Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 75

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَااَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ:اَللّٰہُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ الَّا اَنْتَ اَنْ تُضِلَّنِیْ، اَنْتَ الْحَیُّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ، وَالْجِنُّ وَالْاِنسُ یَمُوْتُوْنَ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہماایضا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یقول:اللہم لک اسلمت وبک امنت، وعلیک توکلت، والیک انبت، وبک خاصمت، اللہم انی اعوذبعزتک، لا الہ الا انت ان تضلنی، انت الحی الذی لا یموت، والجن والانس یموتون.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہی مَروی ہے کہ حضور نبی اَکرم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ’’ اے میرے پروردگار! میں نے تیری اِطاعت کی، تجھ ہی پر اِیمان لایا، تجھ ہی پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رُجوع لایا اور تیری ہی مدد سے جنگ کی ، اے میرے پروردگار! میں تیرے گمراہ کرنے سے تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو زندہ ہے، تجھے کبھی موت نہیں آئے گی جبکہ تمام جن واِنس مر جا ئیں گے۔

شرح حدیث

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیالفاظ ِحدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ میں نے تیری اِطاعت کی ۔ یعنی تیرے حکم پر میں نے سرِ تسلیم خم کیا، تمام اَوَامِرو نَوَاہی کوتسلیم کیا، تیری اور تیرے تمام اَحکام کی تصدیق کی، تجھ ہی پر بھروسہ کیا۔یعنی ظاہری اَسباب سے قطعِ نظر کرتے ہوئے میں نے اپنے تمام اُمور تیرے سپرد کیے ۔ایک قول کے مطابق معنی یہ ہے کہ میں نے قوت و طاقت سے بَری ہوکر اپنے معاملات تیری طرف پھیرے، مجھے یقین ہے کہ مجھے وہی ملے گا جو تقدیر میں میرے ‏لیے لکھا جا چکا ہے۔ لہٰذامیں نے اپنے تمام اُمور تیرے سپرد کردئیے۔میں تیری ہی طرف رُجوع لایا۔یعنی میں نے اپنے معاملات کی تدبیراورعبادات میں تیری طرف رُجوع کیا۔ ‘‘مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ (تیری ہی مدد سے جنگ کی) یعنی خدایا میں اپنی قوت و طاقت یا فوج و ہتھیار کے بھروسہ پر جہاد نہیں کرتا صرف تیرے بھروسہ پر کرتا ہوں ، یہ تو کل و ہ قُوَّت ہے جو کفار کے پاس نہیں صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی میں نےدین کے دشمنوں سے جہاد کیا اورمضبوط دلائل سے اُن کے دلائل کا رد کیا، اورتلوار اور مضبوط نیزوں سے اُن کی کمر توڑ دی۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ میں تیری عزت کے وسیلے سے پناہ چاہتا ہوں ۔یعنی تیرے غلبہ و قدرت و طاقت کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں ، بیشک تمام عزت تیرے ہی ‏لیے ہے، تیرے سوا کوئی موجود، معبود اور مقصود نہیں ہے۔میں تجھ ہی سے سوال کرتا اور تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں ۔ اور میں پناہ چاہتا ہوں ہدایت کے بعد گمراہی سےاور تو نے مجھے تیرے حکم اور فیصلے کو ظاہر و باطِن (دل و جان) سے تسلیم کرنے، تیری جناب میں جھکنے اور تیرے دُشمنوں سے لڑنے کی توفیق دی۔ اور مجھے ہر حال میں تیری عزت و نصرت سے اُمید ہے۔ ‘‘عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’اَنْ تُضِلَّنِیْکا معنی ہے کہ لمحہ بھر کے ‏لیے بھی مجھے اپنی نظرِ رحمت سے جدا نہ کرنا بلکہ اپنی بارگاہ میں دائمی حاضری کا شرف بخشنا۔ یا پھر معنی یہ ہے کہ اپنے اَحکام کی بَجَا آوَرِی سے لمحہ بھر بھی دُور نہ کرنا بلکہ مجھے تیری دائمی بندگی کرنے والا بنانا۔