- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- حدیث نمبر 80
باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 80
جلد 2
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَا فُلَانُ! إِذَا أَوَیْتَ إِلَی فِرَاشِکَ فَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ، فَإِنَّکَ إِنْ مِتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ مِتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَیْرًا. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحَیْنِ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِذَااَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّاَ وُضُوْ ءَکَ لِلصَّلاَۃِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الاَیْمَنِ وَقُلْ:وَذَکَرَنَحْوَہُ، ثُمَّ قَالَ: وَاجْعَلْہُنَّ آخِرَمَا تَقُوْلُ. ( )
عن ابی عمارۃالبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہما قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یا فلان! إذا أویت إلی فراشک فقل: اللہم أسلمت نفسی إلیک، ووجہت وجہی إلیک، وفوضت أمری إلیک، وألجأت ظہری إلیک، رغبۃ ورہبۃ إلیک، لاملجأ ولامنجا منک إلا إلیک، آمنت بکتابک الذی أنزلت، وبنبیک الذی أرسلت، فإنک إن مت من لیلتک مت علی الفطرۃ، وإن أصبحت أصبت خیرا. ( )
وفی روایۃ فی الصحیحین عن البراء قال: قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذااتیت مضجعک فتوضا وضو ءک للصلاۃ، ثم اضطجع علی شقک الایمن وقل:وذکرنحوہ، ثم قال: واجعلہن آخرما تقول. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَاابو عُمارہ براء بن عازبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہماسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے فلاں !جب تو اپنے بستر پرجائے تو یہ کلمات کہہ لیا کر: ’’اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ، وَأَ لْجَأْتُ ظَھْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَ بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَیعنییااللہ! میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا اورمیں تیری طرف متوجہ ہوا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیااورتیری رحمت کا سہارا لیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ، پناہ گاہ اور موضعِ نجات صرف تیری ہی طرف ہے۔میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔ ‘‘ (آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:) ’’ اگر تو اِسی رات فوت ہوگیاتو اسلام پرفوت ہوگا اور اگر صبح پائے گا توبہت بھلائی حاصل کرے گا۔ ‘‘
صحیحین کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنَا براءرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا: ’’ جب بستر پر جاؤ تو نمازکا سا وضو کرو، پھر اپنے سیدھے پہلو پر لیٹ جاؤ اور یہ کلمات کہو۔ ‘‘ اس کے بعد پہلی حدیث جیسے کلمات بیان کیے اور پھر فرمایاکہ ’’ انہیں اپنے آخری کلمات بناؤ ۔ ‘‘ (یعنی ان کلمات کے بعد کوئی اور بات نہ کرو۔)
شرح حدیث
تمام اُمور میںاللہ عَزَّوَجَلَّپر بھروسہ کرنا:دلیل الفالحین میںعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا۔یعنی میں نے تیرا حکم مانتے ہوئے تیری رضا پر راضی رہتے ہوئے تیری قدرت پر قناعت کرتے ہوئے خود کوتیرا فرمانبردار بنایا۔ اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا یعنی تجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے دُنیوی اُخروی تمام اُمور تیرے سپرد کیے اور اپنے نفس کو تیری طرف رجوع کرنے والا بنایا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ میں نے تیری رحمت کا سہارا لیا۔یعنی میں نے تجھ پر توکل کیا اور اپنے معاملات میں تجھ پر بھروسہ کیا جیسے انسان اپنی کمر کے ساتھ کسی چیز سے ٹیک لگاتاہے۔رَغْبَۃًیعنی تیرے ثواب میں رغبت کرتے ہوئے۔رَھْبَۃًیعنی تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ ‘‘ ( )
¥سونے کی تین سنتیں :علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں تین اہم سنن مستحبہ بیان ہوئی ہیں : (۱) سونے سے قبل وضوکرنا۔اگر پہلے سے وضو ہے تو وہی کافی ہے کیونکہ مقصود طہارت کی حالت میں سونا ہے۔تاکہ اپنے خوابوں میں سچا ہو اورنیند کی حالت میں شیطان کے شر سے محفوظ رہے اور اگر اس رات موت آئے تو اچھی حالت میں آئے۔ (۲) دائیں پہلو پر سونا کیونکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرح سونے کوپسند فرماتے تھے اور اس طرح سونے والے کے لیے جاگنا آسان ہوتا ہے۔ (۳) سونے سے پہلےذِکرُ اللہکرناتاکہذِکراللہہی آخری عمل ہو۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانالفاظِ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ (حدیثِ مذکورمیں ) نفس سے مراد ذات یا جان ہے اوروَجْہٌسے مراد
چہرہ یا توجہّ یا دل کا رُ خ یا ان دونوں جملوں میں اپنے ظاہر و باطن کی طرف اشارہ ہے یعنی الٰہی !میر ا باطن بھی تیرا مُطِیْع ہے کہ اس میں ریا (شرک) سرکشی نہیں اور میرا ظاہر بھی تیرا فرمانبردار کہ میرا کوئی عضو باغی نہیں ، غرضیکہ میرا اپنا کچھ نہیں ، سب کچھ تیرا ہے۔ سوتے وقت یہ کلمات اس لیے عرض کیے تاکہ معلوم ہو کہ میرا سونا بھی تیرے حکم کے ماتحت ہے۔ (تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے) لہٰذا مجھے اندرونی و بیرونی آفات سے بچالے اور میری مَعاش و مَعاد اچھی کر دے۔ چونکہ بیداری میں انسان کچھ ذمہ دار ہوتا ہے اور بااِختیار، مگر سوجانے پر سب کچھ کھو بیٹھتا ہے۔ اسی لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت ہی موزوں ہے۔ نیز سوتے وقت یہ خبر نہیں ہوتی کہ اب سویرے کو اٹھوں گا یا قیامت میں ، اس لیے یہ کہہ کر سونا بہتر ہے کہ خدایا !اب سب کچھ تیرے سپرد۔ (پناہ گاہ اور موضعِ نجات صرف تیری ہی طرف ہے) یعنی تیرے غضب سے پناہ صرف تیری رحمت کے دامن میں ہی مل سکتی ہے اور تیری پکڑ سے رہائی صرف توہی دے سکتا ہے۔تیرے غضب کی آگ کو صرف تیری رحمت ہی کا پانی بجھاسکتا ہے، اگر تو عدل کرے تو اُونچے اُونچے کانپ جائیں اگر فضل فرمائے تو گنہگاروں کی بھی امید بندھ جائے۔اس حدیث میں وعدہ فرمایا گیا کہ سوتے وقت (یہ کلمات) پڑھنے والااِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّایمان پر مرے گا، اسلام و تقویٰ پر جیئے گا، بڑی ہی مجرب دعا ہے۔ فقیربِفَضْلِہِ تَعَالٰیاس پر عامل ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ کرم ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)باوضو سونے والا شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔
(2) نیک لوگ ہرمعاملے میں شریعت کی پیروی کرتے ہیں حتی کہ سوتے وقت بھی سنن ومستحبات کی ادائیگی کا خیال کرتے ہیں ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب سے صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہی بچاسکتی ہےاس لیے اس کی رحمت کا سوال کرنا چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ہر آن اپنی رحمت کے سائے میں رکھے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 80