Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 82

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ اُمِّ سَلَمَۃَ، وَاسْمُہَاہِنْدُبِنْتُ اَبِیْ اُمَیَّۃَ حُذَیْفَۃَ الْمَخْزُوْمِیَّۃُ، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَاخَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ قَالَ:بِسْمِ اللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْاُضَلَّ، اَوْاَزِلَّ اَوْاُزَلَّ، اَوْاَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْاَجْہَلَ اَوْیُجْہَلَ عَلَیَّ. ( )

عن ام المومنین ام سلمۃ، واسمہاہندبنت ابی امیۃ حذیفۃ المخزومیۃ، رضی اللہ عنہاان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذاخرج من بیتہ قال:بسم اللہ، توکلت علی اللہ، اللہم انی اعوذبک ان اضل اواضل، اوازل اوازل، اواظلم او اظلم اواجہل اویجہل علی. ( )

حدیث ترجمہ

اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنااُمِّ سَلَمَہَ رضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاجن کانام ہند بنت ابو امیہ حذیفہ مخزومیہ ہے۔ان سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تویہ کلمات پڑھا کرتے : ’’بِسْمِ اللہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَضِلَّ اَوْاُضَلَّ، اَوْاَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ، اَوْاَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْاَجْھَلَ اَوْیُجْھَلَ عَلَیَّیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے ( نکلا ) ، میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کیا۔ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں گمراہ ہونے یا گمراہ کیے جانے ، پھسل جانے یا پھسلائے جانے ، ظلم کرنے یا ظلم کیے جانے، جاہل بننے یا جاہل بنائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘

شرح حدیث

فتنوں سے بچنے کی آسان دعا:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جب انسان اپنی ضروریات کے ‏لیے گھر سے نکلتاہے تو لوگو ں سے میل جول ایک لازمی امر ہے۔ اس وقت اندیشہ ہے کہ وہ سیدھی راہ سے بھٹک جائے، کسی دینی معاملے میں بھٹکا توخود گمراہ ہوگا یا کسی اور کو گمراہ کرے گا اور اگر دُنیوی معاملات میں بھٹکا تو یہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کربیٹھے گا یا کوئی اس پر ظلم وزیادتی کرے گا، اسی طرح خود کسی سے جاہلانہ برتاؤ کرےگا یا پھراس سے جاہلانہ برتا ؤ کیا جائے گا تو ان تمام صورتوں سے بچنے کے ‏لیے آسان اور مختصر الفاظ میں پناہ مانگی گئی ہے۔ ‘‘ ( )گمراہی اور پھسلنے کا فرق:مرآۃ المناجیح میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ بِلا ارادہ گناہ ہوجانا ”زَلَّتیعنی پھسل جانا“ہے اور اِرادتاً گناہ کرناضلالت، یا گناہِ صغیرہزَلَّتہے، گناہ کبیرہ ضلالت، یاعملی غلطیزَلَّتہے اور اقتصادی غلطی ضلالت۔ چونکہ گھر سے باہر نکل کر ہر قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے، اچھوں سے بھی اور بُروں سے بھی۔ اس ‏لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت مناسب ہے۔ یعنی :یا اللہگناہوں ، بدعقیدگیوں سے تو ہی مجھے بچانا۔ اب ہرطرح کے لوگوں سے مجھے ملنا ہے۔ خیال رہے کہ یہ دعائیں تعلیم اُمَّت کے ‏لیے ہیں ۔حقوق العباد مارنا ظلم ہے اورحقوق اللہضائع کرنا جہالت۔ یعنی خدایا نہ تو میں کسی کا حق ماروں ، نہ کوئی میرا حق مارے اور نہ میں تیرے حقوق میں کوتاہی کروں ، نہ کوئی مجھ سے کوتاہی کرائے۔ سلامتی دین اسی میں ہے کہ انسان نہ ظالم ہو نہ مظلوم نہ جاہل ہو نہ مجہول۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ رحمت ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
گھر سے نکلتے وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ضرور کرنی چاہیے تاکہ بندہ نقصان سے محفوظ رہے ۔
(2) نیک لوگ اپنا ہر معاملہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کر دیتے ہیں کسی بھی معاملے میں اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ رحمت الٰہی کے طلبگار رہتے ہیں ۔
(3) ہمارے پیارے آقا
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کی ہرہرمعاملے میں رہنمائی فرمائی ہے حتی کہ گھر سے نکلتے وقت ممکنہ گناہوں سے بچنے کی دعا بھی ارشاد فرمادی۔
(4) ا ِنسان فطرتاًکمزور واقع ہوا ہے جبکہ اس کا سب سے بڑا دشمن شیطان انتہائی فریبی ومکّار۔ وہ ہر وقت انسان کو بہکانے میں مصروف رہتاہے۔بالخصوص لوگوں سے میل جول کے وقت ممنوعات کے اِرتکاب کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ لہٰذا ہردم ربّ سے اس کا فضل وکرم مانگنا چاہیے کیونکہ اسی کی بدولت شیطان کے مکر وفریب سے بچا جا سکتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی ذات پر توکل کرنے، گمراہ ہونے یا گمراہ کیے جانے ، پھسل جانے یا پھسلائے جانے ، ظلم کرنے یا ظلم کیے جانے، جاہل بننے یا جاہل بنائے جانےسے محفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 82