یا پھر معنی یہ ہے کہ لمحہ بھر بھی مجھے اِیمان سے دُور نہ کرنا بلکہ مجھے ہمیشہ تیری اور جو کچھ تیری بارگاہ سے آیا اُس کی تصدیق کرنے والا بنانا۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اِس میں کسی قسم کا کوئی تردُّدنہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد:”اَنْ تُضِلَّنِیْاِضْلالسے مشتق نہیں کہ اِس کا مطلب گمراہ کرنا ہے۔ بلکہ یہضَلَّسے متعدی ہے جوغَابَکے معنی میں ہے جس کا مطلب ہے غائب ہونا، پوشیدہ ہونا، موجود نہ ہونا۔ اوراَعُوْذُبِعِزَّتِکَ اَنْ تُضِلَّنِیْکا معنی ہے: ’’ میں پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری سے لمحہ بھر کے ‏لیے بھی دور کرے۔‘‘توکل کی حقیقت:حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیتوکل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ توکل ایک دِلی حالت کا نام ہے اوریہاللہ عَزَّ وَجَلَّکو ایک ماننے اور اُس کے فضل وکرم پر اِیمان لانے سے حاصل ہوتی ہے ۔ توکل کا معنی یہ ہے کہ دل اپنے پروردگارپر اِعتماد کرے اور اُس سے مطمئن رہے۔اپنی روزی کے بارے میں بلاوجہ فکر مند نہ ہو اور اَسبابِ ظاہری میں خلل پڑنے سے مایوس و پریشان نہ ہو بلکہ خالق ِحقیقی پر بھروسہ رکھے کہ وہی رزق دینے والا ہے ۔ ‘‘
پیرانِ پیر، روشن ضمیر، حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبد القادر جیلانی
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسے پوچھا گیا کہ توکل کیا ہے؟ فرمایا: ’’ توکل یہ ہے کہ دل صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف مشغول ہو اور اس کے غیر پر بھروسہ نہ کرے بلکہ دھیان بھی نہ دے اور اُس کے سِوا ہر چیزسے بے نیاز ہوجائے۔ ‘‘معرفت الٰہی رکھنے والا نوجوان:حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم بن مُہَلَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے جنگل میں ایک نوجوان کو نماز پڑھتے دیکھا۔ جب وہ فارغ ہوا تو میں نے کہا : ’’ اِس ویرانے میں تمہارا کوئی مُوْنِس وغمخوار بھی ہے؟ ‘‘ کہا: ’’ ہاں ! ہے ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ کہا ں ہے؟ ‘‘ کہا : ’’ میرے دائیں بائیں ، اوپر نیچے ، آگے پیچھے ہر طر ف ۔ ‘‘ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ یہ عارِفین میں سے ہے۔میں نے کہا: ’’ تمہارا زادِ راہ کیا ہے؟ ‘‘ کہا: ’’ توحید و رسالت کا اِقرار، اِخلاص، اِیمانِ صادِق اور پختہ تَوکُّل۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ میرے بیٹے! کیا تم میرے ساتھ رہنا پسند کرو گے ؟ ‘‘ کہا: ’’ بندے کو اُس کا ساتھی یادِالٰہی سے غافل کردیتا ہے اور میں لمحہ بھر بھی اپنے ربّ کی یاد سے غافل ہو کر عبادت کی اُس لذت سے محروم نہیں ہونا چاہتا جسے میں اب محسوس کر رہا ہوں ۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اِس ویرانے میں تمہیں وَحشت محسوس نہیں ہوتی؟ ‘‘ کہا: ’’ محبتِ الٰہی نے مجھ سے سب وَحشتیں دُور کردی ہیں اب میں دَرِندوں کے درمیان بھی خوف و وَ حْشَت محسوس نہیں کرتا۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’ تم کہاں سے کھاتے ہو؟ ‘‘ کہا: ’’ جس ربّ نے مجھے ماں کے پیٹ میں رزق دیا وہی اب بھی مجھے رزق عطا فرماتا ہے۔ ‘‘
