوَّتہے، اچھے کام کرنے کی طاقتحَوْلہے ا ور مقبول کام کرنے کی طاقتقُوَّت۔ خیال رہے کہ اگرچہ ہم فرشتے کا یہ کلام سنتے نہیں مگر جب حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معرفت ہم تک یہ کلام پہنچ گیا تو اس کا کہنا عبث نہ ہوا، لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہم اُس فرشتے کا یہ کلام سنتے نہیں تو اس کا کہنا بے کار ہے، نیز فرشتے کے اس کلام کا عملی طور پر ظہور بھی ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو یہ تینوں نعمتیں مل جاتی ہیں ۔ (شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے) یعنی فرشتے کے اس کہہ دینے پر اس کا قرین شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اس سے بھاگ جاتا ہے۔ پھر جب شام شیاطین کا سردار ابلیس اس سے دن بھر کی کارکردگی کا امتحان لیتا ہے تو یہ قرین اس بندے کی دعا کا ذکر کرکے افسوس کرتا ہے کہ میں آج اسے بہکا نہ سکا، تب ابلیس اس کی تسلی کے لیے یہ کہتا ہے کہ تجھ پر کوئی میرا عتاب نہیں ، تو معذور تھا، وہ بندہ فرشتے کی امن میں آچکا تھا۔ ‘‘ ( )
¥حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱) ایک یہ کہ فرشتے کی امان میں آجانا، امن و امان کا ذریعہ ہے، پھر جو حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امان میں آجائے اس کا کیا کہنا ۔ (۲) دوسرے یہ کہ ابلیس فرشتوں اور ان کی امان و حفاظت کو دیکھتا ہے بدر میں ابلیس نے امدادی فرشتوں کو دیکھا تھا اور کہا تھا:اِنِّی اَرٰی مَالا تَرَوْنَ(یعنی جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آرہا) (۳) تیسرے یہ کہ حضورِاَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی ناری اور نوری مخلوق چھپی ہوئی نہیں ۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامفرشتوں ، شیاطین کو ملاحظہ بھی فرماتے ہیں اور اُن کے کلام بھی سنتے ہیں پھر ہم خاکی مخلوق حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے کیسے چھپ سکتے ہیں ؟ ‘‘ ( )
سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر
ملکوت ومُلک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عِیاں نہیں
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درودصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ عثمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)جو گھر سے نکلتے وقت مذکورہ دعا پڑھ لے، اس کے سب کام سنورجاتے ہیں ، شیطانی لشکروں سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے راہ ِحق کی ہدایت ملتی ہے۔
(2) دعا کے معاملے میں کبھی غفلت نہیں کرنی چاہیے کہ دعا شیطان کے خلاف بہترین ہتھیار ہے۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنے والے ظاہری وباطنی دشمنوں سے محفوظ رہتے ہیں ، رحمتِ الٰہی ہر معاملے میں ان کی دستگیری کرتی ہے۔
(4) جس نیک و جائز کام کی ابتدااللہ عَزَّ وَجَلَّکے مبارک نام سے کی جائے وہ کام بالخیر انجام پاتا ہے۔
(5) ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرشتوں کی آوازسنتے اورپہچانتے ہیں جبھی تو بتا دیا کہ مذکورہ دعا پڑھنے والوں کو فرشتے کیا جواب دیتے ہیں ۔
دُور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلاماللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گھر سے باہرنکلتے وقت اس کی دعا پڑھنے اور اپنے ربّ تعالی پر حقیقی معنی میں توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 83