Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 80

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَا فُلَانُ! إِذَا أَوَیْتَ إِلَی فِرَاشِکَ فَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ، فَإِنَّکَ إِنْ مِتَّ مِنْ لَیْلَتِکَ مِتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَیْرًا. ( )
وَفِیْ رِوَایَۃٍ فِی الصَّحِیْحَیْنِ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم: اِذَااَتَیْتَ مَضْجَعَکَ فَتَوَضَّاَ وُضُوْ ءَکَ لِلصَّلاَۃِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الاَیْمَنِ وَقُلْ:وَذَکَرَنَحْوَہُ، ثُمَّ قَالَ: وَاجْعَلْہُنَّ آخِرَمَا تَقُوْلُ. ( )

عن ابی عمارۃالبراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہما قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یا فلان! إذا أویت إلی فراشک فقل: اللہم أسلمت نفسی إلیک، ووجہت وجہی إلیک، وفوضت أمری إلیک، وألجأت ظہری إلیک، رغبۃ ورہبۃ إلیک، لاملجأ ولامنجا منک إلا إلیک، آمنت بکتابک الذی أنزلت، وبنبیک الذی أرسلت، فإنک إن مت من لیلتک مت علی الفطرۃ، وإن أصبحت أصبت خیرا. ( )
وفی روایۃ فی الصحیحین عن البراء قال: قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذااتیت مضجعک فتوضا وضو ءک للصلاۃ، ثم اضطجع علی شقک الایمن وقل:وذکرنحوہ، ثم قال: واجعلہن آخرما تقول. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو عُمارہ براء بن عازبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہماسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اے فلاں !جب تو اپنے بستر پرجائے تو یہ کلمات کہہ لیا کر: ’’اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِیْ إِلَیْکَ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ إِلَیْکَ، وَأَ لْجَأْتُ ظَھْرِیْ إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً إِلَیْکَ، لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَ بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَیعنییااللہ! میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا اورمیں تیری طرف متوجہ ہوا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کیااورتیری رحمت کا سہارا لیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ، پناہ گاہ اور موضعِ نجات صرف تیری ہی طرف ہے۔میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا۔ ‘‘ (آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:) ’’ اگر تو اِسی رات فوت ہوگیاتو اسلام پرفوت ہوگا اور اگر صبح پائے گا توبہت بھلائی حاصل کرے گا۔ ‘‘
صحیحین کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنَا براء
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا: ’’ جب بستر پر جاؤ تو نمازکا سا وضو کرو، پھر اپنے سیدھے پہلو پر لیٹ جاؤ اور یہ کلمات کہو۔ ‘‘ اس کے بعد پہلی حدیث جیسے کلمات بیان کیے اور پھر فرمایاکہ ’’ انہیں اپنے آخری کلمات بناؤ ۔ ‘‘ (یعنی ان کلمات کے بعد کوئی اور بات نہ کرو۔)

شرح حدیث

تمام اُمور میںاللہ عَزَّوَجَلَّپر بھروسہ کرنا:دلیل الفالحین میںعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ میں نے اپنا آپ تیرے حوالے کیا۔یعنی میں نے تیرا حکم مانتے ہوئے تیری رضا پر راضی رہتے ہوئے تیری قدرت پر قناعت کرتے ہوئے خود کوتیرا فرمانبردار بنایا۔ اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا یعنی تجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے دُنیوی اُخروی تمام اُمور تیرے سپرد کیے اور اپنے نفس کو تیری طرف رجوع کرنے والا بنایا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ میں نے تیری رحمت کا سہارا لیا۔یعنی میں نے تجھ پر توکل کیا اور اپنے معاملات میں تجھ پر بھروسہ کیا جیسے انسان اپنی کمر کے ساتھ کسی چیز سے ٹیک لگاتاہے۔رَغْبَۃًیعنی تیرے ثواب میں رغبت کرتے ہوئے۔رَھْبَۃًیعنی تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ ‘‘ ( )
¥
سونے کی تین سنتیں :علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں تین اہم سنن مستحبہ بیان ہوئی ہیں : (۱) سونے سے قبل وضوکرنا۔اگر پہلے سے وضو ہے تو وہی کافی ہے کیونکہ مقصود طہارت کی حالت میں سونا ہے۔تاکہ اپنے خوابوں میں سچا ہو اورنیند کی حالت میں شیطان کے شر سے محفوظ رہے اور اگر اس رات موت آئے تو اچھی حالت میں آئے۔ (۲) دائیں پہلو پر سونا کیونکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرح سونے کوپسند فرماتے تھے اور اس طرح سونے والے کے ‏لیے جاگنا آسان ہوتا ہے۔ (۳) سونے سے پہلےذِکرُ اللہکرناتاکہذِکراللہہی آخری عمل ہو۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانالفاظِ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ (حدیثِ مذکورمیں ) نفس سے مراد ذات یا جان ہے اوروَجْہٌسے مراد
چہرہ یا توجہّ یا دل کا رُ خ یا ان دونوں جملوں میں اپنے ظاہر و باطن کی طرف اشارہ ہے یعنی الٰہی !میر ا باطن بھی تیرا مُطِیْع ہے کہ اس میں ریا (شرک) سرکشی نہیں اور میرا ظاہر بھی تیرا فرمانبردار کہ میرا کوئی عضو باغی نہیں ، غرضیکہ میرا اپنا کچھ نہیں ، سب کچھ تیرا ہے۔ سوتے وقت یہ کلمات اس لیے عرض کیے تاکہ معلوم ہو کہ میرا سونا بھی تیرے حکم کے ماتحت ہے۔ (تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے) لہٰذا مجھے اندرونی و بیرونی آفات سے بچالے اور میری مَعاش و مَعاد اچھی کر دے۔ چونکہ بیداری میں انسان کچھ ذمہ دار ہوتا ہے اور بااِختیار، مگر سوجانے پر سب کچھ کھو بیٹھتا ہے۔ اسی ‏لیے اس موقعہ پر یہ دعا بہت ہی موزوں ہے۔ نیز سوتے وقت یہ خبر نہیں ہوتی کہ اب سویرے کو اٹھوں گا یا قیامت میں ، اس ‏لیے یہ کہہ کر سونا بہتر ہے کہ خدایا !اب سب کچھ تیرے سپرد۔ (پناہ گاہ اور موضعِ نجات صرف تیری ہی طرف ہے) یعنی تیرے غضب سے پناہ صرف تیری رحمت کے دامن میں ہی مل سکتی ہے اور تیری پکڑ سے رہائی صرف توہی دے سکتا ہے۔تیرے غضب کی آگ کو صرف تیری رحمت ہی کا پانی بجھاسکتا ہے، اگر تو عدل کرے تو اُونچے اُونچے کانپ جائیں اگر فضل فرمائے تو گنہگاروں کی بھی امید بندھ جائے۔اس حدیث میں وعدہ فرمایا گیا کہ سوتے وقت (یہ کلمات) پڑھنے والا
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّایمان پر مرے گا، اسلام و تقویٰ پر جیئے گا، بڑی ہی مجرب دعا ہے۔ فقیربِفَضْلِہِ تَعَالٰیاس پر عامل ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ کرم ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
باوضو سونے والا شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔
(2) نیک لوگ ہرمعاملے میں شریعت کی پیروی کرتے ہیں حتی کہ سوتے وقت بھی سنن ومستحبات کی ادائیگی کا خیال کرتے ہیں ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب سے صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہی بچاسکتی ہےاس ‏لیے اس کی رحمت کا سوال کرنا چاہیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ہر آن اپنی رحمت کے سائے میں رکھے ہماری بے حساب مغفرت فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 80