میں نے پوچھا: ’’ تمہارے کھانے کا اِنتظام کس طر ح ہوتا ہے؟ ‘‘ کہا : ’’ میں جہاں بھی ہوں مجھے وقت پر کھانا مل جاتا ہے، میرا ربّ میری حاجت کوخوب جانتا ہے ، وہ میرے حالات سے با خبر اور میرا حافظ و والی ہے۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’ تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہے۔ ‘‘ کہا : ’’ ہاں ! اگر دوبارہ مجھے دیکھوتو مجھ سے گفتگو نہ کرنا اور نہ ہی میرے بارے میں کسی کو کچھ بتانا۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ جیسے تمہاری مرضی، اِس کے علاوہ کوئی اورحاجت ہو توبتاؤ؟ ‘‘ کہا : ’’ ہو سکے توغم و پریشانی کی حالت میں مجھے دعامیں یاد رکھنا ۔ ‘‘
میں نے کہا: ’’ میرے بیٹے!تم مجھ سے افضل ہو، تم میں خوفِ خدا وتوکل مجھ سے زیادہ ہے۔ ‘‘ کہا: ’’ یوں نہ کہیے! بلکہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں ، آپ کی نماز یں اور روزے مجھ سے زیادہ ہوں گے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ مجھے تم سے کام ہے؟ ‘‘ کہا: ’’ بتائیے! ‘‘ میں نے کہا: ’’ میرے لیے دعا کرو! ‘‘ چنانچہ اُس نے یوں دعا کی: ”
اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو ہر لمحہ گناہوں سے محفوظ رکھے، ایسا غم عطا فرمائے جس میں اُس کی رضا پوشیدہ ہو، اِس کے علاوہ کوئی او ر غم آپ کو نہ ملے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ اب دوبارہ کب ملاقات ہوگی؟ ‘‘ کہا: ’’ دنیا میں مجھ سے ملاقات کی اُمید نہ رکھنا اور آخرت میں مجھ سے ملنا چاہو تو اَحکَامِ خداوندی بجا لانا، جن اُمور سے اُس نے بچنے کا حکم دیا ہے اُن سے ہمیشہ بچنا ، آخرت پرہیز گاروں کے جمع ہونے کی جگہ ہے ، میں وہاں اُن لوگوں میں ملوں گا جو دیدارِ الٰہی میں مشغول ہوں گے۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ تمہیں یہ کیسے معلوم ہواکہ تمہیں یہ مقام حاصل ہوگا؟ ‘‘ کہا: ’’ اِس ‏لیے کہ میں ممنوعاتِ شرعِیَّہ سے بچتا ہوں اور میں دُعا کرتا ہوں کہ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے جنت میں اپنے دیدار کی دولتِ عُظمیٰ سے سرفراز فرمانا۔ ‘‘ اتناکہنے کے بعد اُس نوجوان نے چیخ ماری اور میری نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔مدنی گلدستہ’’ یاغوثِ اَعْظَم ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ دعا تعلیمِ اُمَّت کےلیے ہے ورنہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک گناہ کی رَسائی نہیں بلکہ سب گناہ گاروں کی بخشش آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ہوگی ۔
(2) مسلمان کی سب سے قیمتی شے اُس کااِیمان ہے ۔لہٰذا ہر وقت اپنے ایمان کے بارے میں متفکر رہنے کے ساتھ ساتھ اِیمان وہدایت پر اِستقامت کی دعا ضرور کرتے رہنا چاہیے۔
(3) حقیقی متوکل صرف
اللہ عَزَّ وَجَلَّہی پر بھروسہ کرتا ہے اُس کے غیر کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا۔
(4) ربّ تعالی اور اُس کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے اَسباب اِختیار کرنا توکل ہی ہے۔
(5) اپنے رزق کے بارے میں وسوسوں کا شکارہو کربلا وجہ پریشان وغمگین نہیں ہوناچاہیے، کیونکہ جو رِزق مُقَدَّر میں ہے وہ مل کر رہے گا۔
(6) جو ہم نشین یادِ الٰہی سے دوری کا سبب بنے اُس سے دُور رہنا چاہیے۔
(7) توکل کی دولت اُسے ہی نصیب ہوتی ہے جو مؤمن ہو اور
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم پر کامل یقین رکھتا ہو۔
(8) جو ذکرِ الٰہی کی وادیوں کے مسافرہوں وہ کبھی بھٹکتے نہیں بلکہ منزل خود اُن کی جُسْتْجُو کرتی ہے۔
(9) دیدارِ الٰہی کی نعمتِ عظمیٰ کے متمنی کو چاہیے کہ اَحکامِ خداوندی بجا لائے ، حرام کاموں سے بچے اور دیدارِ الٰہی کی دعا کرتا رہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے، ہماری مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 75