Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 83

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَالَ یَعْنِیْ إِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہٖ: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، یُقَالُ لَہُ: ہُدِیْتَ وَکُفِیتَ وَوُقِیتَ، وَتَنَحَّی عَنْہُ الشَّیْطَانُ. ( ) زَادَ اَبُودَاود: فَیَقُوْلُ (یَعْنِی الشَّیْطَانَ) لِشَیْطَانٍ آخَرَکَیْفَ لَکَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِیَ وکُفِیَ وَوُقِیَ؟ “ ( )

عن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:من قال یعنی إذاخرج من بیتہ: بسم اللہ توکلت علی اللہ، لاحول ولا قوۃ إلا باللہ، یقال لہ: ہدیت وکفیت ووقیت، وتنحی عنہ الشیطان. ( ) زاد ابوداود: فیقول (یعنی الشیطان) لشیطان آخرکیف لک برجل قد ہدی وکفی ووقی؟ “ ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اکرم شفیع معظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص ( گھر سے نکلتے وقت) یہ پڑھ لے: ”بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّابِاللّٰہیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے (باہر جاتا ہوں ) میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کیا نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیقاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی عطا سے ہے۔ ‘‘ تو اس پڑھنے والے سے کہا جاتا ہے کہ تجھے ہدایت دی گئی، تیری کفایت کی گئی اور تجھے بچالیا گیا، نیز اس سے شیطان دور ہوجاتا ہے ۔ ‘‘ ابوداؤد نے یہ
اضافہ کیا ہے کہ ( جب کوئی یہ دعا پڑھ لیتا ہے تو) شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے کہ ’’ تو اسے کیسے گمراہ کرسکتا ہے جسے ہدایت دی گئی جس کی کفایت کی گئی اور جسے بچا لیا گیا۔ ‘‘

شرح حدیث

تَوَکُّلْ عَلَی اللہکی برکات:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ جب بندہ گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے تو ایک فرشتہ کہتا ہے: ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے! تجھے سیدھی راہ کی ہدایت دی گئی ، معاملات میں تیری کفایت کی گئی اور دشمنوں سے تیری حفاظت کی گئی۔ ‘‘ علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جب وہبِسْمِ اللہکہتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام کی برکت سے اسے ہدایت دی جاتی ہے، جب ”تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ“کہتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کی برکت سے تمام معاملات میں اس کی کفایت کی جاتی ہے اور”لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ“ کی برکت سے اسے دشمنوں سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ یہ بہت پیاری دعا ہے۔ ‘‘ ( )گھر سے مراد رہنے کی جگہ ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ گھر سے مراد رہنے کی جگہ ہے خواہ یہی گھر ہو جس میں بال بچوں کے ساتھ رہتے ہیں یا مسجد کا حجرہ، خانقاہ وغیرہ جہاں صوفیاء، طلباء اور مَشائخ رہتے ہیں ۔ غرضکہ ہر شخص اپنے ٹھکانے سے نکلتے وقت یہ پڑھ لیا کرے (مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ )اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے نکلتا ہوں اور اپنے کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں ، میں کمزور ہوں ، وہ قوی ہے، اس کے بغیر نہ کسی میں طاقت ہے نہ قوت (لاحَوْلَ ولاقُوّۃ) گناہ سے بچنے کی طاقتحَوْلہے، نیکی کرنے کی طاقتقُوَّتہے، دنیا کے جنجال سے بچنے کی طاقتحَوْلہے، ربِّ ذُوالجلال تک پہنچنے کی طاقتقُوَّتہے، اچھے کام کرنے کی طاقتحَوْلہے ا ور مقبول کام کرنے کی طاقتقُوَّت۔ خیال رہے کہ اگرچہ ہم فرشتے کا یہ کلام سنتے نہیں مگر جب حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معرفت ہم تک یہ کلام پہنچ گیا تو اس کا کہنا عبث نہ ہوا، لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ہم اُس فرشتے کا یہ کلام سنتے نہیں تو اس کا کہنا بے کار ہے، نیز فرشتے کے اس کلام کا عملی طور پر ظہور بھی ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو یہ تینوں نعمتیں مل جاتی ہیں ۔ (شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے) یعنی فرشتے کے اس کہہ دینے پر اس کا قرین شیطان جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اس سے بھاگ جاتا ہے۔ پھر جب شام شیاطین کا سردار ابلیس اس سے دن بھر کی کارکردگی کا امتحان لیتا ہے تو یہ قرین اس بندے کی دعا کا ذکر کرکے افسوس کرتا ہے کہ میں آج اسے بہکا نہ سکا، تب ابلیس اس کی تسلی کے لیے یہ کہتا ہے کہ تجھ پر کوئی میرا عتاب نہیں ، تو معذور تھا، وہ بندہ فرشتے کی امن میں آچکا تھا۔ ‘‘ ( )
¥
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱) ایک یہ کہ فرشتے کی امان میں آجانا، امن و امان کا ذریعہ ہے، پھر جو حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی امان میں آجائے اس کا کیا کہنا ۔ (۲) دوسرے یہ کہ ابلیس فرشتوں اور ان کی امان و حفاظت کو دیکھتا ہے بدر میں ابلیس نے امدادی فرشتوں کو دیکھا تھا اور کہا تھا:اِنِّی اَرٰی مَالا تَرَوْنَ(یعنی جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آرہا) (۳) تیسرے یہ کہ حضورِاَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی ناری اور نوری مخلوق چھپی ہوئی نہیں ۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامفرشتوں ، شیاطین کو ملاحظہ بھی فرماتے ہیں اور اُن کے کلام بھی سنتے ہیں پھر ہم خاکی مخلوق حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے کیسے چھپ سکتے ہیں ؟ ‘‘ ( )
سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر
ملکوت ومُلک میں کوئی شے نہیں وہ جو تجھ پہ عِیاں نہیں
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ عثمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
جو گھر سے نکلتے وقت مذکورہ دعا پڑھ لے، اس کے سب کام سنورجاتے ہیں ، شیطانی لشکروں سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے راہ ِحق کی ہدایت ملتی ہے۔
(2) دعا کے معاملے میں کبھی غفلت نہیں کرنی چاہیے کہ دعا شیطان کے خلاف بہترین ہتھیار ہے۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرنے والے ظاہری وباطنی دشمنوں سے محفوظ رہتے ہیں ، رحمتِ الٰہی ہر معاملے میں ان کی دستگیری کرتی ہے۔
(4) جس نیک و جائز کام کی ابتدا
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مبارک نام سے کی جائے وہ کام بالخیر انجام پاتا ہے۔
(5) ہمارے پیارے آقا
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرشتوں کی آوازسنتے اورپہچانتے ہیں جبھی تو بتا دیا کہ مذکورہ دعا پڑھنے والوں کو فرشتے کیا جواب دیتے ہیں ۔
دُور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گھر سے باہرنکلتے وقت اس کی دعا پڑھنے اور اپنے ربّ تعالی پر حقیقی معنی میں توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 83