- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- حدیث نمبر 76
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَیْضًا قَالَ:حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، قَالَہَا اِبْرَاہِیْمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ حِیْنَ اُلْقِیَ فِی النَّارِ، وَ قَالَہَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ قَالُوْا: اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ اِیْمَانًا وَّقَالُوْا:حَسْبُنَااللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ. وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:کَانَ آخِرَ قَوْلِ اِبْراہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ حِیْنَ أُلْقِیَ فِی النَّارِ:حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ.( )
عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ایضا قال:حسبنااللہ ونعم الوکیل، قالہا ابراہیم علیہ السلام حین القی فی النار، و قالہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حین قالوا: ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوہم فزادہم ایمانا وقالوا:حسبنااللہ ونعم الوکیل. وفی روایۃ لہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال:کان آخر قول ابراہیم علیہ السلام حین ألقی فی النار:حسبی اللہ ونعم الوکیل.( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاہی سے مروی ہے، فرماتے ہیں :جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے یہ کلمات کہے:”حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی ا چھا کارساز ہے۔ ‘‘ اور حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی یہی کلمات کہے جب کفار نے (مسلمانوں سے) کہا کہ (کفار) تمہارے خلاف جمع ہوئے ہیں پس اُن سے ڈرو!تو (یہ سن کر) اُن کے اِیمان بڑھ گئے اور انہوں نے بھی یہی کہا کہ: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘ اور ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا ا بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کے آخری الفاظ یہ تھے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّمجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
تفسیر روح البیان میں ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکومِنْجَنِیْقمیں رکھ کر آتش نمرودمیں ڈالا جانے لگا تو آپ کے پاس ’’ ہوا ‘‘ کے فرشتے نے حاضر ہو کر عرض کی : ’’ اگر آپ چاہیں تومیں آگ کو ہوا میں اُڑا دوں ۔ ‘‘ پھر پانی کے فرشتے نے عرض کی: ’’ اگر آپ چاہیں تو میں یہ آگ بجھا دوں ۔ ‘‘ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ مجھے تمہاری اِس خدمت کی ضرورت نہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارسازہے۔ ‘‘ فرشتے بڑھے اور انہوں نے اُسمِنْجَنِیْقکو پکڑ لیا (جس پر ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکو مقید کیا گیا) تھا ۔ چنانچہ کفارمِنْجَنِیْقکو نہ اٹھا سکے ۔ ابلیس لعین نے اُن سے کہا: ’’ اگر اِسے اٹھانا چاہتے ہو تو ننگے سروں والی دس عورتیںمِنْجَنِیْقکے قریب لے آؤ ۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو فرشتے وہاں سے چلے گئے۔پھرجب سَیِّدُنَاابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے کہا:”لَااِلٰہَ اِلَّااَنْتَ سُبْحَانَکَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمُلْکُ لَاشَرِیْکَ لَکَ“ (یعنی اے ربُّ العالمین تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے، تمام تعریفیں تیری ہی لیے ہیں ، اور تیرے ہی لیے بادشاہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ۔) اتنے میں جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے حاضر ہوکر عرض کی: ’’ کوئی حاجت ہو تو حکم فرمائیے۔ ‘‘ سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ مجھے تم سے کوئی حاجت نہیں ۔ ‘‘ جبریل امین نے عرض کی: ’’ اچھا جس سے حاجت ہے اس سے تو عرض کیجئے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ میری حاجت کو خوب جانتا ہے۔ ‘‘ پساللہ عَزَّ وَجَلَّنے آگ کو حکم فرمایا:قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ (۶۹)(پ۱۷، الانبیاء:۶۹)ترجمۂ کنزالایمان: اے آگ ہوجا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔
پساللہ عَزَّ وَجَلَّکا حکم ملتے ہی آگ کی جلانے کی تاثیر اور گرمی بالکل ختم ہوگئی ، وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی اور اس میں صرف روشنی اور چمک باقی رہ گئی۔ ‘‘ ( )صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یقین وتوکل:مُفَسِّرِشہیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانتفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانایسے شاندار مؤمن ہیں اور ایسی آن والے متوکل ہیں کہ اُن سے کفار ِمکہ کے ایجنٹوں نے کہا: تم بدرِ صغریٰ میں بااِر ادۂ جہاد ہر گز نہ جاؤ کیونکہ اُنہوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بہت سازو سامان والے بے شمار لشکر جمع کررکھے ہیں ، تمہارا وہاں جانا گویا موت کے منہ میں جانا ہے ، اُن سے ڈرو اور خوف کرو، مفت کیوں جانیں گنواتے ہو؟ تو اِس کلام کو سن کر اُن مقبولوں کے دلوں میں بجائے خوف و ڈر پیدا ہونے کے اور زیادہ کمالِ ایمان پیدا ہوگیا، اُن کا ایمان و توکل بڑھ گیا، بے ساختہ بول اٹھے کہ کوئی مضائقہ نہیں ، ہمیں کفار کی یلغار سے کوئی ڈر نہیں ، اُن کے مقابلہ میں ہمیںاللہکافی و افی ہے، ہمارا تو وہی کارساز ہے، جس کا کارساز ایسا شاندار ہو اُسے کیا پرواہ۔ چنانچہ وہ حضرات بے دھڑک روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچے تو میدان خالی پایا، مزے سے وہاں رہے، بدر صغریٰ کے پاس ہی میلے میں تجارتیں کیں ، خوب کمائی کی اور لوٹے تو اِس طرح کہاللہ تعالٰیکی نعمت یعنی تجارتی نفع اوراللہ تعالٰیکے فضل یعنی اُخروی ثواب سے اُن کے دامن بھرے ہوئے تھے۔ اُنہیں اِس سارے سفر میں تکلیف پہنچنا تو کیا معنیٰ کسی معمولی خراش نے چھوا بھی نہیں اور مزید مہربانی یہ ہوئی کہ یہ حضرات اِس سفر کے سارے حالات میں رضائے الٰہی کے تابع رہے کہ اُن کے ہر حال ، ہر جنبش سے ربّتعالٰیراضی ہوا،اللہ تعالٰیبڑے ہی فضل و کرم والا ہے، اے جماعت صحابہ کی مقبول جماعت! یہ شیطان ہے جو تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، یا مدینہ منورہ میں جو شیطان کے دوست یعنی منافقین ہیں اُنہیں ڈراتا ہے، تم اُ ن سے کیوں ڈرو؟ خیال رکھنا کہ اِن شیاطین اور اِن کے دوستوں سے کبھی نہ ڈرنا، ہمیشہ مجھ سے ہی ڈرنا، اگر تم سچے مسلمان ہو تو اِس نصیحت پر کار بند رہنا، ایمان کا تقاضا ہے کہ مؤمن کے دل میںاللہ تعالٰیکا خوف ہو ، غیروں کا خوف نہ ہو۔ ‘‘ ( )بڑی مصیبت کا وظیفہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی کوئی بڑی مصیبت آجائے تو یہ وظیفہ ’’حَسْبُنَااللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل‘‘ پڑھ لیجئے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّربّ تعالی کی مددونصرت اور اَمان حاصل ہوگی۔چنانچہ تفسیرروح المعانی میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جب تم کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو تو یہ پڑھو:حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔ ‘‘ اُمُّ الْمُؤمنینحضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بہت زیادہ غمگین ہوتے تو اپنے سراقدس اور داڑھی مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرتے اور گہرا سانس لے کر فرماتے:”حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔“حضرت سَیِّدُنَاشَدَّاد بن اَوسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا: ”حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلہر خوف زدہ کی امان ہے۔ ‘‘ ( )صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ جو کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو اور وہ چار سو پچاس 450بار”حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل“ پڑھے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے اُس مصیبت سے نجات عطا فرمائے گا ۔ ‘‘ بعض لوگ روزانہ اتنی بار پڑھتے ہیں ، مگر حق یہ ہے کہ ایک بار پڑھنا بھیاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکافی ہوگا۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایکمُسَلَّمَہحقیقت ہے کہ جو اَحکامِ خداوندی کی پابندی کرتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّاُسے پریشانیوں سے نجات عطا فرماتا ہے اور اُسے ایسے اَسباب مہیا فرماتا ہے کہ جن کے بارے میں وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں توکل ویقینِ کامل کی دولت سے مالامال فرمائے۔آمینمدنی گلدستہ
’’ یاغَوث ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)جواللہ عَزَّ وَجَلَّپر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔
(2) انبیاء کرامعَلَیْھِمُ السَّلَامتوکل کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہوتے ہیں ۔
(3) مَصائب وآلام سے خلاصی کے لیےحَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلبہترین وظیفہ ہے۔
(4) کامل ایمان والے کبھی بھی باطل قوتوں سے نہیں ڈرتے، اُن کے دلوں میں صرف اور صرفاللہ عَزَّوَجَلَّکا خوف ہوتا ہے۔
(5) حق کے مقابلے میں باطل چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو آخر کاربَرباد و رُسوا ہوتا ہے، جیت ہمیشہ حق ہی کی ہوتی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں یقینِ کامل جیسی عظیم دولت عطا فرمائے، ہماری تمام مشکلات اور مصیبتوں کو دور فرمائے، ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، ایمان کی سلامتی عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 76