Main Icon

باب :یقین اور توکل کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 77

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَقْوَامٌ اَفْئِدَتُہُمْ مِثْلُ اَفْئِدَۃِ الطَّیْرِ. ( )

عن ابی ہریرۃرضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یدخل الجنۃ اقوام افئدتہم مثل افئدۃ الطیر. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث مذکور میں اُن لوگوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح نرم و کمزور ہوں گے، جس طرح رزق کے معاملے میں پرندے اپنے پروَردگار پر توکل کرتے ہیں ایسا ہی توکل ان لوگوں کا ہوگا ۔جس طرح پرندوں کے دلوں میں حسد ، بغض ، کینہ وغیرہ نہیں ہوتا اس طرح اُن نیک بختوں کے دل بھی اِن صفاتِ مذمومہ سے پاک ہوں گے۔چنانچہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ نرمی و کمزوری میں اُن کے دل پرندوں کی مثل ہوں گے جیساکہ ایک حدیث پاک میں ہے کہ اہلِ یمن کے دل نرم اور کمزور ہیں ۔ ایک توجیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ان لوگوں کے دل خوف اور ڈر میں پرندوں کے دلوں کی طرح ہیں کہ پرندے باقی تمام جانوروں کے مقابلے میں زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں ۔ (اسی طرح اُن لوگوں کے دلوں پر بھی خوفِ خدا کا غلبہ رہتا ہے اوروہ اُس کی ہیبت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ۔) جیسا کہ فرمانِ باریتعالٰیہے: )اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-( (پ۲۲، فاطر:۲۸)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہسے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ جنتیوں کو نرم و رحم دل اورمخلص ہونے اور حسد، کینہ، خیانت، بغض سے خالی ہونے میں پرندوں سے تشبیہ دی۔اور ایک قول یہ ہے کہ توکل میں تشبیہ دی جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں مروی ہے: اگر تماللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایسا توکل کرو جیسا کہ توکل کرنے کا حق ہے تو وہ ضرور تمہیں رزق دے گا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر آتے ہیں ۔ ‘‘ ( )پرندوں کی چند خوبیاں :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ چڑیوں کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے۔مالک سے مانوس ہوتے ہیں ، اَغنیا سے متنفر کہ غیر کو دیکھا اور بھا گے۔ دلوں میں ڈر بہت زیادہ، کینہ بغض اُن کے پاس نہیں ۔ جس اِنسان میں یہ صفات پیدا ہو جا ویں وہ تو فر شتہ بن جاوے ۔ ‘‘ ( )
¥
توکل بہترین چیز ہے:حضرتِ سَیِّدُناعبد اللہبن سلامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکابیان ہے کہ مجھ سے حضرت سَیِّدُنَاسلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ آؤ عہد کریں کہ ہم میں سے جس کا وصال پہلے ہوا وہ خواب میں آکر اپنا حال بتائے گا۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ کیا ایسا ہوسکتاہے؟ ‘‘ فرمایا : ’’ ہاں ! مؤمن کی روح آزاد رہتی ہے ۔ روئے زمین میں جہاں چاہے جاسکتی ہے، اور کافر کی روح قید میں ہوتی ہے۔ ‘‘ پھرحضرت سلمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا وصال ہو گیا۔ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن سلامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک دن میں دو پہر کے وقت اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ میری آنکھ لگ گئی، اچانک آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیرے سامنے آئے اوربلند آوازسے سلام کیا۔میں نے سلام کاجواب دیااورپوچھا: ’’ وصال کے بعد آپ پر کیا گزری اورآپ کو کیا مرتبہ ملا؟ ‘‘ فرمایا: ’’ میں بہت اچھی حالت میں ہوں اورآپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرنا کیونکہ توکل بہترین چیز ہے۔ ‘‘ ( )اور یہ تین بار ارشاد فرمایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔آمینمدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اُمَّتیوں کو کبھی جنت کی بشارت سناکر کبھی جہنم کے عذابات بتا کر آخرت کی تیاری اور اَعمالِ صالحہ کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔
(2) متوکلین اور نرم دل لوگوں کے ‏لیے جنت کی خوشخبری ہے۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندوں کو اتنی قوت عطا فرماتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی لوگوں کی رہنمائی کرتے اور آخرت کے اَحوال بتاتے ہیں ۔
(4) بعد ِوصال مؤمنوں کی اَرواح آزاد ہوتی ہیں جہاں چاہیں جا سکتی ہیں ۔
(5) باطنی اَمراض مثلاً حسد، بغض وکینہ وغیرہ سے پاک رہنے والے قلوب قابلِ تعریف ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اَعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے، دونوں جہاں میں عافیت عطا فرمائے، ہماری بے حساب مغفرت فرمائے، جنت میں مصطفےٰ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پڑوس میں جگہ عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 77